ہندوستان اور امریکہ کے درمیان کاروبار کا ہجم پینتالیس ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے اور فوجی تعاون بھی مسلسل بڑھ رہا ہے

ہلیری کلنٹن جوہری بجلی گھروں کے لیے جگہ کے انتخاب کا اعلان چاہتی ہیں۔
امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن کے دورے کا مقصد یوں تو ہندوستان سے باہمی تعلقات کا دائرہ وسیع کرنا ہے لیکن ان کا ہدف دو اہم معاہدے ہیں۔ ایک کی رو سے امریکی کمپنیاں ہندوستان کو جدید ترین اسلحہ فروخت کرپائیں گی اور دوسرے کے تحت ملک میں دو امریکی جوہری بجلی گھروں کے قیام کا عمل شروع ہو سکے گا۔
فی الحال تو ایسا ہی لگتا ہے کہ امریکی عہدیداران نے اس بارے میں ابہام کی زیادہ گنجائش نہیں چھوڑی ہے۔ اس دورے میں وہ 'اینڈ یوزر اگریمنٹ' پر دستخط چاہتے ہیں۔ اس معاہدے کے تحت ہندوستان کو یہ ضمانت دینی ہوگی کہ اسلحہ سازی کے لیے امریکی کمپنیوں کی جانب سے دی جانے والی ٹیکنالوجی کسی تیسرے ملک کو نہیں دی جائے گی اور امریکہ کو اس عمل کی نگرانی کا حق حاصل ہوگا۔
اس معاہدے کے بغیر امریکی کمپنیاں ہندوستان کو اسلحہ نہیں بیچ سکتیں۔ امریکی دلچسپی کی وجہ یہ ہے کہ ہندوستان بڑے پیمانے پر جنگی ساز و سامان خرید رہا ہے جس میں ایک سو چھبیس جنگی طیارے بھی شامل ہیں۔ ظاہر ہے کہ امریکی کمپنیاں بھی دس ارب ڈالر مالیت کا یہ کانٹریکٹ حاصل کرنا چاہتی ہیں۔
ہندوستان اور امریکہ کے درمیان کاروبار کا ہجم پینتالیس ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے اور فوجی تعاون بھی مسلسل بڑھ رہا ہے
ہلیری کلنٹن یہ اعلان بھی سننا چاہتی ہیں کہ امریکی کمپنیوں کی جانب سے لگائے جانے والے دو جوہری بجلی گھروں کے لیے ہندوستان نے جگہ کا انتخاب کر لیا ہے۔ اگر ہندوستان یہ اعلان کرتا ہے، جس کا اطلاعات کے مطابق کافی امکان ہے، تو امریکی کمپنیوں کو تقریباً دس ارب ڈالر مالیت کی بزنس حاصل ہوسکتا ہے۔
اگرچہ اس بارے میں سرکاری طور پر تو کوئی اعلان نہیں کیا گیا ہے لیکن کہا جا رہا ہے کہ گجرات اور آندھر پردیش میں دو مقامات کا انتخاب کر لیا گیا ہے۔
ہندوستان اور امریکہ کے درمیان کاروبار کا ہجم پینتالیس ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے اور فوجی تعاون بھی مسلسل بڑھ رہا ہے۔
دورے کے لیے روانگی سے قبل ہلیری کلنٹن نے واشنگٹن میں کہا ہے کہ 'تمام موضوعات پر بات چیت ہوگی۔ ہم اپنے تعلقات کا دائرہ بڑھانے کے لیے جو کچھ کرسکتے ہیں، وہ کریں گے'۔
ہندوستان کو شاید اس بات سے تو خوشی ہوگی کہ امریکی خارجہ سیکریٹری اس دورے میں پاکستان نہیں جائیں گی لیکن بعض حلقوں میں یہ خدشہ برقرار ہے کہ جنوبی ایشا میں امریکی پالیسی پاکستان اور افغانستان میں اس کے فوجی اور سفارتی مقاصد کی بنیاد پر ہی بنائی جائے گی۔
ہندوستان امریکی کانگریس کی ان کوششوں کے بارے میں بھی فکرمند ہے جن کے تحت ان ممالک سے درآمد کیے جانے والے ساز و سامان پر زیادہ ڈیوٹی عائد کی جائے گی جو عالمی حدت بڑھانے والی گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج کم کرنے پر تیار نہیں ہوتے
اس کے علاوہ 'آؤٹ سورسنگ' کے شعبے میں امریکی موقف پر بھی ہندوستان کو تشویش ہے۔ یہاں تاثر یہ ہے کہ امریکی حکومت اپنی پالیسیوں اور بیانات سے آؤٹ سورسنگ کا کام ہندوستان آنے کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کر رہی ہے اور ہندوستان امریکی کانگریس کی ان کوششوں کے بارے میں بھی فکرمند ہے جن کے تحت ان ممالک سے درآمد کیے جانے والے ساز و سامان پر زیادہ ڈیوٹی عائد کی جائے گی جو عالمی حدت بڑھانے والی گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج کم کرنے پر تیار نہیں ہوتے۔
ہلیری کلنٹن کی پیش رو کونڈولیزا رائس نے سن دو ہزار پانچ میں ہندوستان کا دورہ کیا تھا۔ ہلیری کلنٹن سترہ جولائی کی شام ممبئی پہنچیں گی۔ انیس جولائی کو وہ دلی آئیں گی جہاں ان کے پروگرام میں ملک کی اعلیٰ سیاسی قیادت سے ملاقاتیں شامل ہیں۔ اکیس جولائی کو وہ تھائی لینڈ کے لیے روانہ ہو جائیں گی۔
© MMX