
اترپردیش کے فیروز آباد پارلیمانی حلقے میں سماجوادی پارٹی کی شکست کے بعد سیاسی صورتحال کافی دلچسپ ہوتی جارہی ہے۔ یہاں سے سماجوادی پارٹی کی خوبصورت ’بہو‘ ڈمپل یادو ( جو پارٹی سربراہ ملائم سنگھ کے بیٹے اور جانشین اکھیلیش یادو کی اہلیہ ہیں) میدان میں تھیں۔
وہ ضمنی انتخابات میں سابق فلم سٹار اور کانگریس کے امیدوار راج ببر سے ہار کیا گئیں، اکھیلیش نے راہل گاندھی کے خلاف اعلان جنگ کر دیا۔ اکھیلیش کی ناراضگی اس بات پر ہے کہ راہل نے راج ببر کے لیے جم کر انتخابی مہم میں حصہ لیا حالانکہ اب تک بڑے لیڈر عام طور پر ایک دوسرے کے حلقووں میں جانے سے بچتے تھے۔
بہرحال، فی الحال لگتا نہیں کہ یہ جنگ زیادہ شدت پکڑے گی۔ اور اس کی عکاسی ہندو اخبار نے اپنے ایک کارٹون میں کی ہے جس میں ملائم سنگھ اپنے انتخابی نشان ’سائیکل' پر بیٹھے ہیں لیکن ایک پہیا راج ببر نکال کر لے جارہے ہیں اور دوسرا وزیر اعلیٰ مایاوتی!

مدھو کوڑا ریاست جھار کھنڈ کے وزیراعلی رہ چکے ہیں
جھاڑکھنڈ کے سابق وزیر اعلیٰ مدھو کوڑا آجکل کافی سرخیوں میں ہیں۔ وہ سیدھے سادے قبائیلی رہنما ہیں جنہیں غربت کی وجہ سے تعلیم بیچ میں ہی چھوڑنا پڑی۔ نوے کے عشرے تک وہ ایک کان میں مزدوری کرتے تھے لیکن لوگ کہتے ہیں کہ بعد میں تھوڑا بدل گئے۔ اب انہیں تقریباً چار ہزار کروڑ روپے کے اثاثے غیر قانونی طور پر حاصل کرنے کے الزامات کا سامنا ہے! لیکن یہ سب تو آپ پڑھ ہی چکے ہوں گے، نئی بات سامنے یہ آرہی ہے کہ ان کے ایک مبینہ ساتھی نے چند مہینوں کے اندر چھ سو چالیس کروڑ روپے ممبئی کے ایک بینک میں نقد جمع کرائے تھے!
وقت بدل گیا ہے لیکن قبائیلی رہنماؤں کا بینکوں پر بھروسہ نہیں بدلا۔ سنہ انیس سو اکیانوے میں وزیر اعظم نرسمہا راؤ کی حکومت کو اعتماد کے ووٹ کا سامنا تھا۔ الزام تھا کہ کانگریس پارٹی نے پچاس پچاس لاکھ روپے دیکر ارکان پارلیمان کی وفاداریاں خریدی تھی۔
بعد میں معلوم ہوا کہ جھاڑکھنڈ کے دو قدآور قبائلی رہنماؤں نے اسی دوران پچاس پچاس لاکھ روپے بینک میں نقد جمع کرائے تھے! اف، یہ سادگی!
ہوسکتا ہے کہ مدھو کوڑا کے خلاف تمام الزامات غلط ثابت ہوجائیں لیکن ان کی تعلیم کی راہ میں اب غربت آڑے نہیں آسکتی!
یہ تصویر کا ایک رخ ہے۔ دوسرا پہلوں اتر پردیش کے ایک سینیر سرکاری افسر نے پیش کیا ہے۔ سرکاری افسر بدعنوانی کے لیے کتنے بدنام ہیں، یہ میں آپکو کیا بتاؤں لیکن اترپردیش کے ایڈشنل کابینہ سیکریٹری وجے شنکر پانڈے نے اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ ایک نظیر قائم کرتے ہوئے رضاکارانہ طور پر اپنے اثاثوں کا اعلان کیا ہے۔ وہ ملک کے سب سے طاقتور افسروں میں سے ایک ہیں لیکن ان کے پاس ایک دس سال پرانی فئٹ گاڑی ہے ( میں تو سمجھتا تھا کہ ہندوستان میں فئٹ کار ناپید ہوچکی ہیں)، نقد کےنام پر جیب بالکل خالی، ان کی اہلیہ مصنفہ ہیں جن کے پاس صرف چار ہزار روپے نقد ہیں اور دونوں کے پاس بینک میں کل ایک لاکھ سترہ ہزار روپے ہیں۔
پانڈے صاحب، آپکی سادگی پر بھی ترس آتا ہے۔ آپکی ضروریات کم ہیں یا اخراجات زیادہ؟
© MMIX