
شوپیان میں دوہرے ریپ و قتل کے معاملے پر پچھلے چالیس روز سے وادی میں تناؤ جاری ہے
بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے کپواڑہ ضلع سے تعلق رکھنے والی ایک کالج کی طالبہ کی پراسرار موت سے وادی میں دوبارہ حالات کشیدہ ہوگئے ہیں۔
اس ہلاکت کے لیے سرکاری فورسز کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے علیٰحدگی پسندوں کے ایک دھڑے کی اپیل پر ہڑتال اور احتجاجی مظاہرے کئے جارہے ہیں۔
پولیس کے مطابق یہ واقعہ کپوارہ کے ترہگام گاؤں میں بدھ کی رات پیش آیا۔
مقامی لوگوں کا الزام ہے کہ نزدیکی گاؤں ہِری میں قائم ٹیریٹوریئل آرمی کے کیمپ سے وابستہ فوجی اہلکار عاشق حُسین پیر، جو مقامی کشمیری نوجوان ہے، اپنے ساتھیوں کےہمراہ ہِری سے ترہگام پہنچا اور رات کے تین بجے محمد اشرت کے گھر کے اُسی کمرے میں داخل ہوا جہاں اس کی بہن آمنہ مسعودی سوئی تھی۔
اشرف کا کہنا ہے کہ اس نے اپنی بہن کی چیخ و پکار سُنی اور وہ جب کمرے میں پہنچا تو وہاں اس کی بہن برہنہ حالات میں تھی اور عاشق حُسین کھڑکی سے بھاگ رہا تھا۔
پولیس نے آمنہ کے لواحقین کی شکایت پر عاشق حُسین کو گرفتار کرکے اس کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کرلیا ہے۔ تاہم مقامی لوگ آمنہ کی طبی جانچ سے متعلق رپورٹ کے بارے میں تذبذب کا شکار ہیں اور انہیں خدشہ ہے کہ انتظامیہ معاملہ کو دبانے کی کوشش رہی ہے۔
تاہم ضلع مجسٹریٹ شکیل میر نے بتایا ہے کہ پوسٹ مارٹم سے آمنہ کے قتل کی تصدیق ہوگئی ہے اور ابتدائی تفتیش کی بنا پر پولیس نے ملزم عاشق کو بھی گرفتار کرلیا ہے۔ شکیل میر کے مطابق ریپ کے بارے میں ابھی کچھ نہیں کہا جاسکتا کیونکہ انتظامیہ نے فارینزِک لیبارٹری سے تعاون طلب کیا ہے۔ ’ان کی رپورٹ آئے گی تو بات صاف ہوجائے گی۔‘
طبی جانچ کی رپورٹ کا مطالبہ کررہے کپواڑہ کے باشندوں نے جمعرات کو رات بھر احتجاج کیا اور آمنہ کی لاش کو جانچ مکمل ہونے تک دفنانے سے انکار کیا۔ تاہم جمعہ کی صبح مقامی انتظامیہ کی یقین دہائی کے بعد آمنہ کے جنازے میں سینکڑوں لوگوں نے شرکت کی جسکے بعد اسے مقامی قبرستان میں دفنایا گیا۔
واضح رہے شوپیان میں دوہرے ریپ و قتل کے معاملے پر پچھلے چالیس روز سے وادی میں تناؤ جاری ہے جبکہ شوپیان ضلع میں ہڑتال اور مظاہروں کا سلسلہ بلاناغہ جاری ہے۔ اس کیس کی تفتیش کررہے عدالتی کمیشن نے ایک ماہ کی چھان بین کے بعد حتمی رپورٹ حکومت کو پیش کردی ہے، جسے عنقریب منظرعام پر لایا جارہا ہے۔
© MMIX