Advertisement
آخری وقت اشاعت:  Saturday, 30 may, 2009, 11:51 GMT 16:51 PST

کشمیر میں شدید مظاہرے

کشمیری

خواتین کی لاشیں سنیچر کو برآمد ہوئی ہیں

انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے جنوبی ضلع شوپیان میں پولیس نے سنیچر کی صبح ایک ندی رمبی آرا سے ایک لڑکی اور ایک جواں سال خاتون کی لاش برآمد کی ہے۔

ان خواتین کے دوہرے قتل کی خبر پھیلتے ہی پورے قصبہ میں لوگوں نے نیم فوجی عملے کے خلاف پُرتشّدد مظاہرے شروع ہوگئے۔ اس دوران شوپیان اور پلوامہ کے بعض علاقوں میں ہڑتال ہوگئی اور پولیس کی گشت تیز کردی گئی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ بون گام شوپیان کے شکیل احمد آہنگر نے جمعہ کی شام پولیس میں رپورٹ لِکھوائی کہ اس کی بائیس سالہ بیوی نیلوفر جان اور سترہ سالہ بہن آسیہ ڈیڑھ کلومیٹر دُور ناگہ بل میں واقع اپنے میوہ کے باغ میں کام کے دوران لاپتہ ہوگئیں۔

شوپیان کے ڈی ایس پی روہِت شرما نے بی بی سی کو بتایا ’رات کے بارہ بجے ہمیں شکایت ملی تو ہم نے تلاش شروع کردی۔ سنیچر کی صبح چھ بجے ہمیں ان دونوں کی لاشیں رمبی آرا ندی سے برآمد ہوئیں۔ مقامی لوگوں کا اصرار تھا کہ پوسٹ مارٹم کے لیے باہر سے ٹیم لائی جائے۔ ٹیم یہاں پہنچ چکی ہے۔ وہ اپنی رپورٹ سوموار کو پیش کرے گی۔ طبی جانچ اور پوسٹ مارٹم کی رپورٹ سوموار کو تیار ہوگی۔‘

پولیس کا کہنا ہے کہ دونوں خواتین کی ابتدائی جانچ کی گئی ہے اور ان کے جسم پر تشدد کے نشانات نہیں ہیں۔

تاہم مقتولہ آسیہ کے بڑے بھائی ریاض احمد آہنگر کا کہنا ہے کہ دونوں کی کلایئوں، ٹانگوں اور چھاتیوں پر ناخنوں کی کھروچیں اور خون جم جانے کے نشانات نمایاں ہیں۔

ریاض کا کہنا ہے کہ جمعہ کو رات آٹھ بجے جب گھر والوں نے دونوں کے موبائل پر فون کیا تو انہوں نے کہا کہ کسی کام سے اُنہیں دیر ہوگئی اور وہ بس نکل رہی ہیں۔ ریاض کے مطابق جب آٹھ بجکر بیس منٹ پر دوبارہ فون کیا گیا تو ان کا فون سوئچ آف تھا۔

کشمیری

کشمیریوں نے لاشيں ملنے کے بعد فوج کے خلاف مظاہرے کیے اور دکانیں بند رکھیں

مقامی لوگوں کا الزام ہے کہ بون گام سے ناگہ بل کے درمیان نیم فوجی سی آر پی ایف کی بارہویں بٹالین کا کمیپ بھی پڑتا ہے۔

مقامی لوگوں اور مقتول خواتین کے لواحقین کا الزام ہے کہ کیمپ سے وابستہ اہلکاروں نے دونوں خواتین کو اغوا کرلیا اور کمیپ میں ان کی عصمت ریزی کرنے کے بعد انہیں قتل کیا اور نالہ رمبی آرا میں پھینک دیا۔

مقامی لوگوں نے ان ہلاکتوں کے خلاف شدید مظاہرے کئے اور کاروباری سرگرمیاں معطل کردیں۔ شوپیاں کے متعدد مقامات پر مشتعل مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پولیس نے اشک آور گیس کے گولے داغے جس کے نتیجہ میں پندرہ افراد زخمی ہوگئے۔ قصبہ میں کشیدگی پائی جارہی ہے۔

دریں اثناء سید علی گیلانی، شبیر احمد شاہ اور دوسرے سرکردہ علیٰحدگی پسندوں کو حکومت نے پہلے ہی اپنے گھروں میں نظر بند کر رکھا ہے۔ کئی علیحدگی پسند گروپوں اور بعض ہندنواز جماعتوں نے اس واقعہ کی آزادانہ تفتیش کا مطالبہ کیا ہے۔

بی بی سی کو جانیں

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔