
اُنتیس مئی کی رات کو جنوبی ضلع شوپیان میں بائیس سالہ نیلوفر اور اس کی سترہ سالہ نند آسیہ کو جنسی زیادتی کے بعد قتل کیا گیا تھا
پچھلے چالیس روز سے کشیدگی اور تشدد کا باعث بنے دوہرے قتل و ریپ معاملے کی تفتیش کرنے والے عدالتی کمیشن نے ایک ماہ کی چھان بین کے بعد اس واردات میں 'سرکاری ایجنسی' کو ملوث قرار دیا ہے ۔ تاہم ابھی تک جُرم کا ارتکاب کرنے والے افراد کی شناخت نہیں ہوسکی ہے۔
اُنتیس مئی کی رات کو جنوبی ضلع شوپیان میں بائیس سالہ نیلوفر اور اس کی سترہ سالہ نند آسیہ کو جنسی زیادتی کے بعد قتل کیا گیا تھا۔ ہمہ گیر اور پرتشدد احتجاجی لہر کے بعد حکومت نے اس معاملہ کی تفتیش کے لیے ایک نفری عدالتی کمیشن قائم کیا۔ کمیشن نے درجنوں شواہد کی تفاصیل اور گواہوں کے بیانات اور واقعات کے تجزیہ پر مشتمل مفصل رپورٹ حکومت کو سونپ دی ہے۔
اگرچہ کمیشن کے سربراہ جسٹس (ریٹائرڑ ) مظفرجان نے رپورٹ کی تفصیلات دینے سے انکار کیا ہے، تاہم انہوں نے بی بی سی کو بتایا : 'ہم نے اہم شواہد کی بنا پر یہ رائے قائم کرلی ہے کہ ایک سرکاری ایجنسی ہے جو فی الوقت شوپیان میں تعینات ہے، جو اس واردات میں ملوث ہے۔' واضح رہے شوپیان میں بھارتی نیم فوجی عملہ سی آر پی ایف اور پولیس کے خصوصی ٹاسک فورس کے کمیپ ہیں۔
جسٹس جان نے بُدھ کی شام تفتیشی رپورٹ صوبائی حکومت کے محکمہ قانون کو پیش کی۔ محکمہ قانون کے سیکریڑی اختر کوچک نے بی بی سی کو بتایا: 'یہ انتہائی حساس معاملہ ہے۔ رپورٹ کا مطالعہ صرف وزیراعلیٰ کرسکتے ہیں۔ ہم نے رپورٹ کو براہ راست وزیراعلیٰ کو سونپ دیا ہے۔'
قابل ذکر ہے کہ جسٹس جان کی رپورٹ میں حکومت سے کہا گیا ہے کہ رپورٹ کی تفصیلات کو مشتہر کرکے عوام کو اس واردات میں ملوث 'ایجنسی' سے آگاہ کرے۔
اس سلسلے میں مسٹر کوچک نے کہا کہ وزیراعلیٰ اس رپورٹ کا مطالعہ کررہے ہیں اور وہ حقائق کو دو ایک روز میں عوام کے سامنے لائینگے۔
اس سے قبل پیش کی جاچکی جان کمشن کی ہی عبوری رپورٹ کی بنا پر حکومت نے تین پولیس افسروں، فارینزک لیبارٹری کے ایک عہدیدار اور بعض ڈاکٹروں کو معطل کردیا تھا۔
اس واردات میں جان کمیشن نے جن گواہوں کے بیانات ریکارڑ کئے ہیں، انہوں نے واردات کے وقت پولیس کی گاڑی کو دیکھا تھا، اور اس کے اندر سے خواتین کے چینخنے کی آوازیں سُنی تھیں۔ لہٰذا بعض حلقے باور کرہے ہیں کہ یہ جرم پولیس اہلکاروں نے کیا ہے۔
تاہم ابھی یہ قطعی طور نہیں کہا جاسکتا کہ آیا اس میں پولیس ہی ملوث ہے یا کوئی اور فورس جسے کمیشن نے 'سرکاری ایجنسی' سے تعبیر کیا ہے۔ لیکن حکومت کے لئے اب بڑا چلینج یہ ہے کہ وہ کس طرح اُن افراد کو ڈھونڈ نکالتی ہے، جنہوں نے واقعی اس جرم کا ارتکاب کیا تھا۔ کیونکہ جان کمیشن صرف 'ایجنسی' کا تعین کرسکی ہے، جرم کرنے والے افراد کا نہیں۔
اس دوران شوپیان ضلع میں آج چالیسویں روز بھی ہڑتال رہی اور ضلع کے مردوزن جگہ جگہ احتجاج کرتے ہیں۔
© MMIX