
اس کچھوے کی پشت پر بھگوان جگناتھ نما شبیہ ہے اس لیے اس کی پوجا کی جاتی ہے
ہندوستان کی ریاست اڑیسہ میں پولیس نے کچھوئے کو غیر قانونی طور پر رکھنے والے ایک ایک سادھو کے خلاف قانونی کارروائی کی ہے۔ مذکورہ سادھو نے اس کچھوے کو خدا مان کر اپنے پاس رکھ رکھا تھا۔
تازہ پانی میں رہنے والے اس کچھوے کی پیٹھ پر قدرتی طور پر ایسے نشانات موجود ہیں جو ایک ہندو دیوی سے مماثلت رکھتے ہیں۔
اڑیسہ میں بھگوان جگناتھ سب سے مقبول ترین دیوتا تصور کیے جاتے ہیں اور عقیدت مندوں کے مطابق اس کچھوے پر اسی دیوتا کی شبیہ پائی جاتی ہے اسی لیے اسے جاگا کے نام سے جانا موسوم کیا گيا ہے۔
بھارت میں ایسے کچھوؤں کا شمار ایسے جانوروں کی فہرست میں ہوتا ہے جنہیں گھر میں پالنا یا رکھنا منع ہے۔
ڈیوژنل فاریسٹ آفیسر پرسنّا کمار نے بی بی سی کوبتایا کہ جب سادھو اور گاؤں کے لوگوں نے کچھوے کو آزاد کرنے سے منع کردیا تب ان کے خلاف کیس درج کیا گیا ہے۔’ہم نے لوگوں کو اس بات کے لیے قائل کرنے کی بہت کوشش کی کہ اس میں دیوتاؤں جیسی کوئی بات نہیں ہے لیکن انہوں نے ہماری ایک نہ سنی۔ تفتیش ہورہی ہے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی ہوگي‘۔

اڑیسہ میں بھگوان جگن ناتھ سب سے مقبول دیوتا ہیں
مقامی اہلکاروں نے کچھوے کو آزاد کرانے کی کافی کوششیں کیں اور جب وہ ناکام ہوگئے تو ان کے خلاف کیس درج کیا گیاہے۔ گاؤں والوں کا کہنا ہے کہ اس کچھوے سے علاقے میں خوشحالی آئے گي۔
یہ کچھوا رمیش پاترا کو کیندر پارہ کی ایک ندی میں ملا تھا اور تب وہ مندر سے متصل ایک پانی کے ٹینک میں رکھا ہوا ہے۔
بعض ماہرین کے مطابق اس نسل کے کچھوؤں پر ابتداء میں ایسے نشانات پائے جاتے ہیں اور پھر جیسے جیسے وہ بڑے ہوتے ہیں نشانات مٹ جاتے ہیں۔
لیکن علاقے کے لوگ اسے بھگوان جگناتھ کی شبیہ سمجھ کر اس کی پوجا کرتے ہیں اور آس پاس کے سینکڑوں لوگ خیر و برکت کے لیے اس کچھوے کی پوجا کرنے آتے ہیں۔
© MMIX