
کشمیر میں گزشتہ آٹھ روز سے مظاہرے ہو رہے ہیں
ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں آٹھ روز سے جاری ہڑتال اور مظاہروں کے بعد پولیس نے انکشاف کیا ہے کہ شوپیان میں تیس مئی کی صبح مردہ پائی گئیں دو خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی ہوئی تھی۔
اس سے قبل حکومت کا مؤقف تھا کہ دونوں پانی میں ڈوبنے سے مر گئیں تھیں۔ تاہم دونوں کی موت کی وجہ جاننے کے لئے پولیس کو ڈاکٹروں کی حتمی رائے کا انتظار ہے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ فارینسِک سائنس لیبارٹری نے قریب ایک ہفتہ تک معاملہ کی تفتیش کے بعد جو رپورٹ حکومت کو پیش کی ہے اس کے مطابق بائیس سالہ حاملہ خاتون نیلوفر اور اس کی سترہ سالہ نند آسیہ کی موت سے ذرا قبل دونوں کے ساتھ اجتماعی جنسی زیادتی کی گئی ہے۔
اس سلسلے میں پولیس نے ریپ سے متعلق مقامی قانون کی دفعہ تین سو چھیاتر کے تحت باقاعدہ ایف آئی آر درج کر لی ہے ، تاہم رپورٹ میں کسی فوجی یا سِول کو قصوروار نہیں ٹھہرایا گیا ہے۔
واضح رہے اُنتیس مئی کی شام سرینگر سے ساٹھ کلومیٹر دُور جنوبی کشمیر کے ضلع شوپیان کے شکیل احمد آہنگر کی بائیس سالہ حاملہ بیوی، شکیل کی نابالغ بہن آسیہ کے ساتھ باغ میں کسی کام سے گئی اور لاپتہ ہوگئیں۔ دوسرے دن صبح دونوں کی لاشیں بہت کم گہرائی والے نالہ رمبی آرا میں پائی گئیں۔
حکومت نے عبوری طور پر یہ اخذ کر لیا کہ دونوں پانی میں ڈوب جانے کی وجہ سے مرگئی ہیں۔ لیکن بعد میں پوری وادی میں مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوا اور اس دوران ہڑتال کی وجہ زندگی معطل ہوکر رہ گئی۔

حکومت نے عبوری طور پر یہ اخذ کرلیا کہ دونوں پانی میں ڈوب جانے کی وجہ سے مرگئی ہیں
مظاہرین کے خلاف پولیس ایکشن کے دوران ایک اٹھائیس سالہ نوجوان نثار احمد سر میں اشک آور گیس کا گولہ لگنے سے ہلاک ہوگیا جبکہ سینکڑوں دیگر زخمی ہوگئے۔
حکومت نے اس پورے واقعہ کی آزادنہ تفتیش کے لیے ریٹائرڑ جج جسٹس مظفر جان کی قیادت میں یک نفری تحقیقاتی کمیشن قائم کیا ہے، جو اس واردات کے تمام پہلوؤں کی جانچ کرے گا اور ایک ماہ کے اندر اندر حکومت کو رپورٹ پیش کرے گا۔
جسٹس جان نے بی بی سی کو بتایا ’ہمارا کام حقیقت کا پتہ لگانا ہے۔ پولیس کی تفتیش کے ساتھ ہمارا کوئی لینا دینا نہیں۔ اگر مقتول خواتین کے اہل خانہ، شوپیان کے لوگوں اور دوسرے ایسے حلقوں جنہیں واقعہ کے بارے معلومات ہیں، نے ہمارے ساتھ تعاون کیا تو ہم صرف دو ہفتوں کے اندر اندر پتہ لگائیں گے کہ اصل میں کیا ہوا تھا۔‘
دریں اثنا علیحدگی پسند رہنماؤں نے حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ معاملہ کو دبانے کی کوشش کررہی ہے۔ حُریت کانفرنس کے متوازی دھڑوں کے سربراہان سید علی گیلانی اور میر واعظ عمر فاروق نے الگ الگ بیانات میں کسی آزادانہ عالمی ادارے کے ذریعہ اس واردات کی تفتیش کا مطالبہ کیا ہے۔
اکتیس مئی سے مسلسل ہڑتال اور مظاہروں کے بعد مسٹر گیلانی نے سوموار کو شوپیان میں اجتماعی فاتح خوانی کا اعلان کیا تھا اور وادی کے تمام لوگوں سے اپیل کی تھی کہ وہ ’شوپیان چلو‘ پروگرام میں شمولیت کریں۔ لیکن اتوار کی شب پولیس نے گیلانی سمیت تمام سرکردہ علیحدگی پسند رہنماؤں کو گرفتار کر لیا۔

شوپیان میں مقامی وکلاء نے نجی سطح پر معاملہ کی تفیش شروع کردی ہے۔
عدالت نے شبیر احمد شاہ اور بعض دیگر علیحدگی پسند رہنماؤں کو سولہ جون تک عدالتی ریمانڈ کے تحت سینٹرل جیل منتقل کرنے کا حکم دے دیا ہے۔
اُدھر شوپیان میں مقامی وکلاء نے نجی سطح پر معاملہ کی تفیش شروع کر دی ہے۔
مقتولہ نیلوفر کے خاوند شکیل آہنگر نے دعویٰ کیا ہے کہ حکومت کے پاس کافی ثبوت موجود ہیں اور وہ جان بوجھ کر حقائق کا اعتراف نہیں کر رہی ہے۔
شکیل کہتے ہیں کہ وہ تعزیت کا اظہار کرنے والوں کے لیے اپنے گھر کے دروازے بند نہیں کر سکتے، تاہم انہوں نے سیاستدانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس معاملہ کو لے کر سیاست نہ کریں۔ شکیل کا کہنا ہے ’ ہم انصاف چاہتے ہیں۔ اگر حکومت تاخیر کرے گی تو ہم غیر معینہ عرصہ کے لیے بھوک ہڑتال بھی کریں گے۔‘
شکیل نے کوئی سرکاری معاوضہ لینے سے انکار کرتے ہوئے کہا ’اگر سرکار ہمیں انصاف دلانے کے لیے کوئی رقم چاہتی ہے، ہم پیسے دینے کے لیے بھی تیار ہیں۔ لیکن ہمیں کوئی ریلیف، کوئی نوکری کچھ نہیں چاہیے، ہم چاہتے ہیں کہ اگر قصورواروں کو سزا ملتی ہے تو کشمیر کی باقی بیٹیوں کی حفاظت ممکن ہوگی۔‘
© MMIX