
شدت پسندوں کے پاس اسلحہ تھا لیکن وہ اس کا استعمال نہ کر سکے
ہندوستان کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر میں پولیس کا کہنا ہے کہ ایک ریچھ نے ایک غار میں چھپے دو شدت پسندوں پر حملہ کر کے انہیں جان سے مار دیا ہے۔
پولیس کے مطابق دو شدت پسند غار سے زندہ نکلنے میں کامیاب ہو گئے۔ یہ واقعہ سری نگر کے جنوب میں کلگام ضلع میں پیش آیا ہے۔
پولیس کے مطابق شدت پسندوں کے پاس اے کے 46 رائفلز تھیں لیکن ریچھ کے اچانک حملے سے وہ بوکھلا گئے اور اپنا اسلحہ استعمال نہ کر سکے۔
پولیس نے غار سے شدت پسندوں کا کھانا برآمد کیا ہے جو انہوں نے ریچھ کے حملے سے پہلے اپنے لیے پکایا تھا۔
کشمیر میں1989 میں علیحدگی پسند تحریک کے شروع ہونے کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ اس طرح کا واقعہ پیش آیا ہو۔
ہلاک ہونے والے شدت پسندوں کی شناخت محمد امین عرف قیصر اور بشیر احمد عرف سیف اللہ کے طور پر ہوئی ہے۔ حادثے کی خبر اس وقت عام ہوئی جب حملے کے بعد دو شدت پسند زخمی حالت میں علاج کے لیے قریب کے گاؤں پہنچے ۔ اس کے بعد پولیس اور فوج جائے وقوع پر پہنچی اور شدت پسندوں کی لاشوں کو قبضے میں لیا۔
جنگلاتی امور کے ماہرین کا ماننا ہے کہ کشمیر میں جاری شورش کے سبب عام لوگوں کو اپنا اسلحہ پولیس کے حوالے کرنا پڑتا ہے جس کی وجہ سے وہ شکار نہیں کر پاتے اور اس کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ وہاں ریچھ اور چیتوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔
جانوروں کی تعداد میں اضافے کی وجہ سے انسانوں پر جانوروں کی جانب سے حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔
© MMIX