Advertisement
آخری وقت اشاعت:  Tuesday, 17 november, 2009, 02:10 GMT 07:10 PST

رانی آف جھانسی کا خط منظرعام پر

رانی آف جھانسی کو ہندوستان کی جدوجہد آزادی کی ’جان آف آرک‘ بھی کہا جاتا ہے

برطانوی استعمار کے خلاف ہندوستان کی جدوجہد آزادی کی ایک اہم کردار رانی آف جھانسی کا ایک ایسا خط منظر عام پر آیا ہے جو اب تک محققین کی نظروں سے اوجھل رہا۔

یہ خط لکشمی بائی رانی آف جھانسی نے اٹھارہ سو ستاون کی جنگِ آزادی سے کچھ روم پہلے تحریر کیا تھا۔

یہ خط لندن کی برٹش لائبریری میں سرکاری یاداشتوں اور دستاویزات کے ذخیرے میں موجود تھا۔

رانی آف جھانسی کو اکثر ہندوستان کی جدوجہد آزادی کی ’جان آف آرک‘ بھی کہا جاتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس خط کے منظر عام پر آنے کی بہت اہمیت ہے کیونکہ رانی آف جھانسی کی زندگی کے بارے میں بہت کم تاریخی مواد دستیاب ہے۔

لندن کے وکٹوریہ اینڈ البرٹ میوزیم کی مہاراجہ نمائش کی ریسرچ کیوریٹر دیپیکا اہلاوت کا کہنا ہے کہ یہ خط ان دستاویزات کا حصہ ہے جنہیں باؤرنگ کولیکشن کے نام سے جانا جاتا ہے۔

’کولیکشن کا نام انڈیا میں کام کرنے والے سول سرونٹ لیوِن بینتھم باؤرنگ کے نام پر رکھا گیا ہے جنہوں نے مہاراجوں سے متعلق دستاویزات، تصاویر اور عمومی دلچسپی کے دیگر مواد کا اہم ذخیرہ اکٹھا کیا تھا۔‘

یہ خط رانی آف جھانسی نے ایسٹ انڈیا کمپنی کے گورنر جنرل لارڈ ڈلہوزی کو لکھا تھا۔ اس خط میں انہوں نے اس رات کے واقعات درج کیے ہیں جس رات کو ان کے شوہر کا انتقال ہوا تھا۔

دیپیکا اہلاوت کے مطابق ایسٹ انڈیا کمپنی کی طرف سے لاگو کردہ حق کے سوخت ہونے کے نظریے کے تحت جس ریاست کا حاکم کسی وارث کے بغیر مر جائے یا بدانتظامی کے جرم کا مرتکب ہواس کی ریاست کمپنی کا علاقہ تصور ہوتی تھی۔

اس نظریے کے خطرے کو محسوس کرتے ہوئے رانی آف جھانسی نے لارڈ ڈلہوزی سے کہا تھا کہ مرنے سے پہلے ان کے شوہر نے ایک وارث کو گود لیا تھا اور اس مقصد کے لیے تمام ضروری رسومات ادا کی گئی تھیں تاکہ دمودر راؤ گنگ دھر کو اگلا راجہ آف جھانسی تسلیم کر لیا جائے۔

لیکن لارڈ ڈلہوزی نے دمودر راؤ گنگ دھر کو راجہ کا جائز وارث ماننے سے انکار کر دیا تھا اور جھانسی پر قبضہ کرنے کی دھمکی دی تھی۔

سن اٹھارہ سو ستاون میں رانی نے برطانوی راج کے خلاف بغاوت میں شمولیت اختیار کی تھی اور خود ذاتی طور پر میدانِ جنگ میں اپنے دستے کی قیادت کی تھی۔ ایک مرحلے پر ایسٹ انڈیا کمپنی کی فوج نے انہیں گرفتار کر لیا تھا لیکن بعد میں وہ اس قلعے سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئی تھیں جہاں انہیں رکھا گیا تھا۔

’اس سب نے انہیں ایک ہر دلعزیز تاریخی شخصیت بنا دیا تھا۔ کچھ روایتوں کے مطابق وہ میدان جنگ میں برطانوی فوج سے لڑتے ہوئے ہلاک ہوئی تھیں جبکہ ایک روایت یہ بھی ہے انہیں اس وقت گولی کا نشانہ بنایا گیا تھا جب وہ گوالیار کے قلعے میں مورچہ بند تھیں۔‘

دیپیکا اہلاوت کے مطابق اس میں حقیقت کچھ بھی ہو لیکن جب اٹھارہ سو ستاون کی جنگ آزادی کی تاریخ لِکھی گئی تو ایک خاتون رہنما کے اپنی ریاست کے لیے ایسٹ انڈیا کمپنی کی فوج کے خلاف جنگ کے واقعے نے قوم پرستی کے جذبات کو مزید ہوا دی۔

’یہ خط انڈیا کی قوم پرستی کی تاریخ کا حصہ ہے اور اسے ایک ایسے طلسماتی شخصیت نے تحریر کیا ہے جس کے شاہسواری کرتے مجسمے ملک کے طول و عرض میں دیکھے جا سکتے ہیں۔‘

بی بی سی کو جانیں

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔