Advertisement
آخری وقت اشاعت:  Wednesday, 1 july, 2009, 09:17 GMT 14:17 PST

بارہمولہ، نیم فوجی عملہ ہٹایا لیاگیا

بارہمولہ میں تعینات نیم فوجی عملہ کی جگہ امن و قانون کی حفاظت کے لئے جموں کشمیر آرمڈ پولیس کے دستے تعینات کئے جارہے ہیں

بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں صوبائی حکومت کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ سرکاری فورسز کی فائرنگ سے ہوئی ہلاکتوں کے ردعمل میں شمالی ضلع بارہمولہ میں تعینات نیم فوجی عملہ کو ہٹایا جا رہا ہے اور اس کی جگہ امن و قانون کی حفاظت کے لئے جموں کشمیر آرمڈ پولیس کے دستے تعینات کئے جا رہے ہیں۔

واضح رہے کہ منگل کو بارہمولہ میں مشتعل مظاہرین پر پولیس اور نیم فوجی عملہ نے تین مرتبہ فائرنگ کی جس میں چار نوجوان سروں میں گولی لگنے سے شدید زخمی ہو گئے تھے۔ ان میں دو کی منگل کو ہی موت واقع ہو گئی جبکہ دو نے بعد میں ہسپتال میں دم توڑ دیا۔

ان ہلاکتوں کے خلاف پوری وادی میں منگل سے ہی تین روزہ ہڑتال اور احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔ حالات کو بحال کرنے کے لئے وزیراعلیٰ نے دو سینئر وزراء، علی محمد ساگر اور پیرزادہ محمد سعید کو منگل کی دوپہر بارہمولہ روانہ کیا جہاں انہوں نے مقامی اکابرین سے مذاکرات کئے اور انہیں قصورواروں کو سزا دلوانے کا یقین بھی دلوایا۔

بارہمولہ کے شہری عبدالکریم شاہ نے بی بی سی کو فون پر بتایا کہ ’یہ تو عجیب بات ہے کہ جب ہلاکتیں ہوتی ہیں تو حکومت کہتی ہے کہ ایسی حرکتیں وہ برداشت نہیں کرے گی۔ کل جب دو سینئر وزراء لوگوں سے مذاکرات کررہے تھے تو سی آر پی ایف نے خان پورہ میں احتجاجی جلوس پر سیدھی فائرنگ کی اور فیاض احمد نامی چھبیس سالہ نوجوان موقع پر ہلاک ہوگیا۔‘

مقامی تاجر ولی محمد حجام کا کہنا ہے، ’ہم نے تو سی آر پی ایف ہٹانے کا مطالبہ نہیں کیا، ہم کہتے ہیں معمولی احتجاجی جلوس پر سیدھی فائرنگ کی وجہ بتائی جائے۔ حکومت ہم سب کو مارڈالنا چاہتی ہے کیا؟ ہم نے تو ووٹ بھی ڈالے، اب یہ لوگ کیا چاہتے ہیں۔‘

صوبائی حکومت میں شریک کانگریس کے صدر پروفیسر سیف الدین سوز نے بارہمولہ فائرنگ کے لئے انتظامیہ کی طرف سے تفتیش کے احکامات کو سراہا تو ہے لیکن ساتھ ہی پولیس اور نیم فوجی عملہ کی طرف سے جلوس پر فائرنگ کو ’ظالمانہ کارروائی‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ معمولی احتجاجی جلوس پر فائرنگ کا جواز نہیں بنتا تھا۔

بارہمولہ سے تعلق رکھنے والے حزب اختلاف پی ڈی پی کے سینئر راہنما دلاور میر نے حکومت کی کارروائی کو ’فسطائی طرزعمل‘ سے تشبیہ دیتے ہوئے اعلان کیا کہ، ’لوگ اب حکومت کی عوام کُش پالیسیوں کو برداشت نہیں کرینگے اور وہ اس فسطائی طرز عمل کے خلاف آٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔‘

قابل ذکر ہے کہ تیس مئی کو جنوبی ضلع شوپیان سے جن دو خواتین کی لاشیں ملی تھیں ان کے بارے میں حکومت کے نامزد عدالتی کمیشن نے ریپ اور قتل کی تصدیق تو کردی ہے، لیکن قصورواروں کی شناخت بہت بڑا چلینج بن گیا ہے۔ منگل کی شام کو حکومت نے تفتیشی رپورٹ پیش کرنے کی معیاد دس جولائی تک بڑھا دی۔ سیب اور اخروٹ کی کاشت کے لئے مشہور ضلع شوپیان میں پچھلے ایک ماہ سے مسلسل ہڑتال ہے اور لوگ دن بھر سڑکوں پر نیلوفر اور آسیہ کے قاتلوں کا سراغ مانگ رہے ہیں۔ اس واقعہ کے خلاف پوری وادی میں وقفہ وقفہ سے احتجاجی مظاہرے ہوتے رہتے ہیں۔

بی بی سی کو جانیں

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔