Advertisement
آخری وقت اشاعت:  Friday, 6 november, 2009, 09:19 GMT 14:19 PST

کشمیر: ہند نواز رہنما دلّی سے ناراض

فاروق عبداللہ

نئی دلّی کو اپنا رویہ بدلنا ہوگا:فاروق عبداللہ

کشمیر کے ہند نواز رہنماؤں نے بھارتی حکومت پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومتِ ہند کو کشمیریوں کے تئیں اپنا رویہ تبدیل کرنا ہو گا۔

وزیراعظم منموہن سنگھ کی کابینہ میں وزیر اور کشمیری رہنما فاروق عبداللہ نے بھارتی حکومت ہند کو خبردار کیا ہے کہ وہ کشمیری مسلمانوں کو دہشت گرد نہ سمجھے۔

جمعرات کو منعقدہ ایک تقریب میں بھارت اور دوسرے ملکوں کے سفارت کاروں سے خطاب کے دوران فاروق عبداللہ نے کہا کہ ’ہم مسلمان ہیں، دہشت گرد نہیں۔ ہم بھکاری نہیں ہیں، ہم کشمیری ہیں۔ نئی دلّی کو اپنا رویہ بدلنا ہوگا‘۔ انہوں نے سروسز ٹیم کی طرف سے رانجی ٹرافی مقابلوں کے لیے کشمیر آنے سے انکار پر بھی شدید ناراضگی کا اظہار کیا۔

ادھر بھارت کے وزیرداخلہ رہ چکے کشمیری رہنما مفتی محمد سعید نے بھی حکومت ہند کو خبردار کیا ہے کہ وہ کشمیریوں کی عزّت نفس اور غیرت کو مجروح نہ کرے۔ شمالی کشمیر کے ہندوارہ قصبہ میں ایک عوامی ریلی سے خطاب کے دوران مفتی سعید کا کہنا تھا کہ ’ کشمیریوں کی عزّت نفس پر دلّی سے حملے کیے جارہے ہیں۔ پری پیڈ سِم کارڈ پر پابندی اور فوجی جرنیلوں کا یہ کہنا کہ پرامن مظاہرے دراصل احتجاجی دہشت گردی ہے، اس کا ثبوت ہے۔ میں حکومت ہند سے کہتا ہوں کہ ہماری غیرت اور عزّت نفس کو ٹھیس نہ پہنچائے۔ ہم اپنے حقوق کی بحالی کے لیے احتجاجی مہم چھیڑیں گے‘۔

مفتی سعید نے یہاں تک کہا کہ اگر کشمیر میں نہتے اور پرامن مظاہرین کو دہشت گرد قرار دیا جا رہا ہے تو پھر مہاتما گاندھی کی تحریک بھی دہشت گردی کے زمرے میں آتی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بھارت کشمیر کے معاملے میں دوہرے معیار کا مظاہرہ کررہا ہے۔

کشمیریوں کی عزّت نفس پر دلّی سے حملے کیے جارہے ہیں۔ پری پیڈ سِم کارڈ پر پابندی اور فوجی جرنیلوں کا یہ کہنا کہ پرامن مظاہرے دراصل احتجاجی دہشت گردی ہے، اس کا ثبوت ہے۔

مفتی سعید

ان کا کہنا تھا کہ’شمال مشرقی ریاستوں اور دوسری جگہوں پر تو بہت زیادہ تشدد ہورہا ہے، لیکن پابندیاں صرف کشمیریوں پر عائد ہوتی ہیں۔ یہ روِش حالات میں مزید بگاڑ کا سبب بن سکتی ہے۔ بھارت ایک جمہوری ملک ہے، لیکن جموں کشمیر اس کے جمہوری دعووں کی امتحان گاہ ہے‘۔

اسی تقریب سے خطاب کے دوران پی ڈی پی کی صدر محبوبہ مفتی نے کہا کہ بھارت نے کشمیریوں پر کبھی بھی بھروسہ نہیں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس بداعتمادی کے رجحان سے کشمیریوں اور حکومت ہند کے درمیان مزید دُوریاں پیدا ہورہی ہیں۔ اس سے قبل سرینگر میں ایک تقریب سے خطاب کے دوران پی ڈی پی کے لیڈر طارق حمید نے حکومت ہند پر الزام عائد کیا کہ وہ جموں کشمیر کے حوالے سے ’بددیانت سفارتکاری‘ کی مرتکب ہو رہی ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ ہفتے جب وزیراعظم منموہن سنگھ جنوبی کشمیر میں ریلوے لائن کا افتتاح کررہے تھے، تو ان کی موجودگی میں کشمیر کے وزیراعلیٰ عمرعبداللہ نے یہ کہا تھا کہ ’کسی بھی نوعیت کی تعمیر و ترقی یا اقتصادی پیکج مسئلہ کشمیر کا حل نہیں ہے‘۔ انہوں نے کہا تھا کہ’ کشمیریوں نے بندق نوکریوں یا مالی مرعات کے لیے نہیں بلکہ مسئلہ کشمیر حل کرنے کے لئے اُٹھائی تھی‘۔

پچھلی ڈیڑھ دہائی کے دوران یہ پہلا موقع ہے کہ مقامی سیاسی جماعتوں کے سبھی ہند نواز لیڈر اس قدر سخت لہجے میں نئی دلّی سے مخاطب ہو رہے ہیں اور مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ ہند نواز رہنماؤں کی اپنی ساکھ بہتر بنانے کی ایک کوشش ہے۔

بی بی سی کو جانیں

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔