
سب سے اہم ریاست مہاراشٹر میں کانگریس پارٹی اپنی اتحادی جماعت راشٹریہ کانگریس کے ساتھ مل کر مسلسل تیسری بار حکومت بنانے کی پوزیشن میں ہے۔
بھارت کی تین ریاستوں مہاراشٹر، ہریانہ اور ارونا چل پردیش کے انتخابات کے جو نتائج اور رجحانات سامنے آئے ہیں اس سے کانگریس پارٹی کے خیمے میں خوشی کا ماحول ہے۔
سب سے اہم ریاست مہاراشٹر میں کانگریس پارٹی اپنی اتحادی جماعت راشٹریہ کانگریس کے ساتھ مل کر مسلسل تیسری بار حکومت بنانے کی پوزیشن میں ہے۔
ممبئی حملوں کے بعد حکومت کے خلاف جس طرح کا غم و غصہ سامنے آیا تھا اس سے لگتا تھا کہ اس ریاست میں تیسری بار کانگریس اتحاد کو اقتدار میں آنا آسان نہیں ہوگا لیکن اس نے توقع سے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔
اہم سوال یہ تھا کہ آيا اس بار وزیر اعلیٰ کون بنےگا تو خود این سی پی کے رہنما شرد پوار نے وضاحت کر دی ہے کہ یہ عہدہ کانگریس کو ملے گا۔ پوار نے اپنے اتحاد کی جیت پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ’دراصل مہاراشٹر میں شیو سینا اور ادھو ٹھاکرے کو کوئی بھی سنجیدگي سے نہیں لیتا ہے۔‘
شرد پوار کی وضاحت کے باوجود بعض این سی پی رہنما اس طرح کی باتیں کہہ رہے ہیں کہ تیسری بار وزارت اعلیٰ کا عہدہ این سی پی کو ملنا چاہیے۔ اس پر بات کرتے ہوئے سابق وزیر اعلیٰ ولاس راؤ دیش مکھ نے کہا ’اس معاملے پر شرد پوار جی خود وضاحت کر چکے ہیں اس لیے میں اس بارے میں تنازعہ نہیں ہونا چاہیے۔‘
اپوزیشن پارٹیوں کے پاس ارکان کی تعداد زیادہ ہے اس لیے حکومت سازی کے لیے انہیں دعوت ملنی چاہیے۔ اور اصولی طور پر تو کانگریس کو اپنی شکست تسلیم کر لینی چاہیے۔
اوم پرکاش چوٹالہ، انڈین نیشنل لوک دل
لیکن یہ معاملہ اسی بات پر حل نہیں ہوتا۔ اگر یہ بات طے بھی مان لی جائے کہ ممبئی کی کرسی کانگریس کے ہاتھ رہے گی تو پھر سوال یہ اٹھتا ہے کہ کانگریس کی طرف سے وزیراعلیٰ کون ہوگا۔ کانگریس پارٹی میں اس عہدے کے لیے دو تین نام سامنے آرہے ہیں۔ پارٹی کی ترجمان جینتی نٹراجن کا کہنا تھا ’مہاراشٹر میں کئی صلاحیت مند رہنما ہیں اور منتخب اسمبلی ارکان مرکز کی اعلیٰ قیادت کے احکامات کے مطابق اگلے وزیر اعلیٰ کا فیصلہ کریں گے۔‘ تاہم فیصلہ مرکزی قیادت کو کرنا ہے جو دلی میں صلاح و مشورہ کے بعد جلد ہی کوئی حتمی فیصلہ کرے گي۔
مہاراشٹر میں بھارتیہ جنتا پارٹی اور شیو سینا اتحاد نے اپنی شکست تسلیم کر لی ہے۔ بی جے پی رہنما نتن گھٹکرے کا کہنا تھا کہ ان کی شکست میں ’راج ٹھاکرے کی پارٹی مہاراشٹر نو نرمان سینا نے اہم رول ادا کیا ہے۔ اس کی وجہ سے شیو سینا وہ کارکردگی نہیں کر سکی جس کی ہمیں امید تھی‘۔ شیوسینا کا کہنا ہے کہ وہ اس شکست سے سبق سیکھے گی اور آئندہ کے لیے کوشش کرے گی۔
ادھر بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنما مختار عباس نقوی اپنے اس بیان سے پیچھے ہٹ گئے ہیں جس میں انہوں نے الزام عائد کیا تھا کہ ’کانگریس کی جیت الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کے سبب ہوئی ہے۔‘ مسٹر نقوی نے انتخابات میں دھاندلی کا الزام عائد کیا تھا لیکن بی جے پی نے ان کے بیان سے علحیدگی اختیار کر لی جس کے بعد انہوں نے بھی اپنا بیان بدل دیا۔ اب ان کا کہنا ہے کہ ان کے بیان کو غلط سمجھا گیا ہے۔

مہاراشٹر میں بھارتیہ جنتا پارٹی اور شیو سینا اتحاد نے اپنی شکست تسلیم کر لی ہے
دلی سے متصل ریاست ہریانہ کے نتائج کانگریس پارٹی کی امید پر پورے نہیں اترے۔ پارٹی کو امید تھی کہ وہ زبردست اکثریت حاصل کر لےگي لیکن تازہ رجحانات کے مطابق اسے سادہ اکثریت بھی نہیں مل پارہی ہے اور حکومت بنانے کے لیے اسے بعض آزاد ارکان کی ضرورت پڑےگی۔ کانگریس رہنما بھوپیندر سنگھ ہوڈا نے یہ بات تسلیم کی کہ نتائج ان کے اندازے کے مطابق نہیں ہیں۔ ’کانگریس ایک بار پھر ریاست میں اپنی حکومت تشکیل دے گی لیکن جو کمی اور خامیاں رہیں ان کا جائزہ لیا جائیگا۔‘
مسٹر ہوڈا کا کہنا تھا کہ وہ نہیں جانتے کہ ہریانہ کا اگلا وزیر اعلیٰ کون ہوگا۔ ’یہ فیصلہ اعلیٰ قیادت کو کرنا ہے ہاں یہ بات ضرور ہے کہ میں اس کا امید وار ہوں‘۔ ہریانہ میں اگر کانگریس دوبارہ اقتدار سنبھالتی ہے تو یہ تین عشرے بعد کسی پارٹی کی دوبارہ حکومت ہوگي۔ اس سے قبل سنہ انیس سو بہتر میں بنسی لال نے دوبارہ اقتدار سنبھالا تھا۔
اس بار غیر متوقع طور پر علاقائی جماعت انڈین نیشنل لوک دل نے اچھی کار کردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ پارٹی کے رہنما اوم پرکاش چوٹالہ نے صحافیوں سے بات چیت میں نئی حکومت تشکیل کرنے کی بات کی۔ ’اپوزیشن پارٹیوں کے پاس ارکان کی تعداد زیادہ ہے اس لیے حکومت سازی کے لیے انہیں دعوت ملنی چاہیے۔ اور اصولی طور پر تو کانگریس کو اپنی شکست تسلیم کر لینی چاہیے‘۔
ادھر بی جے پی نے انتخابات میں آئی ایل این ڈی کے ساتھ اتحاد نہ کرنے کے اپنے فیصلے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ پارٹی کے رہنما وجے کمار گوئل کا کہنا تھا ’اگر ہم نے اتحاد کیا ہوتا تو تصویر مختلف ہوتی لیکن یہ پارٹی کا فیصلہ تھا تاکہ ہریانہ میں ہم اپنے پیروں پر کھڑے ہو سکیں‘۔
ارونا چل پردیش میں عام طور پر وہی جماعت کامیاب ہوتی ہے جو مرکز میں اقتدار میں ہو اور ظاہر ہے کہ وہاں کانگریس نے دو تہائی اکثریت حاصل کر لی ہے۔
© MMIX