
ہندوستانی حکومت ماؤنواز باغیوں کے خلاف ایک بڑے آپریشن کا منصوبہ بنارہی ہے۔
ہندوستان کے داخلہ سیکریٹری جی کے پلے کا کہنا ہے کہ ہندوستانی ماؤنواز باغیوں اور چین کے درمیان براہ راست رابطہ نہیں ہے لیکن ماؤنواز باغی جو ہتھیار استمعال کرتے ہیں انکی کڑی چین سے جڑی ہوسکتی ہے۔
صحافیوں کی تنظیم سیفما کی جانب سے منعقد کی گئی ایک کانفرنس میں جی کے پلے نے کہا ' چین کا ماؤنواز باغیوں سے رابطہ صرف اسلحہ سپلائی تک ہوسکتا ہے۔'
مسٹر پلے کا کہنا تھا کہ حکومت نے واضح کردیا ہے ماؤنواز باغی اگر تشدد چھوڑ دیتے ہیں تو مذاکرات کیے جاسکتے ہیں وہ چاہیں تو اپنے ہتھیار اپنے پاس رکھ سکتے ہیں۔
انکا کہنا تھا علیحدگی پسند اور شدت پسند تبھی بات چیت کے لیے تیار ہوتے ہیں جب ان پر دباؤ پڑتا ہے۔
مسٹر پلے نے الزام لگایا کہ ماؤنواز باغی پولیس کا روپ بدل کر عوام کو مار رہے ہیں۔ .
انکا یہ بھیی کہنا تھا کہ حکومت نکسلیوں کے خلاف کوئی جنگ شروع نہیں کرنے جارہی ہے اور حکومت کے نکسلی مخالف آپریشن کو ' گرین ہنٹ' کا نام میڈیا کی کرتوت ہے۔
واضح رہے کہ ہندوستان کی حکومت نے کہا ہے کہ وہ نکسلیوں کے خلاف ایک بڑے آپریشن کا منصوبہ بنارہی ہے۔.
انکا یہ بھی کہنا تھا کہ اس آپریشن کے دوران 65000 پیراملٹری فوجیوں کو تعینات کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ واضخ رہے کہ حال ہی میں وزیر داخلہ پی چدامبرم نے کہا تھا کہ اس آپریشن کے دوران 65000 فوجیوں کی تعیناتی ہوگی۔
حکومت نے ماؤنواز باغیوں سے کہا ہے کہ اگر وہ ہتھیار چھوڑ دیں تو وہ بات چیت کے لیے تیار ہے۔ لیکن فی الحال ماؤنواز باغیوں نے حکومت کی پیش کش کو قبول نہیں کیا ہے اور نہ ہی انسانی حقوق کی تنظیمیں حکومت کی نعیت پر یقین کررہی ہیں۔
© MMIX