Advertisement
آخری وقت اشاعت:  Tuesday, 3 november, 2009, 12:13 GMT 17:13 PST

مہاراشٹر: کانگریس ، این سی پی میں رسہ کشی

کانگریس این سی پی کا انخابی نشان

کانگریس کو اس الیکشن میں بیاسی اور این سی پی کو باسٹھ سیٹیں ملی ہیں لیکن این سی پی بضد ہے کہ کانگریس پچاس فیصد کا فارمولا اپنائے۔

مہاراشٹر میں اسمبلی انتخابات کے نتائج کے بارہ دنوں بعد بھی حکومت قائم نہیں ہو سکی ہے کیونکہ کانگریس اور اس کی اتحادی سیاسی جماعت نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے درمیان قلمدانوں کی تقسیم پر رسہ کشی جاری ہے۔

مہاراشٹر کےاس سیاسی بحران کو ختم کرنے کے لیے ریاست کے گورنر ایس سی جامیر نے کانگریس اور این سی پی کے اعلیٰ رہنماؤں کو منگل کو گورنر ہاؤس طلب کیا تھا۔ ذرائع کے مطابق گورنر سے ملاقات کے بعد دونوں پارٹیوں کے اعلیٰ لیڈران دہلی کے لیے روانہ ہو گئے ہیں۔

کانگریس کو اس الیکشن میں بیاسی اور این سی پی کو باسٹھ سیٹیں ملی ہیں لیکن این سی پی بضد ہے کہ کانگریس پچاس فیصد کا فارمولا اپنائے۔ کانگریس ریاستی وزارت داخلہ ، مالیات اور توانائی کا قلمدان اپنے پاس رکھنا چاہتی ہے کیونکہ یہ تینوں محکمے اس سے قبل انہی کے پاس تھے لیکن کانگریس اب ان تینوں کی دعویدار ہے ۔ ان کے مطابق ان کے ممبران اسمبلی کی تعداد زیادہ ہے۔

این سی پی کے اعلیٰ لیڈران کانگریس کے اس جواز کو قبول نہیں کر رہے ہیں ان کا کہنا ہے کہ اگر داخلہ کا قلمدان کانگریس کے پاس ہو گا تو پھر کانگریس وزیراعلی کی کرسی چھوڑ دے۔ نتائج کے فوراً بعد ہی یہ اعلان کیا گیا تھا کہ کانگریس کے سابق وزیراعلی اشوک چوان وزیراعلیٰ ہوں گے اور این سی پی چھگن بھجبل نائب وزیراعلیٰ کا عہدہ سنبھالیں گے۔

کانگریس پر دباؤ ڈالنے کے لیے شردپوار کے بھتیجے اجیت پوار نے چند دن قبل بیان دیا تھا کہ شیوسینا اور بھارتیہ جنتا پارٹی نے انہیں کہا تھا کہ اگر این سی پی ان کے ساتھ سمجھوتہ کرتی ہے تو وہ انہیں وزیراعلیٰ بنانے کے لیے تیار ہیں۔ اس بیان کے بعد جس کی این سی پی صدر شردپوار نے تردید کی تھی کانگریس ایک قدم پیچھے ہٹ کر مالیات کےمحکمہ کو چھوڑنے پر تیار ہو گئی تھی۔

کانگریس داخلہ اور مالیات کے قلمدان اپنے پاس رکھنا چاہتی ہے اس کے جواز میں کانگریس کے ایک لیڈر کا کہنا تھا کہ این سی پی نے ماضی میں کئی غلطیاں کی تھیں جس کا خمیازہ ان کی پارٹی کو اس الیکشن میں بھگتنا پڑا اور ایسے کئی مقامات پر انہیں اسی وجہ سے اپنی سیٹ سےہاتھ بھی دھونا پڑا ہے۔ دوسری جانب این سی پی کا دعوی ہے کہ کانگریس کو اس الیکشن میں سینتالیس فیصد جبکہ انہیں ترپن فیصد عوام کے ووٹ ملے ہیں اس لیے ان کی پوزیشن کانگریس کے مقابلے زیادہ بہتر ہے۔

بہر حال ریاست میں ابھی بھی سیاسی تعطل برقرار ہے۔ دونوں پارٹیوں کے اعلی لیڈران دہلی میں سونیا گاندھی اور شردپوار سے گفتگو کے بعد شاید کسی حتمی نتیجے پر پہنچ سکیں ورنہ اپوزیشن نے ریاست میں صدر راج کا مطالبہ کیا ہے۔

بی بی سی کو جانیں

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔