
پورے ملک کی طرح ریاست اتر پردیش کے مشرقی علاقے میں واقع اعظم گڑھ ضلع ميں بھی عام انتخابات کے لیے سیاسی ہلچل جاری ہے۔ یہاں سولہ اپریل کو ووٹنگ ہونے والی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ضلع میں تقریباً پندرہ لاکھ ووٹر ہیں اور ان میں مسلمان ووٹروں کی تعداد ڈھائی سے تین لاکھ ہے۔
یوں تو اعظم گڑھ میں بھارتیہ جنتا پارٹی کا کمل کا پھول (انتخابی نشان) سماجوادی پارٹی کی سائیکل، بہوجن سماج پارٹی کا ہاتھی اور کانگریس کا پنجا شہر ميں نظر آتا ہے لیکن ان انتخابات میں ہری، سفید اور لال پٹی والا ایک پرچم ہوا میں لہراتا ہوا نظر آتا ہے اور وہ ہے علماء کونسل کا۔
علماء کونسل کے جنم کی تاریخ شروع ہوتی ہے ستمبر دو ہزآر آٹھ میں دلی کے بٹلا ہاؤس پولیس مقابلے کے بعد سے۔ اس واقعہ کے بعد اس ضلع کو جس نے ہندوستان کی آزادی کی لڑائی میں ایک اہم کردار ادا کیا اور بعد میں راہل سنکراتاین اور شبلی نعمانی جیسے ادیب پیدا کیے، ذرائع ابلاغ میں ’دہشتگردی کا مرکز‘ کہا جانے لگا۔
بٹلا ہاؤس اینکاؤنٹر میں پولیس نے جن دو جوانوں کو دہشتگرد قرار دے کر ہلاک کر دیا تھا ان کا تعلق اعظم گڑھ سے تھا۔ اس واقعہ کے بعد سے تو چاہے وہ اتر پردیش کی پولیس ہو یا پھر ممبئی کا انسداد دہشتگردی سے نمٹنے کے لیے تشکیل دیا گیا خصوصی دستہ اور یا پھر گجرات یا راجستھان کی پولیس ہو۔ سبھی نے اپنی اپنی ریاستوں میں ہونے والے بم دھماکوں کے لیے اسی ضلع سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کی طرف انگلیاں اٹھانی شروع کر دیں۔

ہمارے لیے پہلے ملک ہے اور اگر اس سمت میں ہمیں مسلمانوں کا ووٹ نہ بھی ملے تو بھی ہمیں کوئی پریشانی نہیں: بی جے پی امیدوار
اس معاملے میں یہاں کے رہائشیوں نے حکومت سے مسلسل آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا لیکن حکومت نے انکار کر دیا۔ تاہم یہاں کے مسلمانوں نے اپنے احتجاج کو دلی تک پہچانے کے لیے ایک ٹرین بک کی اور ’دلی چلو‘ کا نعرہ دیا، اس کے بعد بھی حکومت کی طرف سے کوئی ردعمل نہ ملنے کے بعد علماء کونسل کا جنم ہوا۔
مٹھی بھر علماء کی کوشش کو آج اعظم گڑھ کے بیشتر مسلمان اپنے غصے کا اظہار کرنے کا ایک ذریہ قرار دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ضلع کے زیادہ تر مسلمان کہتے ہیں کہ وہ جیتیں یا ہاریں لیکن آئندہ انتخابات میں علماء کونسل کو ہی اپنا ووٹ دیں گے اور اپنا احتجاج درج کروائيں گے۔
شہر میں اگر مسلم علاقے میں تھوڑی دیر بات چیت کی جائے تو علماء کونسل کے اثر کا اندازہ ہو جاتا ہے۔ ایک ہوٹل کو چلانے والے عمران نے بتایا کہ عالم یہ ہے کہ علاقے میں اگر خود کوئی مسلمان بھی علماء کونسل کے خلاف بات کہہ دے تو نوبت مار پیٹ کی آ جاتی ہے۔
اس ضلع سے علماء کونسل کے امیدوار ڈاکٹر جاوید اختر اس بات کو تسلیم کرتے ہيں کہ انتخابی میدان میں اترنا بھلے ہی ایک جلد بازی ہو سکتی ہے لیکن ان کا مقصد صرف یہ پیغام پہنچانا ہے کہ مسلمان اکٹھے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ مسلمانوں کے لیے کانگریس بھی بھاریتہ جنتا پارٹی ہے، بہوجن سماج بھی بھارتیہ جنتا پارٹی اور سماجوادی پارٹی بھی بھاریتہ جنتا پارٹی ہے، مسلمان سب کو آزما چکا ہے اور اب مسلمان اکیلے ہی میدان میں اترے گا۔
علماء کونسل جذبات پر مبنی ایک اشو پر کھڑے ہوئے ہیں اور وہ ایک سوڈا واٹر کی طرح ہے جو ایک بار کھل جائے گا اس کے بعد اس میں کوئی جھاگ نہیں رہےگا
کانگریس امیدوار
پوچھے جانے پر کہ علماء کونسل کے ووٹ سے مسلمان ووٹ تقسیم ہوگا اور اس کا فائدہ کیا بھارتیہ جنتا پارٹی کو ہو سکتا ہے تو ان کا کہنا تھا کہ اگر بی جے پی اقتدار میں آبھی جاتی ہے تو بھی وہ مسلمانوں کے خلاف ایسا کیا کر لے گی جو اب تک نہیں ہوا ہے؟
جب دیگر پارٹیوں کے امیدواروں سے علماء کونسل کی مسلمانوں میں مقبولیت اور اس کے اثر کے بارے میں پوچھا گیا تو تقریباً سبھی نے علماء کونسل کے اثر کو تسلیم کرنے سے گریز کیا۔
بھاریتہ جنتا پارٹی کے امیدوار رماکانت یادو کا کہنا ہے کہ ہمارے لیے پہلے ملک ہے اور اگر اس سمت میں ہمیں مسلمانوں کا ووٹ نہ بھی ملے تو بھی ہمیں کوئی پریشانی نہیں۔
کانگریس کے امیدوار ستیش سنگھ نے کہا کہ علماء کونسل جذبات پر مبنی ایک اشو پر کھڑے ہوئے ہیں اور وہ ایک سوڈا واٹر کی طرح ہے جو ایک بار کھل جائے گا اس کے بعد اس میں کوئی جھاگ نہیں رہےگا۔
سماجوادی پارٹی کے امیدوار درگا پرساد یادو نے کہا کہ علماء کونسل پوری ریاست میں نہيں بلکہ ایک دو اضلاع میں ہے، ملائم سنگھ یادو نے مسلمانوں کے لیے ہمیشہ کام کیا ہے۔ بہوجن سماج پارٹی کے امیدوار اکبر احمد ڈمپی سے بار بار گزارش کرنے پر بھی ملاقات نہيں ہو سکی۔
ادھر ایک نجی تعلیمی انسٹیٹیوٹ سے تعلق رکھنے والے وشال بھارتی کا کہنا ہے کہ ’میں اس بات سے انکار نہیں کر سکتا کہ کچھ لوگوں کے ساتھ غلط ہوا ہے۔ یہ صحیح ہے کہ وہ غیر محفوظ محسوس کرنے لگے تھے۔ اس ملک میں سب کو اپنی بات کہنے کا حق ہے اور علماء کونسل نے جو بھی فیصلہ کیا وہ صحیح ہے۔‘
© MMX