Advertisement
آخری وقت اشاعت:  Tuesday, 10 november, 2009, 12:01 GMT 17:01 PST

کشمیر: پولیس پر جنسی زیادتی کا الزام

کشمیر پولیس

کشمیر میں پولیس پر اکثر غیر انسانی سلوک کے الزام لگتے رہے ہیں

بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں مقامی پولیس کو ایک بار پھر سنگین نوعیت کے الزامات کا سامنا ہے۔ چند کم سن طالب علموں نے مقامی پولیس پر الزام عائد کیا ہے کہ انہیں حراست کے دوران ایک دوسرے کے ساتھ بدفعلی کے لیے اکسایا گیا اور بعد اس منظر کی موبائل فون کے ذریعےعکس بندی کی گئی۔

تاہم پولیس حکام ان الزامات کو محکمہ پولیس کو بدنام کرنے کی سازش کا حصہ قرار دہے رہے ہیں۔

منگل کو سرینگر کی ایک عدالت میں فرسٹ ایڈیشنل سیشنز جج اشوک گُپتا نے اس کیس کی سماعت کے دوران حکومت کو دو ہفتوں کے اندر اندر مکمل تحقیقاتی رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔

واضح رہے کہ ستائیس اکتوبر کو پولیس نے پُرانے سرینگر کی کئی بستیوں کے ساتھ تعلق رکھنے والے گیارہ کم سن طلبا کو گرفتار کیا تھا۔ اس روز علیٰحدگی پسندوں کی کال پر وادی میں ہڑتال کی جارہی تھی اور لوگ باسٹھ سال قبل اسی روز وادی میں بھارتی افواج کے داخلہ کی سالگرہ پر احتجاج کررہے تھے۔

اس موقع پر پولیس کئی مقامات سے گرفتاریاں عمل میں لائیں اور پرانے سرینگر کے بعض علاقوں سے بھی چند لڑکے حراست میں لیے گئے تھے جو اٹھارہ سال سے کم عمر کے تھے۔ ان کے خلاف مہاراج گنج پولیس تھانے میں غیر قانونی سرگرمیوں سے متعلق دفعات کے تحت کیس درج کیا گیا ہے۔

عدالت میں کیس دائر ہونے کے بعد پہلی شنوائی کے دوران بعض لڑکوں نے عدالت میں یہ بیان دیا تھا کہ حراست کے دوران پولیس والوں نے انہیں ایک دوسرے کے ساتھ بدفعلی کے لیے اُکسایا۔

الزام عائد کرنے والے طالب علموں کے وکیل بشیر صدیقی نے بتایا ’بچوں نے عدالت کو اپنے جسم پر وہ نشانات اور زخم بھی دکھائے جن سے پتہ چلتا ہے کہ ان کے ساتھ نہایت غیراخلاقی سلوک کیا گیا ہے۔‘

عدالت میں دائر کی گئی درخواست کے مطابق ان بچوں کے ساتھ وہی سلوک کیا گیا ہے جوعراق کی ابوغریب جیل میں ایک خاتون فوجی افسر نے عراقی قیدیوں کے ساتھ کیا تھا۔

منگل کے روز کیس کی شنوائی کے دوران سرکاری وکیل نے عدالت سے تفتیش مکمل کرنے کے لئے مزید وقت طلب کیا تو عدالت نے پندرہ روز کے اندر اس کیس سے متعلق تحقیقات مکمل کرنے کا حکم دیا۔

عدات نے بچوں کی طبّی جانچ پر مبنی ایک رپورٹ کو بھی ناکافی قرار دے کر ساتوں طالب علموں کی طبی جانچ کے احکامات دیے اور سوال اُٹھایا کہ اس رپورٹ میں بچوں کے پوشیدہ اعضا پر لگے زخموں سے متعلق کوئی رائے کیوں درج نہیں تھی۔ عدالت نے شری مہاراجہ ہری سنگھ ہسپتال کے نگراں ڈاکڑ وسیم قریشی کو بھی اگلی سماعت پر ذاتی طور عدالت میں طلب کیا ہے، تاکہ ان سے پوچھا جائے کہ طبی جانچ کی رپورٹ میں الجھاؤ کیوں تھا۔

انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی کئی تنظیموں نے اس واقعہ پر پولیس پر تنقید کی ہے۔ تاہم کشمیر پولیس کے انسپکٹر جنرل فاروق احمد نے بی بی سی کو بتایا ’پولیس کو بدنام کرنے کی سازشیں کی جارہی ہیں۔ لیکن ہم اس واقعہ کی محکمانہ سطح پر بھی جانچ کے احکامات دیے ہیں۔ ایس ایس پی سرینگر کو ہم نے جانچ افسر مقرر کیا ہے۔ اگر کوئی قصوروار پایا گیا تو اسی ضابطہ کے مطابق سزا دی جائے گی۔‘

قابل ذکر ہے کہ جموں کشمیر پولیس پچھلے کئی سال سے الزامات کے گھیرے میں ہے۔ چند سال قبل جب کشمیر کے مختلف علاقوں سے بے نام قبریں دریافت ہوئیں تو یہ ثابت ہوا کہ پولیس نے ترقیوں اور اعزازات کے لیے بے قصور افراد کو فرضی جھڑپوں میں قتل کرکے انہیں غیر ملکی شدت پسند جتلایا تھا۔

اس پر پولیس نے اپنے ایک سینئر افسر سمیت کئی اہلکاروں کو گرفتار کرلیا تھا۔ پچھلے سال عوامی احتجاج کے دوران پولیس پر زیادتیوں کے الزامات عائد ہوئے اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے نہتے مظاہرین پر پولیس فائرنگ کی سحت مذمت کی۔ شوپیاں قتل اور ریپ کیس کے سلسلے میں بھی مقامی پولیس کو ہی الزامات کا سامنا ہے، تاہم یہ الزامات ابھی ثابت نہیں ہوپائے ہیں۔

بی بی سی کو جانیں

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔