Advertisement
آخری وقت اشاعت:  Wednesday, 11 november, 2009, 09:31 GMT 14:31 PST

انتخابی نتائج:’ کانگریس کیلیے اچھی خبر‘

اتر پردیش میں کانگریس کی واپسی کا عمل جاری ہے

ہندوستان کی کئی ریاستوں میں ہونے والے ضمنی انتخابات میں دو حیرت انگیز نتائج سامنے آئے ہیں جن میں سے ایک تو مغربی بنگال میں بائیں بازو کی جماعتوں کا صفایا ہے تو دوسرا اتر پردیش میں سماج وادی پارٹی کے لیڈر ملائم سنگھ یادو کی بہو کی شکست ہے۔

ان دونوں سے ہی یہ عندیہ ملتا ہے کہ ان انتہائی اہم ریاستوں میں سیاست اب کیا سمت اختیار کر رہی ہے اور تجزیہ نگاروں کے مطابق کانگریس کے لیے یہ خبر اچھی ہے۔

حالیہ پارلیمانی انتخابات میں بھی بائیں بازو کی جماعتوں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا تھا اور یہ کہا جا رہا تھا کہ بتیس سال کی مسلسل حکمرانی کے بعد مغربی بنگال میں لیفٹ فرنٹ کے لیے الٹی گنتی شروع ہوگئی ہے۔ ریاستی اسمبلی کی دس سیٹوں کے نتائج سے اس تاثر کو تقویت ملتی ہے۔

ممتا بنرجی نے کانگریس کے ساتھ مل کر ان انتخابات میں حصہ لیا تھا۔ ان کی ترنمول کانگریس نےان ساتوں سیٹوں پر کامیابی حاصل کی جہاں اس نے اپنے امیدوار کھڑے تھے اور مارکسوادی کمیونسٹ پارٹی وہ پانچوں سیٹیں ہار گئی جہاں وہ میدان میں تھی۔

مبصرین کے مطابق سن دو ہزار گیارہ کے اسمبلی انتخابات میں اب کوئی ’معجزہ‘ ہی دنیا کی سب سے پرانی جمہوری طور پر منتخب کمیونسٹ حکومت کو بچا سکتا ہے۔

اگر بائیں بازو کی جماعتیں مغربی بنگال ہار جاتی ہیں تو مرکز کی سیاست میں ان کی اہمیت تقریباً ختم ہو جائے گی اور کانگریس کے لیے ملک کی سیاست پر اسی انداز میں دوبارہ حاوی ہونے کی راہ آسان ہو جائے گی جس طرح وہ اسی کی دہائی تک تھی۔

دوسرا حیرت انگیز نتیجہ اتر پردیش کے فیروز آباد پارلیمانی حلقے میں سامنے آیا ہے جہاں سابق فلم سٹار اور کانگریس کے امیدوار راج ببر نے سماج وادی پارٹی کے سربراہ ملائم سنگھ یادو کی بہو ڈپمل یادہ کو پچاسی ہزار ووٹوں سے شکست دی ہے۔ یہ علاقہ ہمیشہ سے ملائم سنگھ کا گڑھ مانا جاتا ہے اور وہاں یادو برادری کی اکثریت ہے۔

حالیہ پارلیمانی انتخابات میں ملائم سنگھ کے بیٹے اکھیلیش یہاں سے منتخب ہوئے تھے۔ لیکن انہوں نے دو سیٹوں سے چناؤ لڑا تھا اور قنوج کی سیٹ اپنے پاس رکھنے کا فیصلہ کرتے ہوئے فیروز آباد سے استعفٰی دے دیا تھا۔ ضمنی انتخاب میں پارٹی نے ڈمپل کو اپنا امیدوار بنانے کا فیصلہ کیا۔ خیال رہے کہ ملائم سنگھ، ان کے دونوں بھائی شو پال اور رام گوپال، بیٹا اکھیلیش اور ایک بھتیجا پہلے ہی پارلیمنٹ کے رکن ہیں۔

راج ببر پنجابی ہیں اور یادووں کی بھاری آبادی والے اس حلقے سے ان کی کامیابی سے دو نتیجے اخذ کیے جاسکتے ہیں۔ ایک تو یہ کہ سماج وادی پارٹی سے لمبی وابستگی کے بعد مسلمانوں کا کانگریس کے کیمپ میں لوٹنے کا سلسلہ جاری ہے اور دوسرا یہ کہ یادووں اور دیگر پسماندہ طبقات (او بی سی) پر ان کی گرفت کمزور پڑی ہے۔

سماج وادی پارٹی سے لمبی وابستگی کے بعد مسلمانوں کا کانگریس کے کیمپ میں لوٹنے کا سلسلہ جاری ہے

اس کی ایک مثال یہ بھی ہے اتر پردیش کی جن گیارہ سیٹوں کے لیے الیکشن کرایا گیا تھا، ان میں سے نو مایاوتی کی بی ایس پی نے جیتی ہیں جبکہ سماج وادی پارٹی اپنا کھاتہ کھولنے میں ناکام رہی۔ یہاں تک کہ ملائم سنگھ کی روایتی اسمبلی سیٹ اٹاوہ (جو فیروز آباد پارلیمانی حلقہ کا حصہ ہے) سے بھی بی ایس پی کا یادو امیدوار کامیاب ہوا ہے۔

اگرچہ کانگریس نے یوپی میں صرف ایک اسمبلی سیٹ جیتی ہے لیکن یہ کہا جاسکتا ہے کہ ریاست میں اس کی واپسی کا عمل جاری ہے اور اگر حالات اسی ڈگر پر رہے تو دو ہزار گیارہ کے اسمبلی انتخابات میں اصل مقابلہ کانگریس اور بی ایس پی کے درمیان ہوسکتا ہے۔

لیکن شاید سب سے زیادہ فکرمند لیفٹ فرنٹ ہوگا جس کے لیے اب وجود کی لڑائی ہے۔ اگر بائیں بازو کی جماعتیں مغربی بنگال ہار جاتی ہیں تو مرکز کی سیاست میں ان کی اہمیت تقریباً ختم ہو جائے گی اور کانگریس کے لیے ملک کی سیاست پر اسی انداز میں دوبارہ حاوی ہونے کی راہ آسان ہو جائے گی جس طرح وہ اسی کی دہائی تک تھی۔

بی بی سی کو جانیں

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔