
جج کے ریمارکس پر بھارتی مسلمان کافی ناراض تھے
ہندوستان کی سپریم کورٹ کے ایک جج نے ایک مقدمے کی سماعت کے دوران داڑھی رکھنے کو طالبانی ذہنیت سے منسوب کرنے کے لیے معافی معانگی ہے۔ انہوں نے اس مقدمے میں ایک مخصوص صورتحال میں داڑھی رکھنے کے خلاف دیا گیا اپنا فیصلہ بھی واپس لے لیا ہے۔
مدھیہ پردیش کے ایک مسلم طالب علم محمد سلیم نے سپریم کورٹ میں ایک عرضی داخل کی تھی جس میں کہا گیا تھاکہ جس غیر مسلم اقلیتی سکول میں وہ زیر تعلیم ہے وہاں داڑھی رکھنے کی اجازت نہیں ہے۔ سلیم کا کہنا تھا کہ داڑھی ان کے مذہبی عقیدے کا لازمی جزو ہے اس لیے سکول کے فیصلے سے اس کے بنیادی حقوق کی خلاف ووزی ہوتی ہے۔
ان مشاہدوں کا مقصد ہرگز کسی کو تکلیف پہنچانا نہیں تھا ۔ لیکن اگر کسی کے احساسات کو تکلیف پہنچی ہے تو اس کے لیے جسٹس کاٹجو معافی کے خواستگار ہیں اور تاسف کا اظہار کرتے ہیں۔
جسٹس مارکنڈے کاٹجو نے تیس مارچ کو سلیم کی یہ پٹیشن یہ کہہ کر خارج کر دی تھی کہ داڑھی مذہب کا اختیاری پہلو ہے نہ کہ لازمی۔ انہوں نے اپنے فیصلے میں یہ بھی کہا تھا کہ آئین کی رو سے اقلیتی تعلیمی اداروں کو اپنے ضوابط وضع کرنے کا اختیار ہے اور اس میں مداخلت نہیں کی جا سکتی ۔ جس بات پر بعض اسلامی تنظیموں نے اعتراض کیاتھا وہ ان کا اس فیصلے کے دوران ایک زبانی جملہ تھا۔
جسٹس کاٹجو نے اپنے مشاہدے میں کہا تھا ’ہم ملک میں طالبان نہیں چاہتے۔ کل کوئی طالبہ عدالت آتی ہے اور یہ مطالبہ کرے کہ وہ برقعہ پہننا چاہتی ہے تو کیا ہم اس کی اجازت دے دیں ۔ ہمیں حقوق اور انفرادی عقیدے کے درمیان توازن برقرار رکھنے کی ضرورت ہے۔‘
طالب علم محمد سلیم نے مارچ کے اس فیصلے پر نظر ثانی کی اپیل دائر کی تھی ۔ سلیم کا کہنا تھا کہ ’داڑھی کو طالبانی ذہنیت سے منسوب کرنے کے مشاہدے سے ملک اور عدلیہ کی شبیہ کو شدید نقصان پہنچا ہے اور اس سے مسلم برادی کے مذہبی جذبات مجروح ہوئے ہیں اس لیے اس فیصلے پر نظر ثانی کی جائے۔‘
جسٹس کاٹجو اور جسٹس روندرن کی قیادت میں ایک بنچ نے ریویو پٹیشن کی سماعت کرنے کے بعد اپنے فیصلے میں کہا کہ چونکہ عرضی گزار نے جسٹس کاٹجو کی غیر جانبداری کے بارے میں اندیشے ظاہر کیے ہیں اس لیے اس معاملے کو دوسری بنچ کے سپرد کیا جا رہا ہے، ساتھ ہی انہوں نے تیس مارچ کے فیصلے کو بھی واپس لے لیا ۔ یہ معاملہ اب چیف جسٹس کے سپرد کر دیا گیا ہے۔
بنچ نے اپنے فیصلے میں یہ بھی کہا کہ تیس مارچ کوفیصلہ سناتے وقت جسٹس کاٹجو نے کچھ مشاہدے کیے تھے ۔ ان مشاہدوں کا مقصد ہرگز کسی کو تکلیف پہنچانا نہیں تھا۔ ’لیکن اگر کسی کے احساسات کو تکلیف پہنچی ہے تو اس کے لیے جسٹس کاٹجو معافی کے خواستگار ہیں اور تاسف کا اظہار کرتے ہیں۔‘
سپریم کورٹ کے سینیر وکیل پرشانت بھوشن نے کہا یہ واقعی ایک غیر معمولی واقعہ ہے اور اس کے لیے جسٹس کاٹجو کی ستائش کی جانی چاہیے ۔’جس طرح ان کا ریمارک رپورٹ کیا گیا تھا اور جس طرح مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے تھے اس کے پیش نظر انہوں نے اپنا فیصلہ واپس لے لیا اور اور معاقی بھی مانگ لی‘۔
طالب علم محمد سلیم کے وکیل عبدالکریم انصاری نے بھی جسٹس کاٹجو کی ستائش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ نہ صرف ایک بہت قابل جج ہیں بلکہ وہ بہت اچھے انسان بھی ہیں ’انہوں نے جو باتیں کہی تھیں اس میں ان کی نیت بری نہیں تھی ۔ یہ ان کی عظمت ہے کہ انہوں نے اپنے ریمارکس کے لیے معافی مانگ لی۔‘
یہ معاملہ اب چیف جسٹس کے پاس ہے اور انہیں یہ طے کرنا ہے کہ انفرادی عقیدے اور اقلیتی ادارے کے ضوابط میں ٹکراؤ کی صورت میں کس کے حق کو فوقیت حاصل ہو گی۔
© MMX