Advertisement
آخری وقت اشاعت:  Sunday, 8 november, 2009, 07:52 GMT 12:52 PST

دلائی لامہ کا دورہ، چین کی مخالفت

دلائی لامہ

چین ہندوستان پر یہ دباؤ ڈالتا رہا ہے کہ وہ دلائی لامہ کو توانگ نہ آنے دیں۔

تبت کے روحانی پیشواء دلائی لامہ نے چین کی جانب سے سخت اعتراض کے باوجود اتوار کو ہندوستان کی شمال مشرقی ریاست اروناچل پردیش میں توانگ مانسٹری کا دورہ شروع کردیا ہے۔

اتوار کی صبح جب وہ توانگ پہنچے تو ہزاروں کی تعداد میں لوگ انکا خیر مقدم کرنے کے لیے موجود تھے۔

توانگ میں 400 سال پرانی تبتی مانسٹری اور دلائی لامہ یہاں سے منسلک رہے ہیں۔ انیس سو انسٹھ میں دلائی لامہ نے جب تبت سے بھاگ کر ہندوستان میں پناہ لی تھی تو وہ تب سے پہلے اروناچل پردیش آئے تھے اور توانگ میں پہلا قیام کیا تھا۔ان کی سرپرستی میں انیس سو ساٹھ سے تبت کی ایک جلا وطن حکومت ہندوستان کی شمالی ریاست ہماچل پردیش میں قائم ہے۔

چین اروناچل پردیش کے بیش تر حصوں پر اپنا دعویٰ پیش کرتا ہے اور ہمیشہ سے ہندوستان پر اس بات کے لیے دباؤ ڈالتا رہا ہے کہ دلائی لامہ کو توانگ جانے کی اجازت نہ دی جائے۔ دلائی لاما کی ہندوستان میں موجودگی ہند چین تعلقات کی استواری میں ایک بڑی اڑچن رہی ہے۔

چند ہفتے قبل چین نے وزیر اعظم من موہن سنگھ کے اروناچل پردیش جانے پر بھی سخت اعتراض کیا تھا جس کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان کئی مہینوں سے جاری لفظوں کی جنگ میں مزید شدت پیدا ہوگئی تھی۔

چین کا ہمشیہ سے یہ الزام رہا ہے کہ وہ تبت کی آزادی کے لیے کوشاں ہیں۔ لیکن دلائی لامہ اس سے انکار کرتے ہیں اور ان کا دعوی ہے کہ ان کی سرگرمیاں مذہب کے دائرے تک محدود ہیں۔

دلائی لامہ، جنہیں امن کے لیے نوبیل انعام سے نوازا جاچکا ہے، ایک ہفتے تک اروناچل پردیش میں رہیں گے اور ان کے مطابق اس دورے کا مقصد لیکچرز دینا ہے۔

توانگ کی آبادی صرف پینتس ہزار ہے۔ یہاں کی مانسٹری تبتیوں کے لیے خاص اہمیت کی حامل ہے کیونکہ یہ چھٹے دلائی لامہ کی جائے پیدائش ہے اور اسی راستے سے موجودہ دلائی لامہ ہندوستان آئے تھے۔

وہ اب سے پہلے چھ مرتبہ پہلے بھی اروناچل پردیش جاچکے ہیں۔ توانگ سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق دلائی لامہ کے استقبال کے لیے بڑے پیمانے پر تیاریاں کی گئی ہیں اور سکیورٹی کے انتظامات سخت تر کر دیے گئِے ہیں۔

مبصرین کے مطابق اگرچہ ہندوستان یہ دعوی کرتا ہے کہ دلائی لامہ کو سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی لیکن اس کے باجود انہیں توانگ جانے کی اجازت دیکر وہ چین کو یہ پیغام بھی دینا چاہتا ہے کہ اروناچل پردیش اس کا ’اٹوٹ’ حصہ ہے۔

ہندوستان اور چین کے درمیان سرحدی تنازع نے انیس سو باسٹھ میں ایک مختصر لیکن خونریز جنگ کی شکل اختیار کی تھی۔

بی بی سی کو جانیں

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔