
فضائیہ کا موقف ہے کہ مسلمانوں کے لیے داڑھی رکھنا مذہبی اعتبار سے لازمی نہیں ہے
ہندوستان کی سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت کو پندرہ روز کے اندر یہ واضح کرنے کا حکم دیا ہے کہ آیا فضائیہ میں کام کرنے والے مسلمان داڑھی رکھ سکتے ہیں یا نہیں؟
دو ہفتے میں حکومت عرضی گزار ائرمین محمد زبیر اور آفتاب احمد انصاری کے پٹیشن پر جو بھی موقف اختیار کرے گی، اس پر تنازعہ ہونا تو طے ہے لیکن ہندوستان کی مسلح افواج میں داڑھی رکھنے یا اسے منڈوانے کی تاریخ کافی دلچسپ ہے۔
سن دو ہزار تین کے ایک سرکیولر کے ذریعہ فضائیہ نے مسلمانوں کے داڑھی رکھنے پر پابندی لگا دی تھی حالانکہ اس سے پہلے وہ اپنے کمانڈنگ افسر کی اجازت سے باریش ہوسکتے تھے۔ لیکن سکھوں کو داڑھی رکھنے کا حق بدستور حاصل ہے۔
فضائیہ کا موقف ہے کہ مسلمانوں کے لیے داڑھی رکھنا مذہبی اعتبار سے لازمی نہیں ہے، اور اس موقف کی پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ توثیق بھی کرچکا ہے جس کے بعد محمد زبیر نےسپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔
لیکن ہندوستانی بحریہ اس معاملے میں قدرے آزاد خیال ہے جہاں کمانڈنگ افسر کی اجازت سے اب بھی داڑھی بڑھائی جاسکتی ہے۔ تاہم ہندوستانی بحریہ کی ویب سائٹ کے مطابق داڑھی کی باقاعدہ مانیٹرنگ کی جائے گی اور اگر وہ رکھنے والے کے چہرے پر اچھی نہ لگے تو اجازت واپس لی جاسکتی ہے۔
اسی ویب سائٹ پر ریٹائرڈ نائب ایڈمیرل جی ایم ہیرانندانی کی مرتب کردہ بحریہ کی تاریخ بھی موجود ہے جس میں داڑھی اور مونچھوں پر ایک پورا چیپٹر شامل کیا گیا ہے۔
ایک دن میں چائے پی رہا تھا کہ ایک راجستھانی سیلر میرے قریب آیا اور بولا کہ داڑھی اور مونچھ رکھنے کی روایت سے مجھے بہت پریشانی ہوتی ہے۔ جب میں گھر جاتا ہوں، اگر میری مونچھ نہ ہو تو لوگ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ کیا تمہارے باپ کا انتقال ہوگیا ہے؟ راجستھان میں یہ روایت ہے کہ اگر کسی کا باپ مر جائےتو وہ مونچھ کٹواتا ہے تاکہ لوگوں کو معلوم ہو کہ وہ سوگ میں ہے۔ لہذا چھٹی سے دو مہینے پہلے مجھے داڑھی رکھنے کی اجازت لینی پڑتی ہے۔ لیکن جب تک میری داڑھی ٹھیک سے نہ بڑھ جائے مجھے جہاز سے اترنے کی اجازت نہیں ہوتی۔ چھٹی کے پہلے دن میں اپنی داڑھی منڈواتا ہوں اور آخری دن مونچھ کیونکہ جہاز پر واپس آنے کے لیے دونوں کا ساتھ ہونا ضروری ہے۔
وائس ایڈمیرل ہیرانندانی
در اصل تقسیم ہند کے بعد بحریہ نے وہ تمام قواعد و ضوابط اختیار کر لیے تھے جو برطانوی بحریہ کے دور میں نافذ العمل تھے۔ ان کے تحت بحریہ کے افسران اور سیلرز کو داڑھی رکھنے کی اجازت تھی لیکن صرف مونچھ کے ساتھ۔ اور یہ ہی شرط مونچھ کے ساتھ بھی تھی۔ یا تو دونوں ہوں، یا ایک بھی نہیں! اور حجامت بنوانا شروع کرنے یا بند کرنے سے پہلے انہیں اپنے کمانڈنگ افسر کی اجازت لینی پڑتی تھی۔ اس کا بظاہر مقصد یہ تھا کہ عملے کے ارکان صاف ستھرے اور سمارٹ نظر آئیں۔
لیکن انیس سو ستر۔اکہتر میں بدلتے ہوئے فیشن کا اثر ہندوستانی سیلرز پر بھی پڑا اور ان قواعد میں نرمی کے لیے دباؤ بڑھنے لگا۔ وائس ایڈمیرل ہیرانندانی کے مطابق اس کی کئی وجوہات تھیں:
’ویتنام کی جنگ کے دوران امریکی بحریہ نے یونیفارم، ہئر سٹائل اور داڑھی مونچھ سے متعلق ضابطوں میں نرمی کی کیونکہ اس کا خیال تھا کہ سخت قواعد کی وجہ سے نوجوان بحریہ میں شامل ہونے سے بچ رہے تھے۔
امریکی بحریہ کے اس فیصلے اور ہندوستان میں تیزی سے عام ہو رہے امریکی فیشنز کا اثر تو بحریہ کے عملے پر پڑا ہی، ساتھ ہی انیس سو ستر میں بحریہ کے مغربی بیڑے کے کچھ سیلیرز نے بغاوت کرتے ہوئے لیٹرین صاف کرنے سے انکار کردیا۔ اس بغاوت کے نتیجہ میں اصلاحات کا عمل شروع کیا گیا تاکہ بحریہ میں پنپ رہے غصے کو ٹھنڈا کیا جاسکے۔‘
ہیرانندانی کےمطابق اس سب سے زیادہ اہم بات یہ تھی کہ ہندوستانی معاشرے میں مونچھ ہمیشہ سے مردانگی اور بہادری کی علامت سمجھی جاتی رہی ہے۔ لہٰذا سیلرز چھٹی پر جانے سے پہلے ’حجامت بنوانا بند کرنے‘ اور چھٹی ختم ہونے سے پہلے دبارہ شیونگ شروع کرنے کی اجازت مانگتے تھے۔
لیکن سب سے دلچسپ واقعہ ایڈمیرل نندا کے ساتھ پیش آیا جو انیس سو ستر سے تہتر تک بحریہ کے سربراہ تھے۔
’ایک دن میں چائے پی رہا تھا کہ ایک راجستھانی سیلر میرے قریب آیا اور بولا کہ داڑھی اور مونچھ رکھنے کی روایت سے مجھے بہت پریشانی ہوتی ہے۔ جب میں گھر جاتا ہوں، اگر میری مونچھ نہ ہو تو لوگ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ کیا تمہارے باپ کا انتقال ہوگیا ہے؟ راجستھان میں یہ روایت ہے کہ اگر کسی کا باپ مر جائےتو وہ مونچھ کٹواتا ہے تاکہ لوگوں کو معلوم ہو کہ وہ سوگ میں ہے۔ لہٰذا چھٹی سے دو مہینے پہلے مجھے داڑھی رکھنے کی اجازت لینی پڑتی ہے۔ لیکن جب تک میری داڑھی ٹھیک سے نہ بڑھ جائے مجھے جہاز سے اترنے کی اجازت نہیں ہوتی۔ چھٹی کے پہلے دن میں اپنی داڑھی منڈواتا ہوں اور آخری دن مونچھ کیونکہ جہاز پر واپس آنے کے لیے دونوں کا ساتھ ہونا ضروری ہے۔‘
اس کے بعد انیس سو اکہتر میں بحریہ نے قواعد میں ترمیم کرکے عملے کو داڑھی مونچھ ساتھ ساتھ یا الگ الگ رکھنے کی اجازت دیدی بشرطیکہ وہ صفائی سے رکھی جائے۔
اب حکومت کے سامنے ایک مرتبہ پھر لمحہ فکریہ ہے۔ اگر داڑھی کی اجازت بحال کی گئی تو ہندو قوم پرست تنظیمیں ہنگامہ کریں گی اور اگر نہیں تو مسلمان تعاصب کا الزام لگائیں گے۔
اور اسے یہ فیصلہ پندرہ دن میں کرنا ہے کہ مردانگی کے لیے مونچھ کی اجازت دی جاسکتی ہے تو عقیدے کے لیے داڑھی کی کیوں نہیں؟
© MMIX