
ہندوستان ميں اب 38 فیصد غریب ہیں
ہندوستان کی حکومت کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق ملک میں خط افلاس سے نیچے زندگی گزارنے والوں کی تعداد ميں مزید گیارہ کروڑ لوگوں کا اضافہ ہوا ہے۔
یہ اعداد و شمار ایس ڈی تندولکر کی صدارت میں بنی ایک کمیٹی کی رپورٹ میں جاری کیے گئے ہیں۔ رپورٹ ميں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اب ملک میں اڑتیس فیصد لوگ غریب ہیں۔
ایس ڈی تندلکر کی کمیٹی گذشتہ برس تشکیل دی گئی تھی۔ تازہ اعداد و شمار غریبی کی پیمائش کے نئے اور مختلف طریقۂ کار کے سبب سامنے آئے ہیں۔
نئے طریقے کار ميں تعلیم، صحت اور صفائی حیسی بنیادی نکات شامل کیے گئے ہیں جب کہ پرانے طریقے کے مطابق صرف دو ہزار ایک کیلوری خریدینے کی طاقت رکھنے کی بنیاد پر مبنی تھا۔
پرانے طریقے کار کے تحت سنہ دو ہزار چار اور پانچ کے دوران ملک میں ستائس اعشاریہ پانچ فیصد غریب تھے۔
ہندوستان میں ماہرین غریبی کی پیمائش کے طریقےکار پر ہیمشہ سے سوالات اٹھتے رہے ہیں۔
دو ہزار سات تشکیل دی گئی ارجن سین گپتا کی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ آبادی کا ستتر فیصد حصہ روزانہ بیس روپے سے کم آمدنی حاصل کر پاتے ہیں۔ جبکہ اسی برس جون میں دیہی ترقی کی مرکزی وزارت کی ایک کمیٹی نے کہا تھا کہ ملک کی آدھی آبادی غریب ہے۔
© MMIX