
کلرز ٹی وی چینل پر نشر ہونے والےبیشتر ٹی وی سیریلز سماجی موضوعات پر مبنی ہیں۔
کہتے ہیں کہ وقت بدلتا ہے اور اس تبدیلی کی سب سے بہترعکاسی میڈیا کرتا ہے۔ اسی لیے شاید میڈیا کو ’مِرر آف سوشل چینج‘ یعنی سماجی تبدیلی کا آئینہ کہا جاتا ہے۔
ہندوستان جیسے ملک میں 1980 کی دہائی میں ٹی وی کے آنے سے زبردست انقلاب آیا تھا اور سماج کی سچائی کو پیش کرنے اور سمجھنے کا ٹی وی سب سے بہتر میڈیم مانا گیا تھا۔
ایک وقت تھا جب ہندوستان میں صرف ایک ٹی وی چینل ہوا کرتا تھا لیکن اس وقت جس طرح کے ٹی وی سیرلیز ٹی وی پر نشر کیے جاتے تھے وہ سماجی مسائل پر مبنی تھے۔ ان میں سے ’بنیاد‘ ، ’ہم لوگ‘ اور ’گودان‘ ایسے سیریلز تھے جو عوام میں بے حد مقبول تھے۔ ’بنیاد‘ کی کہانی تقسیم ہند کے پس منظر پر مبنی تھا جبکہ ’ ہم لوگ‘ ذات پات کے نظام پر۔
لیکن وقت بدلا اور ہندوستان میں کیبل اور ڈِجٹل ٹی وی نے ناظرین کو سینکڑوں چینلز کا آپشن دے دیا۔ اور یہ وہ وقت تھا جب ٹی وی سیریلز کا سیلاب آیا اور بیشتر ٹی وی سریلز گھریلو کہانیوں پر مبنی تھے جس میں جذبات تھے، ڈرامہ تھا اور ناچ گانا تھا۔ ان سیریلز کو ’مسالا‘ سیریل کا خطاب دیا گیا۔ ان سیریلز میں ’ کہانی گھر گھر کی‘ اور ’ کیونکہ ساس بھی کبھی بہو تھی‘ انتہائی مقبول ہوئے تھے اور ٹی وی سیریلز کی دنیا میں انقلاب لانے کا اعزاز جتندر کی بیٹی اور ان سیریلز کی ہدایت کار ایکتا کپور کو جاتاہے۔ ایکتا کپور نے جہاں ٹی وی سیریلز کو نیا رخ دیا وہاں ان پر اس بات پر زبردست نکتہ چینی کی گئی کہ وہ ایک خاتون ہو کر خواتین کرداروں کو بے انتہا کمزور اور گھریلو خواتین کے طور پر پیش کرتی ہیں۔
لیکن گزشتہ ایک برس میں ہندوستانی ٹی وی سیریلز میں ایک نئی تبدیلی دیکھی گئی ہے اور وہ یہ کہ سیریلز پہلے کی طرح بڑے شہروں کی کہانی، جو کہ اکثر شمالی انڈیا کی تہذیب کے ارد گرد گھومتے تھے، اب بہار، راجستھان اور ہریانہ کے سماج کی عکاسی کرنے لگے اور دوسرا یہ کہ خواتین کے حقوق، کم سنی میں لڑکیوں کی شادی، اور پیدائش سے لڑکیوں کے مار دینے جیسے اشوز پر مبنی ہیں۔
ہندوستان میں اب ٹی وی صرف شہروں نہیں بلکہ چھوٹے قضبوں اور گاؤں تک پہنچ گیا ہے اور وہاں کے ناظرین سے ٹی وی چینلز کو ’ٹی آر پیز‘ ملتی ہيں اس لیے ضروری تھا کہ ان لوگوں کے مسائل کو بھی اٹھایا جائے۔
ساونتھی نائنن
ان دنوں کلر ٹی وی چینلز کے دو سیریلز ’بالیکا ودھو‘ اور ’اس دیس نہ آنا لاڈو‘ بے انتہا شہرت پا رہے ہیں۔ بالیکا ودھو راجستھان میں چائلڈ میرجز یعنی کم سن بچوں کی شادی پر مبنی ہے جب کہ ’اس دیس نہ آنا لاڈو‘ ہریانہ میں لڑکیوں کو پیدائش سے پہلے مار دینے کی کہانی ہے۔
اس کے علاوہ این ڈی ٹی وی امیجن پر جاری سیریل ’جیوتی‘ خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک کی کہانی ہے۔
ٹی وی سریلز کے موضوعات کی اس طرح کی تبدیلی کے بارے میں ٹی وی ناقد اور سرکردہ اخبار ’دا ہندو‘ کی سینیئر صحافی ساونتھی نائنن کا کہنا ہے کہ ’ہندوستان میں اب ٹی وی صرف شہروں نہیں بلکہ چھوٹے قضبوں اور گاؤں تک پہنچ گیا ہے اور وہاں کے ناظرین سے ٹی وی چینلز کو ’ٹی آر پیز‘ ملتی ہيں اس لیے ضروری تھا کہ ان کے مسائل کو بھی اٹھایا جائے۔ دوسری بات یہ کہ لوگ گھریلو ساس بہو کی سیاست والے سیریلز دیکھ دیکھ رہے تھے لیکن اب جب ایک سیریل جیسے کہ بالیکا ودھو جب ہِٹ ہوگیا تو اس طرح کے سیریلز اور بنائے جانے لگے۔‘
ساونتھی نائنن کا یہ بھی کہنا ہے کہ جب ٹی وی کسی سماجی مسئلے کو اٹھاتا ہے تو پھر اس کا اثر سماج پر پڑتا ہے۔ ’اب ان سیریلز کی وجہہ سے لوگوں میں خواتین کے خلاف ہونے والے ظلم، استقاط حمل سے لڑکیوں کو پیدائش سے پہلے مار دینا اور ذات پات کے نظام جیسی بُرائیوں کے بارے میں بیداری پھیل رہی ہے اور اس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ یہ سیریلز زبردست ہِٹ ہو رہے ہیں جس کا مطلب ہے کہ لوگ ان موضوعات پر بات اور غور و فکر کرنا چاہتے ہیں‘۔
وہیں ’ڈئیر سنیما‘ ویب سائٹ چلانے والے بکاس رنجن مشرا کا کہنا کہ ’ کہانیوں کے موضوعات میں تبدیلی نہ صرف ٹی وی بلکہ فلموں میں بھی دیکھی جا رہی ہے۔ اور اس طرح کی فلمیں اور ٹی وی سیریلز مقبول ہو رہے ہیں۔ اس کی سب سے بڑی وجہہ یہ ہے کہ اب عام انسان بھی اپنےاور اپنے مسائل کے بارے میں بات ہوتے ہوئے دیکھ رہا ہے‘۔
میڈیا ناقد سدھیش پچوری کا کہنا ہے کہ اس وقت جس طرح کے سیریلز سٹار پلس یا کلر ٹی وی پر چل رہے ہیں ان کا بنیادی مقصد ملک کے نچلے طبقے میں اپنی پہنچ بنانا ہے۔ لیکن یہ بات صحیح ہے کہ کم از کم اس مقصد کے ساتھ ساتھ وہ ایسے مسائل اٹھا رہے ہیں جو ملک کی سچائی ہے لیکن افسوس کہ میلوڈراما اور سنجیدہ مسائل کو ایک ساتھ لانے کے چکر میں کہانیوں کا اثر کم ہے‘۔
ان کا مزید یہ بھی کہنا ہے کہ ایک طرف جہاں یہ ٹی وی سیریلز سنجيدہ موضوعات پر مبنی ہيں وہیں خواتین کو زیادہ تر کمزور اور روتا ہوا دکھایا جاتا ہے۔ اس کی وجہ ہے ' سیریلز بنانے والے بیشتر مرد ہیں، جن کی پیسہ لگا وہ بھی مرد ہیں اور وہ سچائی کو اپنی نظر سے دیکھتے ہیں‘۔
’بالیکا ودھو‘ اور ’اس دیس نا آنا لاڈو‘ جیسے ٹی وی سیریلز بنانے والوں کا مقصد چاہے بھلے ہی اپنی مارکیٹ وسیع کرنا ہو لیکن ایک بار پھر ہندوستان کے ٹی وی سے امید کی جاسکتی ہے کہ اس پر ناچ گانے، میلو ڈرامہ اور خواتین کے رونے دھونے سے زيادہ بھی کچھ ہوگا اور اس پر اس طرح کی موضوعات پر پروگرامز جاری جو ہندوستان جیسے سماج میں جتنا منظر عام پر لائیں جائیں، اور جتنا ان پر بات کی جائے بھی شائد کم ہے۔
© MMIX