
اس سے پہلے ماؤ نواز باغیوں نے ایک پولیس افسر کو گلا کاٹ کر قتل کر دیا تھا
ہندوستان کی ریاست مغربی بنگال میں ماؤ نواز باغیوں نے منگل کے روز یرغمال بنائے گئے پولیس افسر اتندراناتھ کو رہا کر دیا ہے۔ جمعرات کو پولیس افسر کی رہائی سے پہلے ایک مقامی عدالت نے چودہ قبائلی خواتین کو ضمانت پر رہا کر دیا تھا۔
اطلاعات کے مطابق خواتین کی رہائی کا یہ قدم ماؤ نواز باغیوں کی جانب سے یرغمال بنائے گئے پولیس اہلکار اتندراناتھ دتّا کی رہائی ممکن بنانے کے لیے اٹھایا گیا تھا۔ضمانت پر رہا کی گئی ان خواتین کا تعلق لال گڑھ سے ہے جہاں ماؤ نواز باغی سرگرم ہیں۔ ان خواتین کو ماؤ نوازوں کا ساتھ دینے کے الزام میں ہی گرفتار کیا گیا تھا۔
اتندراساتھ دتا مغربی بنگال کے مدنا پور ضلع کے سنکریل پولیس سٹیشن کے انچارج تھے اور انہیں منگل کو ماؤ نواز باغیوں نے ایک بینک اور پولیس سٹیشن پر کیے گئے حملے کے دوران اغواء کر لیا تھا۔
بدھ کو حکومت نے ماؤ نواز باغیوں کے ساتھ مزاکرات شروع کیے تھے۔ کولکاتا پولیس کے ہیڈکواٹر میں ایک سیئنر پولیس اہلکار نے ماؤ نواز باغیوں کے رہنماء کشن جی سے بات چیت میں یرغمال پولیس اہلکار کے بدلے گرفتار قبائلی خواتین کی رہائی پر رضامندی ظاہر کی تھی۔
ماؤ نواز باغیوں کے رہنماء کوٹیشور راؤ یا کشن جی نے وعدہ کیا تھا کہ وہ یرغمال بنائے گئے پولیس اہلکار کو رہا کردیں گے لیکن ان کا کہنا ہے کہ جہاں پولیس اہلکار کو رکھا گیا ہے اس کے ارد گرد کافی تعداد میں پولیس اور نیم فوجی دستے تعینات ہیں جس کے سبب رہائی میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔اس سے پہلے ماؤ نواز باغیوں نے ایک پولیس افسر کو گلا کاٹ کر قتل کر دیا تھا جس کے سبب اتندراساتھ دتا کی رہائی پر تشویش ظاہر کی جا رہی تھی۔
© MMIX