
ٹاٹا موٹرز نے نینو کی شکل میں لوگوں کو صرف ایک لاکھ روپے میں کار دی ہے
بھارت میں تیار کی جانے والے دنیا کی سب سے سستی کار نینو ممبئی کی سڑکوں پپر پہنچ گئی ہے۔ جمعہ کی شام رتن ٹاٹا پہلی نینو کار کی چابی ایک گاہک رگھوناتھ وچارے کے حوالے کر دی ہے۔
پہلی کار گاہک کے حوالے کرنے کے موقع پر صنعت کار رتن ٹاٹا نے کہا کہ ’میں امید کرتا ہوں کہ میری یہ کار ان لوگوں کو مسرت کا موقع عطا کرے گی جو پہلی مرتبہ کار کے مالک بن رہے ہیں‘۔ ٹاٹا موٹرز نے نینو کے روپ میں لوگوں کو محض ایک لاکھ روپے میں کار دی ہے۔
کار کے پہلے مالک بننے کے بعد رگھوناتھ وچارے نے کہا کہ نینو کار کے پہلےمالک بن کر انہیں بے حد مسرت ہوئی ہے اور اسے وہ لفظوں میں بیان نہیں کر سکتے۔
ٹاٹا نے تین مختلف رنگوں میں اپنی کار بنائی ہے۔ وچارے نے سلور رنگ کی کار پسندکی تھی جبکہ اس کے دوسرے مالک ایچ ڈی ایف سی بینک کے انتیس سالہ آشیش بال کرشنن ہیں جنہوں نے زرد رنگ کی کار پسند کی تھی۔
ٹاٹا نے اپنی سستی کار اسی سالمارچ میں لانچ کی تھی اور اعلان کیا تھا کہ لاکھوں افراد کے فارم کی قرعہ اندازی کی جائے گی۔ ٹاٹا ذرائع کے مطابق دو لاکھ چھ ہزار لوگوں نے کار خریدنے کی خواہش ظاہر کی تھی جس میں سے ایک لاکھ پچپن ہزار کو قرعہ اندازی کے ذریعہ منتخب کیا گیا ہے۔
ٹاٹا لیکن ان سب کو اس سال کار فراہم کرنےمیں ناکام رہیں گے کیونکہ کولکتہ میں ان کی فیکٹری کی مخالفت کی وجہ سے انہیں وہ پلانٹ وہاں بند کرنا پڑا تھا۔ ٹاٹا نے اس کے بعد گجرات میں اپنا پلانٹ لگایا ہے لیکن وہ بھی آئندہ برس سے ہی کام کر سکے گا۔
جن ایک لاکھ لوگوں کو کار دی جائے گی انہیں ٹاٹا نے آئندہ برس تک کار فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ اس وقت شمالی ہند کے پنت نگر علاقے میں ٹاٹا سالانہ پچاس ہزار کے قریب کار بنا سکتی ہے اور لوگوں کو جلد از جلد کاریں فراہم کرنا ہے تو ٹاٹا کو اپنے پلانٹ جلد از جلد شروع کرنے ہوں گے۔
ٹاٹا کی نینو کار خریدنے والوں کی فہرست میں کئی ایسے لوگ ہیں جنہوں نے کار خریدنے کا خواب تو دیکھا تھا لیکن وہ پورا نہیں ہو سکتا تھا۔ رتن ٹاٹانے اس کار کو لانچ کرنے کے وقت ہی کہا تھا کہ یہ ایک عام آدمی کا سپنا پورا کرنے کے لیے بنائی گئی ہے۔
ٹاٹا نے ایک لاکھ لوگوں کو اسی قیمت میں کار دینے کا وعدہ کیا ہے لیکن سن دو ہزار گیارہ تک جن پچپن ہزار لوگوں کو کار دی جائے گی شاید اس کی قیمت میں تب تک کچھ اضافہ کر دیا جائے۔
© MMIX