
علیٰحدگی پسند گروپوں کے ایک دھڑے کی سربراہی سخت گیر مؤقف رکھنے والے اسی سالہ سید علی گیلانی جبکہ دوسرے دھڑے کے چیئرمین میرواعظ عمرفاروق ہیں۔
بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ کی طرف سے تشدد مخالف کشمیری سیاسی گروپوں کو بات چیت کی دعوت کے بعد مذاکرات کے حامی علیٰحدگی پسندوں میں اختلاف پیدا ہوگیا ہے۔
وزیراعظم نے اٹھائیس اکتوبر کو کشمیر دورے کے دوران تمام سیاسی گروپوں ، خاص طور پر تشدد ترک کرنے والے علیٰحدگی پسندوں کو حکومتی سطح پر بات چیت کی دعوت دی تھی۔
اس سے قبل وزیرداخلہ پی چدامبرم نے سری نگر میں ’خاموش مذاکرات‘ کے آغاز کا اعلان کیا تھا۔
واضح رہے کہ علیٰحدگی پسند گروپوں کے فی الوقت دو متوازی دھڑے ہیں۔ ایک دھڑے کی سربراہی سخت گیر مؤقف رکھنے والے اسی سالہ سید علی گیلانی کررہے ہیں، جبکہ دوسرے دھڑے کے چیئرمین میرواعظ عمرفاروق ہیں۔ جبکہ سینئر رہنما اور لبریشن فرنٹ کے سربراہ محمد یٰسین ملک دونوں دھڑوں سے یکساں فاصلہ برقرار رکھا ہوا ہے۔
تاہم انہوں نے منموہن سنگھ کی پیشکش کا یہ کہہ کر خیر مقدم کیا ہے کہ پاکستان اور بھارت کی حکومتوں کو کشمیریوں کی چوتھی نسل کو تباہ ہونے سے بچانا ہوگا۔
اس دوران گیلانی گروپ دوطرفہ بات چیت کی کسی بھی نوعیت کی مخالفت کرتا رہا ہے، جبکہ میرواعظ گروپ نے ’سہ فریقی بات چیت‘ کا ماڈل اپنا کر بھارت اور پاکستان کے ساتھ الگ الگ سطحوں پر مذاکرات کیے ہیں۔ اس طرح دونوں ملکوں کے ساتھ دوطرفہ بات چیت کی گنجائیش پیدا ہوگئی ہے۔
لیکن تازہ صورتحال کا معنی خیز پہلو یہ ہے کہ بات چیت کے حامی اس دھڑے میں بھی نئی دلّی کے ساتھ دوطرفہ مذاکرات کے معاملے پر مختلف نظریات سامنے آرہے ہیں۔
میرواعظ گروپ میں دوطرفہ مذاکرات کی مخالفت کرنے والے حلقوں کی ترجمانی حالیہ دنوں طویل قید کے بعد رہا ہونے والے سینئر رہنما شبیر احمد شاہ کررہے ہیں۔ حریت ذرائع کا کہنا ہے کہ شبیر احمد شاہ کو حریت کانفرنس کی جنرل کونسل کی حمایت حاصل ہے۔ تاہم سینئر رہنما پروفیسر عبدالغنی بٹ مسٹر شاہ کا اعتماد حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔
میں نے کبھی نہیں کہا کہ میں ڈائیلاگ کے خلاف ہوں۔ میں اگر یہ کہتا ہوں کہ مذاکرات سے کچھ حاصل نہیں ہوگا تو میں یہ ذاتی تجربہ کی بنیاد پر کہتا ہوں۔
شبیر شاہ
خفیہ ایجنسیوں کےذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان مذاکراتی کوششوں کو تباہ کرنے کی کوشش کررہا ہے جس کی وجہ سے لیڈروں میں اتفاق نہیں ہو پا رہا ۔ تاہم یہاں کے بعض مبصرین کہتے ہیں کہ بھارت اور پاکستان کی خفیہ ایجنسیاں ان مذاکرات کو اپنے اپنے سیاسی مفادات کی خاطر استعمال کرنا چاہتی ہیں، اسی لئے مؤقفوں میں ٹکراؤ پیدا ہورہا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ شبیر احمد شاہ ماضی میں نئی دلّی کے کئی رابط کاروں کے ساتھ اعلانیہ مذاکرات کرچکے ہیں۔ وہ منموہن سنگھ سمیت بھارت کے تقریباً تمام سابق وزرائے اعظم سے ملاقاتیں بھی کرچکے ہیں۔
اعتدال پسند اور مذاکرات کے حامی سمجھے جانے والے شبیر احمد شاہ آخر ان مذاکرات کے خلاف کیوں ہیں؟ اس سوال کا جواب مسٹر شاہ یوں دیتے ہیں: ’میں نے کبھی نہیں کہا کہ میں بات چیت کے خلاف ہوں۔ میں اگر یہ کہتا ہوں کہ مذاکرات سے کچھ حاصل نہیں ہوگا تو میں یہ ذاتی تجربے کی بنیاد پر کہتا ہوں۔‘ مسٹر شاہ نے اپنے ’تلخ تجربات‘ کی وضاحت کرنے سے انکار کیا اور کہا کہ، ’میں وقت آنے پر سب بتا دوں گا۔‘
حُریّت کانفرنس میں کسی بھی فیصلہ کا اختیار سات رُکنی ایگزیکٹیو کو ہے، لیکن فیصلہ کی توثیق کا اختیار جنرل کونسل کو ہے۔ منگل کو جنرل کونسل کے اجلاس میں سینئیر رہنماؤں کو حریت کارکنوں کے تیزوتند سوالات کا سامنا کرنا پڑا۔ اکثر ممبران کا کہنا ہے کہ کسی بڑی سیاسی رعایت کے بغیر نئی دلّی کے ساتھ مذاکرات سے حریت کا عوام سطح پر اعتبار ختم ہو جائے گا۔
حریت کانفرنس اُنیس سو ترانوے میں اُس وقت وجود میں آئی تھی جب مخلتف شدت پسند گروپوں نے ہتھیار چھوڑ کر ’سیاسی سطح پر جدوجہد‘ کرنے کا اعلان کیا تھا۔
قریب دس سال تک متحد رہنے کے بعد حریت کانفرنس ستمبر دو ہزار تین میں اُسوقت دو حصوں میں بٹ گئی تھی جب اُسوقت کی بی جے پی قیادت والی مخلوط حکومت نے حریت کو مذاکرات کی دعوت دی۔ چنانچہ میرواعظ عمرفاروق اور دوسرے کئی رہنماؤں نے مذاکرات کی حامی بھری تو سید علی گیلانی نے اس کی مخالفت کی۔
بعد ازاں جنرل کونسل کے کئی ممبران نے اُسوقت کے حریت چیئرمین مولانا عباس انصاری کے خلاف عدم اعتماد کا مظاہرہ کیا اور گیلانی کی قیادت میں نئی حریت کا قیام وجود میں آیا۔ تاہم اس تقسیم کے باوجود اعتدال پسند دھڑے نے اُسوقت کے وزیراعظم اٹل بہاری واجپئی اور نائب وزیراعظم لال کرشن آڈوانی کے ساتھ مذاکرات کے دو دور کئے اور بعد ازاں دو ہزار چھ میں وزیراعظم منموہن سنگھ کے ساتھ بھی نئی دلّی میں بات چیت کی۔
مسٹر سنگھ نے حال ہی میں یہ اعلان کیا ہے کہ گزشتہ مذاکرات کے دوران انہوں نے حریت لیڈروں سے کہا تھا کہ وہ کچھ پختہ تجاویز دیں جن پر غور ہوگا، لیکن انہوں نے ابھی تک کوئی تجویز پیش نہیں کی۔
شاید اسی لئے اب کی بار حریت کانفرنس ایجنڈا سازی کے بارے میں سنجیدہ تھی۔ لیکن مذاکرات کے سوال پر اس دھڑے میں اختلاف سے ایجنڈا سازی کا عمل فی الحال رُک گیا ہے۔
© MMIX