
نوبیل انعام یافتہ وینکٹ رامن بھارتی لوگوں کی لاتعداد ای میل سے پریشان ہیں
ہند نژاد امریکی سائنسدان وینکٹ راما کرشنن کو شاید اب یہ احساس ہو رہا ہے کہ سائنسی تحقیق کے لیے نوبیل انعام جیتنا اس شہرت اور پذیرائی سے نمٹنے کے مقابلے میں کہیں زیادہ آسان تھا جو اب انہیں نہ چاہتے ہوئے بھی مل رہی ہے۔
نوبیل انعام کا اعلان ہوتے ہی حسب توقع انہیں دنیا بھر سے تہنیتی پیغام ملنے لگے لیکن خوشی سے بے قابو ہندوستانیوں نے اتنی ایم میل بھیجیں کہ ان کا ’ان باکس‘ چرمرا گیا۔
انہوں نے شکایت کی تو کچھ ہندوستانی برا ماننے لگے۔ لہذا راما کرشنن نے جمعہ کے ٹائمز آف انڈیا میں معذرت کرتے ہوئے اپنے سابق ہم وطنوں کو ایک حیرت انگیز لیکن سیدھا سادا پیغام دیا ہے: براہ کرم ’نیشنلسٹک ہیرو ورشپ‘ (قوم پرستی پر مبنی شخصیت پرستی) تھوڑی کم کریں!
راماکرشنن کہتے ہیں کہ لوگوں کو یہ سمجھنا چاہیے کہ ان کے پاس کوئی سیکرٹری نہیں ہے اور وہ ای میل زیادہ تر کام کےسلسلے میں استعمال کرتے ہیں۔ ’مبارکباد کے پیغامات اتنے آ رہے ہیں کہ کام کی ای میل ڈھونڈنا مشکل ہوگیا ہے‘۔
’مشہور کھلاڑیوں اور فلمی ستاروں کے بر عکس ہم سائنسدان خاموش زندگی گزارتے ہیں اور نفسیاتی طور پر ہمیں شہرت کو ہینڈل کرنا نہیں آتا۔ لہذا مجھے ایسے لوگوں کے پیغامات کے سیلاب سے، جنہیں میں جانتا ہی نہیں، یا چالیس سال پہلے سرسری طور پر جانتا تھا( اور جو زیادہ تر ہندوستانی ہیں)، کافی پریشانی ہوئی‘۔
کسی کی کامیابی میں شریک ہونے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ اس کے کام میں دلچسپی لی جائے اور سائنس کی تعلیم پر توجہ دی جائے۔۔۔ جب میں پڑھتا تھا تو مرےگیلمین( امریکی ماہر طبیعات) کی ریسرچ سے بہت متاثر تھا۔ جب انہیں نوبیل انعام ملا تو مجھے بہت خوشی ہوئی اور میرے لیے یہ بات بے معنی تھی کہ وہ ہندوستانی ہیں یا نہیں۔
راما کرشنن
اعزاز کے اعلان کے بعد جب راماکرشنن کی ہندوستانی ’روٹس‘ کا بار بار تذکرہ کیا گیا تو وہ یہ بھی کہہ بیٹھے کہ ’ ہم سب انسان ہیں۔۔۔اور قومیت تو بس ایک ایکسیڈنٹ آف برتھ ہے ( یہ محض اتفاق ہے کہ میں ہندوستان میں پیدا ہوا)‘۔
راماکرشنن نے امریکہ کوچ کرنے سے قبل گجرات کے بڑودا شہر سے گریجویشن کیا تھا۔ لہذا لوگ پھر ناراض ہوگئے اور کچھ نے کہا کہ وہ اپنی ہندوستانی جڑوں سے منہ موڑ رہے ہیں۔
لیکن جواب میں راماکرشنن نے لکھا ہے کہ ’سن دو ہزار دو سے میں ہر سال ہندوستان آیا ہوں جہاں میں نے فائیو سٹار ہوٹلوں میں رک کر گھومنے پھرنے میں نہیں مختلف یونیورسٹیوں کے گیسٹ ہاوسز میں ٹھہر کر طلباء اور اساتذہ کے ساتھ وقت گزارا ہے‘۔
’کسی کی کامیابی میں شریک ہونے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ اس کے کام میں دلچسپی لی جائے اور سائنس کی تعلیم پر توجہ دی جائے۔۔۔ جب میں پڑھتا تھا تو مرےگیلمین( امریکی ماہر طبیعات) کی ریسرچ سے بہت متاثر تھا۔ جب انہیں نوبیل انعام ملا تو مجھے بہت خوشی ہوئی اور میرے لیے یہ بات بے معنی تھی کہ وہ ہندوستانی ہیں یا نہیں۔‘
اور آخر میں راماکرشنن کہتے ہیں کہ ہندوستان میں بہت’پوٹینشل‘ ہے اور بہت سے ذہین طالب علم ہیں۔ لیکن اگر اس ’پوٹینشل‘ یا صلاحیتوں کے ذخیرے سے فائدہ اٹھانا ہے تو براہ کرم نیشنلسٹک ہیرو ورشپ ذرا کم کریں!
© MMIX