
شوپیان میں بدھوار کو سترہویں روز بھی عام زندگی معطل رہی
دو ہفتوں سے وادی بھر میں کشیدگی کی وجہ بنے دوہرے قتل اور ریپ کیس کی تحقیقات کررہے عدالتی کمیشن نے اعتراف کیا کہ اسے عینی شاہدین کو ڈھونڈنے اور بیانات قلمبند کروانے میں مشکلات کا سامنا ہے۔
ریٹائرڑ جسٹس مظفر احمد جان اس تفتیشی کمیشن کے سربراہ ہیں جو تیس مئی کی صبح جنوبی ضلع شوپیاں مردہ پائی گئ بائیس سالہ حاملہ خاتون نیلوفر اور اس کی سترہ سالہ نند آسیہ کے ساتھ جنسی زیادتی اور انہیں قتل کئے جانے سے متعلق شواہد جمع کررہا ہے۔
جسٹس جان نے بی بی سی کو بتایا ' ہم نے کافی گواہوں یا دوسرے لوگوں جن کا اس کیس سے کوئی بھی تعلق ہے، کے بیانات ریکارڑ کئے ہیں۔ لیکن ابھی تک کوئی ٹھوس گواہ سامنے نہیں آرہا ہے۔ ہمیں مشکلات درپیش ہیں، کیونکہ ایک تو شوپیان میں حالات کشیدہ ہیں اور پتھراؤ کا سلسلہ جاری ہے، دوسرے لوگ بھی ڈرے اور سہمے ہوئے ہیں اور کوئی گواہی دینے کے لئے سامنے نہیں آرہا ہے۔'
دریں اثنا شوپیان میں بدھوار کو سترہویں روز بھی عام زندگی معطل رہی اور لوگوں نے سڑکوں پر آکر احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری رکھا۔

لوگوں نے سڑکوں پر آکر احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری رکھا۔
واضح رہے اس سلسلے میں پولیس نے فارینسک لیبارٹری کی رپورٹ میں جنسی زیادتی اور قتل کی تصدیق ہونے کے بعد متعلقہ ضابطوں کے تحت باقاعدہ کیس رجسٹر کئے ہیں۔ لیکن حکومت کے سامنے چلینج یہ ہے کہ وہ اصل مجرموں کو پکڑ کر انہیں قرار واقعی سزا دے۔
شوپیان میں بدھوار کی دوپہر کو سکولی طالبات نے احتجاجی مارچ کیا اور تب تک کلاسز کا بائیکاٹ کرنے کا اعلان کی جب تک قصور واروں کو سزا نہیں دی جاتی۔
اس دوران پچھلے دو ہفتوں سے زائد تناؤ اور کشیدگی کے دوران مختلف مظاہروں میں پولیس ایکشن کے دوران دو نوجوان ہلاک ہوگئے ہیں جبکہ متعدد دیگر زخمی ہوگئے۔
حکومت نے شوپیان نے اعلیٰ پولیس افسر جاوید اقبال کو ہٹا کر وہاں نئے ایس پی کو تعینات کیا ہے۔ لیکن حزب اختلاف پی ڈی پی اور علیٰحدگی پسند حریت کانفرنس نے الزام عائد کیا ہے کہ حکومت نے شوپیان کے سابق ایس پی کو وہاں سے ہٹا کر بہتر جگہ پر تبدیل کیا ہے، جہاں پر تبدیلی کے لئے پولیس محکمہ میں لابنگ ہوتی ہے۔
© MMIX