
ممبئی حملوں کے کیس کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت میں مبینہ طور پر پاکستان میں بیٹھے لشکر طیبہ کے اراکین اور ممبئی حملوں کے دوران ہوٹل تاج ، ہوٹل ٹرائیڈینٹ اور ناریمان ہاؤس میں موجود شدت پسندوں کے درمیان ہونے والے گفتگو کی سی ڈی پیش کی گئی اور اس گفتگو کےکچھ حصے کو عدالت کے سامنے سنایا بھی گیا۔
سرکاری وکیل اجول نکم نے اس گفتگو کو بطور ثبوت عدالت کے سامنے پیش کیا ہے۔ انسداد دہشت گردی سکواڈ کے انسپکٹر نیوروتی کدم جنہوں نے یہ گفتگو ریکارڈ کی تھی عدالت کے سامنے کہا کہ دہشتگرد پاکستان میں موجود اپنے باس سے ہدایت حاصل کر رہے تھے۔ کدم کے مطابق اس سی ڈی میں چار موبائیل فون سے اڑتالیس گھنٹوں کی گفتگو ریکارڈ کی گئی ہے۔
جو گفتگو عدالت کے سامنے سنی گئی اس میں کہا جا رہا تھا کہ وہ ہوٹل میں وزیر اور وی آئی پی شخصیات کو دیکھیں اور کمروں میں آگ لگانے سے قبل انہیں یرغمال بنا لیں۔
شدت پسندوں کی ریکارڈ کی گئی گفتگو میں ایک مقام پر پوچھا گیا کہ انہوں نے کوبیر جہاز کو کیوں نہیں ڈبویا؟ جواب میں ممبئی سے کہا گیا کہ ان کےپاس وقت نہیں تھا اور انہوں نے ایک جہاز کو اپنی طرف آتےدیکھا اس لیے انہیں لگا کہ کہیں بحریہ کا جہاز ان کا تعاقب تو نہیں کر رہا ہے۔
گفتگو کے دوران ممبئی میں موجود حملہ آوروں کے چند نام سامنے آئے ان میں ابو علی ، ابو عمر اور عبدالرحمن بڑا کے نام لیےگئے اور وہاں سے کوئی وسیع بھائی اور ابوکافا کا نام سنائی دیا۔
گفتگو کے دوران ممبئی میں موجود حملہ آوروں نے کہا کہ اوپر والی منزل پر آگ لگنے سے مسلح فورسز ہیلی کاپٹر کے ذریعہ ان تک پہنچنے میں کامیاب نہیں ہو سکتے۔
اس دوران گفتگو سے انداز لگایا جا سکتا تھا کہ وہ وہاں بیٹھے ٹی وی دیکھ کر یہاں ممبئی میں ہوٹل تاج ، ہوٹل ٹرائیڈینٹ اور ناریمان ہاؤس میں موجود اپنے ساتھیوں کو ہدایت دے رہے تھے۔ تین دنوں تک ہوٹل تاج ٹرائیڈینٹ اور ناریمان ہاؤس پر حملہ آوروں کا قبضہ تھا اور وہ مسلسل مبینہ طور پر پاکستان میں موجود اپنے ساتھیوں سے ہدایت حاصل کر رہے تھے۔
گفتگو سننے سے قبل آج عدالت میں انسداد دہشتگردی عملہ کے ایڈیشنل پولیس کمشنر پرم بیر سنگھ عدالت میں بطور گواہ حاضر ہوئے۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ چھبیس نومبر کی شب دیر رات انہیں ان کے ماتحت پولیس افسر این کدم کا فون آیا اور انہوں نے ان سے چار موبائیل فون کو ٹیپ کرنے کی اجازت طلب کی۔ سنگھ نے عدالت کو بتایا کہ انہیں ان حالات میں اس طرح کی اجازت دینے کا اختیار حاصل ہے اس لیے انہوں نے اجازت دے دی۔
ٹیلی فون پر کی جانے والی یہ گفتگو استغاثہ کے لیے ایک اہم ثبوت ہے۔ اس بنیاد پر سرکاری وکیل اجول نکم یہ ثابت کرنے کی کوشش کریں گے کہ ممبئی پر حملے میں پاکستان میں موجود لشکر طییبہ کا ہاتھ تھا۔
عدالت میں موجود اجمل امیر قصاب نے ایک بار پھر طبیعت ناسازی کی شکایت کی۔ انہوں نے جج سے کہا کہ انہیں متلی اور چکر آ رہے ہیں۔ جج ایم ایل تہیلیانی نے انہیں اپنے بیرک میں جانے کی اجازت دے دی۔ کھانے کے وقفے کے بعد بھی جب قصاب واپس آئے تو سر کو ہاتھوں میں رکھے چپ چاپ بیٹھے رہے۔ اس سے قبل بھی انہیں پیٹ میں تکلیف کی شکایت تھی اور جج نے ان کے علاج کے لیے جیل حکام کو ہدایت دی تھی۔
© MMIX