Advertisement
آخری وقت اشاعت:  Monday, 9 november, 2009, 08:20 GMT 13:20 PST

آسام: الفا کی جانب سے ہڑتال کا اعلان

الفا  باغی کی فائل فوٹو

ہڑتال کا اعلان الفا کے دو اعلی لیڈروں کی رہائی کے مطالبے میں کیا گیا ہے۔

ہندوستان کی شمالی مشرقی ریاست آسام میں علیحدگی پسند تنظيم الفا نے 12 گھنٹے کی ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔ ہڑتال کی وجہہ سے عام زندگی متاثر ہوئی ہے۔

ہڑتال کی وجہ سے پبلک ٹرانسپورٹ، بازار اور دوکانیں بند ہیں اور تعلیمی اداروں میں حاضری نہ ہونے کی برابر رہی ہے۔ سرکاری دفاتر کھلے ہیں۔ ان کے علاوہ ریلوے اور ہوائی سروسز بھی معمول کے مطابق کام کر رہی ہیں۔

الفا کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس ہڑتال کا اعلان اپنے دو اعلیٰ لیڈروں کے اغواء کے خلاف کیا ہے۔ الفا نے ایک پریس ریلز میں کہا ہے کہ ’ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے لیڈروں کو میڈیا کے سامنے پیش کر کے رہا کیا جائے۔‘

الفا کے دو لیڈر جنہیں اغواء کیا گیا ہے ان میں الفا کے ’سیکریٹری خزانہ‘ چترابون ہزاریکا اور ’خارجہ سیکریٹری‘ ساسادھار چودھری شامل ہیں۔ ان دو لیڈروں کو گزشتہ ہفتے ڈھاکہ میں بنگلہ دیش کی پولیس نے پکڑا تھا اور بعد میں انڈین بورڈر سیکورٹی فورسز کے حوالے کردیا تھا۔

دونوں لیڈروں کو سنیچر کو گوہاٹی کی ایک عدالت میں پیش کیا گیا تھا جہاں سے انہیں دس دن کے لیے پولیس حراست میں بھیج دیا گیا ہے۔

آسام کے ایک سینئر پولیس اہلکار بھاسکر جیوتی ماہنتا کا کہنا ہے ’الفا کافی کمزور پڑ گئی ہے لیکن انہیں ہم کوئی موقع نہیں دینا چاہتے۔‘

ہڑتال کے دوران کوئی ناخوشگوار واقعہ نہ ہو اس کے لیے بڑی تعداد میں پولیس اور نیم فوجی دستوں کو تعینات کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ حال ہی میں علیحدگی پسند تنظيم نے ایک ای میل کے ذریعے کہا تھا کہ وہ حکومت کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہیں لیکن ان سے ہتھیار چھوڑنے کے لیے نہ کہا جائے۔ الفا کے اس بیان کے بعد ہی ڈھاکہ میں اس کے دو لیڈروں کو گرفتار کیا گیا تھا۔

بی بی سی کو جانیں

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔