Advertisement
آخری وقت اشاعت:  Monday, 26 october, 2009, 11:11 GMT 16:11 PST

کشمیر: آٹھ ہزار ڈاکڑ ہڑتال پر

کشمیر

ہڑتال کے سبب کئی اموات بھی ہوچکی ہیں۔

بھارت کے زیرانتظام کشمیر کے سرکاری ہسپتالوں میں تعینات ہزاروں جونئیر ڈاکٹر تنخواہوں میں تفاوت کے خلاف پچھلے دو ہفتوں سے ہڑتال پر ہیں۔ ہڑتال کے بعد ہسپتالوں میں طبی سہولات ٹھپ ہوجانے کے باعث کئی اموات بھی ہوئی ہیں۔

اس حوالے سے مذاکرات کے کئی ادوار ناکام ہوجانے کے بعد حکومت نے قریب پچاس ہڑتالی ڈاکٹروں کے خلاف ضابطہ کی کاروائی کی ہے جسکے تحت چھبیس ڈاکٹروں کو معطل کردیا گیا ہے۔ بحران سے نمٹنے کے لیے حکومت نے نئی تقرریوں کا بھی اعلان کردیا ہے۔

لیکن اس اقدام سے بحران مزید پیچیدہ ہوگیا ہے اور اب ہڑتالی ڈاکٹر کہتے ہیں کہ اگر حکومت کا رویہ سخت ہی رہا تو وہ اجتماعی ہجرت کرینگے۔

صوبے کے وزیرخزانہ عبدالرحیم راتھر، جو حکومت کی طرف سے ہڑتالی ڈاکٹروں کے ساتھ مذاکرات کررہے ہیں، نے بی بی سی کو بتایا: ’ہم نے ان ڈاکٹروں کے ساتھ پہلی ہی ملاقات میں یہ طے کیا تھا کہ اکتیس اکتوبر کو حکومت فیصلہ کرلے گی اور وہ تب تک ہڑتال ختم کریں، لیکن انہوں نے ہٹ دھرمی سے کام لیا جسکے ردعمل میں ہمیں سخت اقدام اُٹھانا پڑا۔‘

احتجاج کررہے ڈاکٹروں کی انجمن جوائنٹ ڈاکٹرس ایسوسی ایشن کے ترجمان ڈاکڑ اخلاص نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ صوبے میں قریب آٹھ ہزار جونئیر ڈاکٹروں کو جو تنخواہ دی جارہی ہے اس سے زیادہ سرکاری محکموں کے چپراسی کو دی جاتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ، ’پورے ملک کی طرح ہمیں بھی پے بینڈ تھرڑ میں شامل کیا جانا چاہیئے کیونکہ ہم سینئر ڈاکڑوں سے زیادہ کام کرتے ہیں۔ اور پھر ہم جیسی ہی تعلیم و تربیت والے ڈاکٹروں کو دوسرے ہسپتالوں میں موٹی تنخواہیں دی جاتی ہیں۔ حکومت کو معلوم ہے کہ ہمارا مطالبہ جائز ہے، لیکن وہ مسلہ حل کرنے میں تاخیر کررہی ہے۔‘ تاہم ڈاکڑ اخلاص کا کہنا ہے کہ ڈاکڑوں کو صوبے کے وزیراعلیٰ عمرعبداللہ پر اعتماد ہے اور ’اگر وزیراعلیٰ خود ہمیں یہ یقین دہانی کرائیں کہ ہماری تنخواہوں میں موجود فرق دور کی جائےگی تو ہڑتال ختم ہوجائے گی۔‘

اس دوران ڈاکٹروں کی ہڑتال سے پورے صوبے میں صحت عامہ کا شعبہ متاثر ہوگیا ہے، اور مریضوں کو زبردست مشکلات کا سامنا ہے۔

صوبے میں زچگی اور امراض خواتین سے متعلق سب سے بڑے ہسپتال ’للدید‘ کے حکام کا کہنا ہے کہ ہڑتال کے بعد ہسپتال میں وضع حمل کی شرح میں کمی ہوئی ہے۔ دریں اثنا مختلف ہسپتالوں میں ہڑتال کے دوران اموات کی تعداد پچاس سے تجاوز کرگئی ہے۔ تاہم ہڑتالی ڈاکڑوں کا کہنا ہے کہ حکومت اوسط اموات کو بھی ڈاکڑوں کی ذمہ داری جتلا کر اصل معاملے سے توجہ ہٹا رہی ہے۔

ہڑتالی ڈاکڑوں نے اعلان کیا ہے کہ جب تک وہ حکومت کے ساتھ معاملات طے نہیں کرتے تب تک وہ مریضوں کی خدمت کے لیے وسیع میدانوں اور نجی نرسنگ ہوموں میں عوام کی خدمت کرینگے۔

بی بی سی کو جانیں

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔