Advertisement
آخری وقت اشاعت:  Monday, 29 june, 2009, 11:08 GMT 16:08 PST

کشمیر، ہلاکت سے پھر کشیدگی

سکیورٹی فورسز بارہ مولہ میں احتجاج کے بعد کرفیو نافذ کر دیا ہے

بھارت کے زیرِانتظام کشمیر کے شمالی قصبے بارہ مولہ میں سرکاری فورسز کی فائرنگ سے ایک نوجوان کی موت کے خلاف ہزاروں لوگ احتجاج کرنے کے لیے سڑکوں پر نکل آئے جس کے بعد حُکام نے پورے ضلع بارہ مولہ میں کرفیو نافذ کر دیا ہے۔

بارہ مولہ پولیس کے ایک اعلی اہلکار نے بتایا ’یہ معاملہ دراصل ایک پندرہ سالہ لڑکے کے اغواء اور اس سے متعلق گرفتاریوں سے جُڑا ہے، لیکن اس سلسلے میں گرفتار ایک شہری کی بیوی نے پولیس پر زیادتیوں کا الزام عائد کرکے حالات کو بگاڑ دیا۔‘

بارہ مولہ کے رہائشی شوکت احمد نے بی بی سی کو بتایا کہ سوموار کی صبح ہزاروں لوگ بارہ مولہ کے پولیس تھانہ کی طرف مارچ کرنے لگے تو پولیس اور ’سی آر پی ایف‘ اہلکاروں نے ان پر فائرنگ کی جس کے نتیجہ میں چار افراد زخمی ہوگئے، جن میں جلال صاحب بارہ مولہ کا محمد سلیم زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے سرینگر کے ایک ہسپتال میں دم توڑ کر گیا۔

عینی شاہدین کے مطابق یہ واقعہ اتوار کی شام اس وقت پیش آیا جب ایک مقامی خاتون نسیمہ پولیس سٹیشن کے باہر احتجاج کرنے لگی اور اس نے وہاں پر جمع لوگوں کو بتایا کہ جب وہ اپنے خاوند کی رہائی کا مطالبہ کرنے کے لیے پولیس تھانہ میں گئی تو پولیس حکام نے اس کو نازیبا کلمات کہے اور اس کے ساتھ دست درازی بھی کی۔ خاتون کے اس بیان سے مشتعل ہوکر مقامی نوجوانوں نے احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شروع کر دیا۔

ضلع کے سینئر پولیس افسر وپلو کمار کے مطابق ’پندرہ جون کو بارہ مولہ کے نزدیکی گاؤں کے عبدالرشید گنائی نے اپنی پندرہ سالہ بیٹی کے لاپتہ ہونے کی رپورٹ پولیس میں درج کی تھی۔ اسی تفتیش کےسلسلے میں بارہ مولہ میں کافی عرصہ سے سرینگر کے رہائشی محمد یوسف اور معراج الدین کو پولیس نے دور روز قبل گرفتار کرلیا۔

پولیس افسر وپلو کمار نے کہا کہ یوسف کی بیوی بارہ مولہ پولیس سٹیشن پہنچی اور اپنے خاوند کی رہائی کا مطالبہ کرنے لگی جس پر اسے بتایا گیا کہ وہ ایک نابالغ لڑکی کےاغوا میں زیر تفتیش ہے اور اس کے خلاف باقاعدہ کیس درج ہے۔ اس کے بعد اس نے باہر جاکر شورمچایا اور حالات بگڑ گئے۔

وپلو کمار کا مزید کہنا ہے کہ مغویہ لڑکی کو اتوار اور سوموار کی درمیانی رات کو سرینگر کے صورہ علاقہ سے برآمد کرلیاگیا اور کیس کی مزید تفتیش ہو رہی ہے۔

واضح رہے جنوبی ضلع شوپیان میں تیس مئی کو دو خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی اور قتل کے معاملہ پر ہڑتال اور مظاہروں کا سلسلہ پچھلے ایک ماہ سے جاری ہے اور مقامی لوگوں نے اعلان کیا ہے کہ قصورواروں کو سزا دلوانے تک وہ احتجاج جاری رکھیں گے اور اسے دوسرے اضلاع تک پھیلائیں گے۔

اِدھر حکومت نے بار بار یہ اعلان کررکھا ہے کہ قصور وار چاہے کوئی بھی اسے سزا دی جائے گی۔ اس کیس کی تفیش حکومت کا نامزد عدالتی کمیشن کررہا ہے۔

بی بی سی کو جانیں

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔