
لیوپولڈ کیفے میں چار گولیوں کے نشان آج بھی اسی طرح موجود ہیں
ممبئی کا لیوپولڈ کیفے ملکی غیر ملکی سیاحوں سے بھرا ہے۔ ویٹر سرخ رنگ کی ٹی شرٹ جس پر لیوپولڈ لکھا ہے پہنے تیزی کے ساتھ ہر میز پر کھانا بیئر اور وائن پیش کر رہے ہیں۔ سیاحوں کی اس بھیڑ میں صحافی بھی مائیک، کیمرہ ہاتھ میں لیے کیفے کے ایرانی نژاد مالک فرہانگ جہانی سے انٹرویو کے لیے منتظر۔
اٹھارہ سو اکہتر میں بنا یہ کیفے پہلے بھی غیر ملکیوں کی پسندیدہ جگہ تھا اور بعد میں ناول ' شانتارام ' نے اسے اور بھی مقبول بنا دیا تھا۔ لیکن گزشتہ برس چھبیس نومبر کے شدت پسندانہ حملے نے اس کے بزنس میں چار چاند لگا دیئے۔
کیمرہ مین کے لینس کیفے کی اس جگہ کو اپنے کیمرے میں قید کر رہے ہیں جہاں جدید رائفل اے کے 47 سے نکلی گولیوں نے شیشے پر اپنا نشان چھوڑ دیا ہے۔ کیفے میں چار گولیوں کے نشان آج بھی اسی طرح موجود ہیں۔ ایک سال قبل چھبیس نومبر کو حملہ آور آئے تھے اور انہوں نے سب سے پہلے اسی کیفے میں خون کی ہولی کھیلی تھی۔
فرہانگ کو وہ وقت آج بھی یاد ہے۔ وہ ہر صحافی کے سامنے رٹے رٹائے سبق کی طرح دہراتے ہیں کہ کس طرح دو کم عمر نوجوان کیفے میں آئے۔ ان کے کندھوں پر بیگ تھے اور پھر کچھ ہی دیر بعد انہوں نے کیفے میں بیٹھے لوگوں پر فائرنگ شروع کر دی۔ وہ کیفے کے میزینین فلور پر تھے۔ وہ سب فرش پر لیٹ گئے تاکہ کہیں رائفل سے نکلی گولیاں انہیں بھی نشانہ نہ بنا دیں۔

فرہانگ جہانی کے برعکس ری فریش ہوٹل کے مالک نے وہ تمام شیشے ہی بدلوا دیئے ہیں
سارا کھیل دو منٹ سے کم عرصہ تک چلا اور اس دوران ہر طرف خون اور لاشیں۔ کیفے میں پانچ غیر ملکی اور کیفے کے دو ویٹرز پیر پاشا اور قاضی سمیت گیارہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔
خوفناک یادوں نے آج بھی فرہانگ کا پیچھا نہیں چھوڑا ہے۔ وہ کہتے ہیں ' اب بھی جب کہیں دھماکہ کی آواز سنتا ہوں تو لگتا ہے کہ میں جھٹ سے زمین پر لیٹ جاؤں۔ کہیں پھر کوئی حملہ تو نہیں ہوا'۔
لیکن فرہانگ کے لیے ایک اچھی بات یہ ہوئی کہ اس حملے کے بعد سے ان کا بزنس بہت بڑھ گیا۔ ' اب کیفے میں ملک اور دنیا کے کونے کونے سے سیاح آنے لگے ہیں وہ آتے ہی پورا واقعہ سننا چاہتے ہیں اور ان کے ویٹر خوشدلی کے ساتھ انہیں پورا واقعہ سناتے ہیں۔ سیاح گولیوں کے نشان کے پاس کی میز پر بیٹھ کر تصاویر اترواتے ہیں۔
فرہانگ کہتے ہیں کہ یہ گولیوں کے نشان اب تاریخ کا حصہ ہیں اور ان کا کیفے ہیرٹیج میں شاید شمار ہو۔ وہ ان نشانات کو مٹانا نہیں چاہتے بلکہ انہوں نے تو اس تصویر کو کیفے کی دیوار پر آویزاں کیا ہے اور مختلف پیغامات لکھے کافی کے مگ برائے فروخت ہیں۔ سیاح اپنے ساتھ ممبئی حملہ کی یہ یادگار اپنے ساتھ لےجانا نہیں بھولتے۔ قیمت صرف تین سو اور ساڑھے تین سو روپیہ ہے۔
فرہانگ جہانی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھنا چاہتے انہوں نے خون کے نشانات پر پھول کھلانے کی کوشش کی۔ ان کی جہاندیدہ تاجرانہ نظروں نے اسے کیش بھی کر لیا۔ لیکن وہیں چھترپتی شیواجی ٹرمنس پر واقع ہوٹل ری فریش کے مالک نے اپنی ہوٹل پر موجود سات گولیوں کے نشانات کو ختم کر دیا انہوں نے ہوٹل کی اس کانچ کو ہی تبدیل کر دیا۔ اب وہاں صرف مینجر فونجی ہیں جو اس ایک سال پرانی خونی واردات کے ایک ایک پل کو جی رہے ہیں۔

چھبیس نومبر کے حملے نے کیفے لیوپولڈ کے بزنس میں چار چاند لگا دیئے ہیں
چھترپتی شیواجی ٹرمنل ریلوے سٹیشن پر پولیس کے مطابق اجمل امیر قصاب اور ان کے ساتھی ابو اسماعیل نے حملہ کیا تھا۔ ٹرینوں کا انتظار کر رہے مسافروں پر اندھا دھند فائرنگ کی جس کی وجہ سے منٹوں میں ہی وہاں ہر چہار جانب لاشیں تھیں۔ فونجی کہتے ہیں کہ انہوں نے ہوٹل کی روشنیاں فورا بند کر دی تھیں۔ چہار جانب سناٹا چھا گیا تھا اور ایسے میں ہوٹل میں موجود ایک عورت کی چیخ نے ان کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی اور پھر ان کی ہوٹل پر لگاتار فائرنگ کی وجہ سے شیشے تو ٹوٹے لیکن ایک گولی اندر ہوٹل کی دیوار میں بھی آکر لگی لیکن چونکہ وہ سب زمین پر لیٹے تھے اس لیے کسی کو گولی نہیں لگی۔
فرہانگ جہانی کے برعکس ری فریش ہوٹل کے مالک نے وہ تمام شیشے ہی بدلوا دیے۔ فونجی کے مطابق گولیوں کے نشان مسافروں کے دلوں میں ڈر پیدا کر رہے تھے اس لیے ان کے مالک نے کانچ بدلوا دیے۔ فونجی کہتے ہیں کہ انہیں موت سے ڈر نہیں لگتا وہ کہیں بھی بنا بولے آسکتی ہے البتہ انہیں شکوہ ہے کہ ابھی بھی حکومت نیند سے جاگی نہیں ہے آج بھی سکیورٹی کےنام پر سٹین گن لیے چند سپاہی۔ ’ہاں چھبیس گیارہ کی برسی ہے اس لیے ہلچل بڑھ گئی اور سکیورٹی بھی۔‘
© MMIX