
جمعرات کو قومی اسمبلی نے یکم جولائی سے شروع ہونے والے نئے مالی سال کے لیے پیش کردہ چوبیس کھرب بیاسی ارب تیس کروڑ روپوں کے وفاقی بجٹ کی منظوری دے دی ہے۔
بجٹ منظوری کے وقت اپوزیشن نے اس کی مخالفت نہیں کی جس پر حکومتی اتحاد کے چیف وہپ اور وفاقی وزیر برائے محنت و افرادی قوت سید خورشید احمد شاہ نے بجٹ کی منظوری پر اپوزیشن کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ حکومت اور حزب مخالف ایک ہی گاڑی کے دو پہیے ہیں۔
حزب مخالف کی مسلم لیگ (ن) کے چیف وہپ شیخ آفتاب نے کہا کہ انہوں نے میاں نواز شریف کی پالیسی کے تحت ان کی جماعت نے بجٹ کی منظوری میں حکومت سے تعاون کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت وسطی مدت کے انتخاب کے حق میں نہیں ہے اور چاہتی ہے کہ موجودہ حکومت اپنی مدت پوری کرے۔
حزب مخالف کی ایک اور جماعت مسلم لیگ(ق) کے چیف وہپ ریاض حسین پیرزادہ نے کہا کہ حکومت نے بڑے مشکل حالات میں بجٹ پیش کیا ہے اور اس کی منظوری پر وہ حکومت کو مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی اور سید خورشید شاہ کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اچھا کردار ادا کیا ہے۔
میاں ریاض حسین پیرزادہ اور شیخ آفتاب نے سپیکر قومی اسمبلی سے سفارش کی کہ قومی اسمبلی کے ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کیا جائے۔
قبل ازیں بجٹ کی منظوری کی تحریک وزیر مملکت حنا ربانی کھر نے پیش کی اور انہوں نے گریڈ ایک سے سولہ تک کے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے، موبائل فون سے پیغام بھیجنے پر عائد ٹیکس سمیت دیگر ٹیکس مراعات کے سلسلے میں فنانس بل برائے مالی سال سنہ دو ہزار نو اور دس میں ترامیم بھی پیش کیں۔
واضح رہے کہ یکم جولائی سے شروع ہونے والے نئے مال سال کا بجٹ سات سو بائیس ارب پچاس کروڑ روپے خسارے کا بجٹ ہے۔ بجٹ میں پندرہ سو تیرہ ارب دس کروڑ روپے ٹیکس کی وصولی کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ لیکن ساتھ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ٹیکس وصول کرنے والا ادارہ تیرہ سو اٹھہتر ارب روپے وصول کر پائے گا۔
دفاع کے لیے بجٹ میں تین سو بیالیس ارب نوے کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ ریٹائرڈ فوجیوں کو دی جانے والی پنشن کی رقم اس میں شامل نہیں ہے۔ رواں سال میں دفاع کے لیے دو سو چھیانوے ارب روپے رکھے گئے لیکن اصل اخراجات تین سو گیارہ ارب تیس کروڑ روپے کیے گئے اور اس برس دفاعی بجٹ میں بتیس ارب روپے کا اضافہ کیا گیا ہے۔
دریں اثناء جمعرات کو پاکستان کی قومی کرکٹ ٹیم نے سپیکر قومی اسمبلی کی دعوت پر ایوان کی کارروائی دیکھی۔ قومی کرکٹ ٹیم جمعرات کی رات سپیکر کی جانب سے اپنے اعزاز میں دیے جانے والے عشائیے میں بھی شرکت کرے گی۔
© MMIX