Advertisement
آخری وقت اشاعت:  Thursday, 29 october, 2009, 12:07 GMT 17:07 PST

مغربی بنگال:حکومتی حامی نشانے پر

فائل فوٹو

بھارت کے بہت سے اضلاع میں ماؤنواز باغی سرگرم ہیں

ہندوستان کی ریاست مغربی بنگال میں ماؤنواز باغیوں نے مبینہ طور پر ریاست کی حکمران مارکسی کمیونسٹ پارٹی کے دو حامیوں کو ہلاک جبکہ دیگر تین کو یرغمال بنا لیا ہے۔

پولیس اہلکاروں کا کہنا ہے کہ مارکسی کمیونسٹ پارٹی کے تین کار کنان رنجیت، گنگادھر پٹرا اور کارتک دیو کو مغربی میدناپور ضلع کے آری مارا علاقے سے نصف رات کے بعد بندوق دکھا کر یرغمال بنایا گیا ہے۔

جمعرات کو قتل کیے گئے دو مارکسی حامیوں تپن مودی اور دلیپ مہتو کے قتل کے لیے بھی ماؤنواز باغیوں کو ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔

دو روز قبل ہی ماؤنواز باغیوں نے مبینہ طور پر اڑیسہ سے دلی جانے والی راجدھانی ایکسپریس ٹرین پر حملہ کر اس کے ڈرائیور کو یرغمال بنا لیا تھا جسے کئی گھنٹوں بعد رہا کیا گيا تھا۔

مارکسی کمیونسٹ پارٹی کا الزام ہے کہ ریلوے کی وفاقی وزیر ممتا بینرجی جو ریاست ميں حزب اختلاف کی جماعت ترینمول کانگریس کی صدر ہیں، ماؤنواز باغیوں کے ساتھ نرم رخ اختیار کیے ہوئے ہیں۔

فائل فوٹو

حالیہ دنوں میں نکسلی حملوں میں تیزی آئی ہے

مارکسی کمیونسٹ پارٹی کے پولٹ بیورو کے رکن سیتارام یچوری کا کہنا ہے ’ماؤنوازوں نے خود یہ تسلیم کیا ہے کہ انہوں نے ٹرین پر حملہ کیا تھا لیکن اس کے باوجود ان کا نام ایف آئی آر میں شامل نہیں کیاگیا ہے۔‘

وہيں جعرات کو ماؤنواز باغی رہنماؤں ميں سے ایک نے یہ قبول کیا ہے کہ ان کی پارٹی کو ملک کے ایک کارپوریٹ ہاؤس سے مسلسل مالی مدد موصول ہوتی رہی ہے۔

حال ہی میں گرفتار کیے گئے ماؤنواز رہنما نرلا روی شرما نے خفیہ اہلکاروں کی جانب سے پوچھ گچھ کے دوران اس بات کا انکشاف کیا ہے۔ روی شرما پیشے سے زرعی سائنسدان ہیں۔

بی بی سی کے پاس کے اس ابتدائی پوچھ گچھ کی ایک کاپی موجود ہے اور امید کی جا رہی ہے کہ پوچھ گچھ میں مزید معلومات موصول ہو سکتی ہے۔

جھارکھنڈ پولیس کے مطابق شرما بہار اور جھارکھنڈ کے اسپیشل ارئیا کمیٹی کے انچارج تھے۔ یہ کمیٹی ماؤنوازوں کے مغربی بیورو کا حصہ ہے۔

پوچھ گچھ کے دوران مسٹر شرما نے کہا ہے کہ ’ کئی بڑی کمپنیاں بہار اور جھارکھنڈ میں ہماری پارٹی کو مالی مدد فراہم کرتی رہی ہیں۔‘

ماؤنواز رہنما نے کئی کپمنیوں کے نام لیے ہیں، لیکن کمپنیوں نے باضابطہ طور پر اس بیان پر کوئی رد عمل ظاہر نہيں کیا ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ ماؤنوازوں کے زیر اثر علاقوں میں تجارت کرنے والی بڑی کمپنیوں کا نام انہیں مالی مدد فراہم کرنے کے سلسلے میں سامنے آيا ہو۔

انیس سو اسّی اور نوے کی دہائی میں تیل اور چائے کی بڑی کمپنیوں پر آسام میں الفاء اور نیشنل ڈیموکریٹک فرنٹ آف بوڈولینڈ جیسی تنظیموں کو مالی مدد فراہم کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔

بی بی سی کو جانیں

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔