Advertisement
آخری وقت اشاعت:  Thursday, 8 october, 2009, 12:26 GMT 17:26 PST

زلزلہ متاثرین کی بحالی ایک مسئلہ

کشمیر اڑی

زلزلہ کے فوراً بعد مختلف این جی اوز کے ایک عبوری اتحاد 'اتھ روٹ' یا امداد نے اوڑی اور دوسرے دیہات میں بحالی کی مہم چلائی

چار سال قبل زلزلے نے بھارت کے زیرانتظام کشمیر کے شمالی خطوں کو بھی ہلا کر رکھ دیا تھا۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس میں ایک ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے جبکہ سینکڑوں زخمی ہوئے تھے۔ سینکڑوں گاؤں کھنڈر بن گئے اور بعض بستیاں زمین بوس ہوگئیں تھیں۔

اس زلزلہ کے چار سال بعد اوڑی، کرناہ، گریز، ٹنگڈار اور دوسرے دیہات میں متاثرین نے نئے مکانات تعمیر کر لیے ہیں۔ لیکن متاثرین کا معاملہ تنازعہ کی شکل اختیار کر گیا ہے اور بہت سے سوالات حل طلب ہیں۔

حکومت کہتی ہے کہ اس نے ریکارڑ مُدت میں امدادی رقم متاثرین کو مہیا کی، این جی اوز کہتی ہیں کہ اس کامیاب آپریشن کا سہرا حکومت کے نہیں بلکہ ان کے سربندھنا چاہیئے۔

بحالی کی مہم میں پیش پیش سماجی کارکن خُرم پرویز کہتے ہیں کہ’درجنوں مقامی اور غیر مقامی این جی اوز نے کشمیر میں زلزلہ متاثرین کے لئے عارضی گھر تعمیر کئے اور انہیں پختہ گھر تعمیر کرنے کی تربیت دی۔ حکومت نے تو ایک سڑک تک تعمیر نہیں کی تاکہ راحت کاری کے کام میں آسانی ہوتی۔‘

لیکن حکومت اس سلسلے میں کہتی ہے کہ این جی اوز نے صرف ’پروپیگنڈا کیا اور اصل کام سرکاری اداروں نے ہی کیا۔‘

بشیر احمد نے، جو زلزلہ کے دوران اوڑی کے سب ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ تھے، بی بی سی کو بتایا کہ ’این جی اوز نے صرف شور کیا۔ حکومت ہی نے اصلی کام کیا۔ مجھے یاد ہے ہم نے خود ایک ہزار تین سو کنبوں کے درمیان تین قسطوں میں ایک لاکھ پینتیس ہزار روپے فی کنبہ کے حساب سے نقد امداد تقسیم کی۔ یہ مکان جو آپ دیکھ رہے ہیں حکومت کی دین ہے۔ حکومت نے اعلان کیا تھا کہ جو اکتیس دسمبر (دو ہزار پانچ میں) سے قبل مکان تعمیر کرے گا اسے پانچ ہزار روپے کی اضافی امداد دی جائے۔ اور ہم ایسے کنبوں کو یہ اضافی امداد دی ہے۔'

این جی او نمائندے یہ بھی کہتے ہیں کہ فوج کی بھاری تعداد میں موجودگی کے باعث رضاکار اداروں کو کام کرنے میں مشکلات پیش آئیں۔

ین جی اوز نے صرف شور کیا۔ حکومت ہی نے اصلی بازآباد کاری کا کام کیا۔ مجھے یاد ہے ہم نے خود ایک ہزار تین سو کنبوں کے درمیان تین قسطوں میں ایک لاکھ پینتیس ہزار روپے فی کنبہ کے حساب سے نقد امداد تقسیم کی۔ یہ مکان جو آپ دیکھ رہے ہیں حکومت کی دین ہے۔ حکومت نے اعلان کیا تھا کہ جو اکتیس دسمبر (دو ہزار پانچ میں) سے قبل مکان تعمیر کرے گا اسے پانچ ہزار روپے کی اضافی امداد دی جائے۔ اور ہم ایسے کنبوں کو یہ اضافی امداد دی ہے۔

بشیر احمد

خُرم پرویز کہتے ہیں کہ ’ کام کرنے میں سب سے بڑی رکاوٹ تھی فوج کی مداخلت۔ چونکہ اوڑی اور ٹنگڈار بالکل کنٹرول کے پاس واقع ہیں، ہمیں ہر گاؤں میں جانے کے لیے فوج کی اجازت لینی پڑتی تھی۔ لیکن فوج بین الاقوامی این جی اوز کو اوڑی اور بارہمولہ کے درمیان قائم داخلہ گیٹ سے اندر جانے کی اجازت نہیں دیتی تھی۔ کبھی کبھار تو ہمارے لڑکے پکڑے جاتے۔ لیکن پھر بھی این جی اوز نے قابل تحسین کام کیا۔‘

اوڑی کے رہنے والے ابرار لون کے مطابق امداد اور بحالی کے اس مِشن میں حکومت اور این جی اوز دونوں ہی متاثرین کی توقعات پر پورے نہیں اُترے۔

ابرار کہتے ہیں کہ ’کوئی نظام نہیں تھا جسے پتہ چلتا کہ آیا امداد مستحقین کو مل رہی ہے یا مفت خور لوگ یہ ساری کھیپ چٹ کررہے ہیں۔ مجھے یاد ہے ایک صوبائی وزیر نے اپنے پسندیدہ لوگوں کو ریلیف دینے کی خاطر ایک سرکاری افسر کو بارہمولہ میں تھپڑ مارا کیونکہ وہ افسر دھاندلی کے خلاف تھا۔ بعد میں حکومت نے اس افسر کو ہی تبدیل کردیا۔‘

ابرار مزید کہتے ہیں کہ بحالی کا مطلب صرف گھر کی تعمیر نہیں بلکہ متاثرین کو درپیش نئے مسائل کا حل ہے۔ وہ کہتے ہیں ’اس آفت میں جو لوگ عمر بھر کے لئے اپاہج ہوگئے ان کا کیا ہوگا۔‘

جس خاتون کی ریڑھ کی ہڈی ٹوٹ گئی یا جو عمررسیدہ شہری اپنے دونوں ہاتھ کھو بیٹھا انہیں کون سہارا دے گا۔ اصل میں حکومت نے اس زلزلہ میں مکان کی تعمیر کو اصل بحالی کا نام دیا، اس کی خوب پبلسٹی ہوئی۔ اصل کام تو مکان بنانے کے بعد شروع ہوتا ہے، حکومت وہ کب شروع کرے گی؟‘

بی بی سی کو جانیں

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔