
وزیر اعظم نے کہا کہ اس معاملے کو نظر انداز نہيں کیا جا سکتا ہے۔
ہندوستان کے وزير اعظم منموہن سنگھ نے چین کے ساتھ سرحد کے معاملے کو ایک پیچیدہ موضوع قرار دیا ہے۔ ان کا یہ بھی کہا ہے کہ اس معاملے کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
اس کے علاوہ وزیر اعظم منموہن سنگھ نے چین کی اس درخواست کو ، جس میں چین نے دلائی لاما کو متنازعہ سرحدی علاقوں ميں جانے سے روکنے کو کہا تھا ، مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بدھ مذہب کے رہنما دلائی لاما ایک محترم مہمان ہیں۔
خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق آسیان اجلاس میں شرکت کے لیے آنے والے وزير اعظم نے تھائی لینڈ میں ایک نیوز کانفرنس میں چین کے وزیر اعظم وین جیاباؤ سے اپنی ملاقات کے بارے میں بتایا ’میں نے چین کے وزیر اعظم وین جیاباؤ سے اس بات کی وضاحت کی کہ دلائی لاما ہمارے محترم مہمان ہیں اور وہ ایک مذہبی رہنما ہیں۔ ہم تبتی جلا وطن کو سیاست کرنے کی اجازت نہیں دیتے‘۔
دلائی لاما نے نومبر میں ارونا چل پردیش کا دورہ کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ حال ہی میں جب ہندوستان کے وزیر اعظم نے اس ریاست کا دورہ کیا تھا تو چین نے اعتراض ظاہر کیا تھا جس پر بھارت نے سخت رد عمل ظاہر کیا اور کہا تھا کہ ارونا چل پردیش ہندوستان کا اٹوٹ حصہ ہے۔
ادھر جنوب مشرقی ایشائی ممالک کے رہنماؤں نے عالمی کساد بازاری کے بعد ایسے کئی معاہدوں پر اتفاق کیا ہے جن سے ان ممالک کے درمیان بہتر تعاون ممکن ہو سکے گا۔
ان معاہدوں میں عالمی حدت میں اضافے اور قدرتی آفات سے نمٹنے جیسے موضوعات بھی شامل کیے گئے ہیں۔
یہ معاہدے ایسوسی ایشن آف ساؤتھ ایسٹ ایشین نیشنز یعنی آسیان کے سالانہ اجلاس ميں کیے گئے ہیں۔ اس برس یہ اجلاس تھائی لینڈ میں منعقد کیا گیا تھا۔
ایشائی رہنماؤں نے یورپی یونین کی طرز پر خطے میں معاشی برادری بنانے کے بارے میں آسٹریلیا اور جاپان کے منصوبوں پر بھی غور کیا۔
اس میں آسیان کے باہر کی بڑی طاقتیں شامل ہوں گی اور یہ دنیا کی تقریبا نصف آبادی کے دائرے میں ہوگی۔ لیکن اس منصوبے میں بعض اختلافات اس بات پر پیدا ہوئے کہ اس برادری کی شکل کیا ہوگی اور کیا اس میں امریکہ کو شامل کیا جائے گا یا نہیں؟
© MMIX