Advertisement
  • 1951-52

    آزادی کے بعد پہلے انتخاب میں پہاڑی اور دشوار گزار علاقوں میں ووٹنگ برفباری سے پہلے ہی کرالی گئی تھی لیکن الیکشن جنوری فروری انیس سو باون میں ہوا

    اہمیت

    برطانوی حکمرانی سے نجات کے بعد کے پہلے عام انتخابات جو ہندوستان میں جہموری نظام حکومت کی پہلی اور سخت ترین آزمائش مانے جاتے ہیں۔ ایک ایسے ملک میں جہاں خواندگی کی شرح اور سیاسی بیداری بہت کم تھی، جہاں صرف پانچ سال پہلے فرقہ وارانہ تشدد میں لاکھوں لوگ مارے گئے تھے، جہاں بنیادی ڈھانچے کی تعمیر ٹھیک سے شروع بھی نہیں ہوئی تھی، یہ ایک انتہائی مشکل انتظامی چیلنج تھا۔ ووٹروں کی فہرستیں تیار کرنا، پولنگ بوتھ کہاں قائم کیے جائیں، بیلٹ پیپر کیسا ہو، ووٹوں کی گنتی کا انتظام کہاں ہو، اس کا کسی کو کوئی تجربہ نہیں تھا۔

    چونکہ زیادہ تر ووٹر ناخواندہ تھے لہذا بیلٹ پیپر پر امیدواروں کے نام کے ساتھ ساتھ ان کے انتخابی نشان بھی شائع کیے گئے۔

    نتائج

    ویسے تو اس وقت بھی ملک میں چودہ قومی پارٹیاں تھیں لیکن پورے ملک میں صرف کانگریس ہی کا دور دورہ تھا۔ کچھ حلقوں سے دو اور مغربی بنگال کی ایک سیٹ سے تین نمائندے منتخب کیے گیے۔ ملک میں کل چار سو ایک حلقے تھے جہاں سے چار سو نواسی ارکان پارلیمنٹ منتخب کیے گیے۔ کل رائے دہندگان سترہ کروڑ بتیس لاکھ۔ پولنگ چوالیس اعشاریہ ستاسی فیصد رہی

    کانگریس نے وزیر اعظم جواہر لال نہرو کی قیادت میں تین سو چونسٹھ سیٹیں حاصل کیں۔ دوسرے نمبر پر آزاد امیدوار رہے جنہوں نے سینتیس سیٹیں جیتیں۔

  • 1977

    ہندوستان کی آزادی کو تیس سال گزر چکے تھے اور ملک کو کانگریس کی مسلسل حکومت کی عادت سی ہوگئی تھی۔ لیکن انیس سو پچہتر میں اس وقت اچانک سب کچھ بدل گیا جب وزیر اعظم اندرا گاندھی نے ملک میں ایمرجنسی نافذ کردی کیونکہ عدالت نے رائے بریلی سے ان کے انتخاب کو غیر قانونی قرار دے دیا تھا۔

    اہمیت

    سن ستتر کے عام انتخابات کے بعد پہلی مرتبہ ملک میں غیر کانگریسی حکومت بنی اور ہندوستان کا سیاسی منظر نامہ ہمیشہ کے لیے بدل گیا۔ اس الیکشن کے بعد سے قومی سطح پر کسی نہ کسی شکل میں کانگریس کا ایک متبادل موجود رہا ہے۔

    نتائج

    اس وقت تک انتخابی حلقوں کی از سرنو حدبندی ہوچکی تھی اور لوک سبھا میں حلقوں کی تعداد پانچ سو بیالیس تھی۔ رائے دہندگان کی تعدا بتیس کروڑ تک پہنچ چکی تھی۔

    کی تعدا بتیس کروڑ تک پہنچ چکی تھی۔ لوگ ایمرجنسی سے بہت ناراض تھے اور انہوں نے اپنا غصہ ووٹ دیکر نکالا۔ تقریباً اکسٹھ فیصد لوگوں نے حق رائے دہی کا استعمال کیا۔ کانگریس کو صرف ایک سو چون سیٹیں ملیں اور اترپردیش جیسے صوبے میں، جو ہمیشہ سے کانگریس کا مضبوط قلعہ تھا، کانگریس کا صفایہ ہوگیا۔

    جنتا پارٹی کو، جس میں حزب اختلاف کی تقریباً سبھی بڑی جماعتیں شامل تھیں، دو سو پچانوے سیٹیں ملیں اور مورارجی دیسائی کی سربراہی میں ملک میں پہلی غیر کانگریسی حکومت قائم ہوگئی۔ اس حکومت میں اٹل بہاری واجپئی وزیر خارجہ تھے۔ لیکن مخلوط حکومت کا یہ پہلا تجربہ زیادہ کامیاب نہیں رہا اور انیس سو اسی میں وسط مدتی انتخابات کرانے پڑے۔

  • 1984

    تیس اکتوبر انیس سو چوراسی کو وزیر اعظم اندرا گاندھی کو ان کے ہی محافظین نے گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ سیاسی مورخین کے مطابق اس وقت کانگریس کی حالت اچھی نہیں تھی لیکن اندرا گاندھی کے قتل نے انتخابات کا رخ موڑ دیا۔

    ہمدردی کی لہر کے سامنے کوئی نہ ٹک سکا اور راجیوگاندھی کو اتنی بڑی اکثریت حاصل ہوئی جو نہ کبھی جواہر لال نہرو کو ملی تھی اور نہ اندرا گاندھی کو۔

    اہمیت

    چوراسی کے انتخابات دو وجہ سے اہم ہے۔ ہندوستان کی انتخابی تاریخ میں کسی بھی جماعت کے لیے اب تک کی سب سے بڑی کامیابی کے لیے اور ساتھ ہی اس وجہ سے بھی کہ اس کے بعد ہونے والے کئی انتخابات میں بابری مسجد کا مسئلہ چھایا رہا اور ہندوستان میں سیاست سیکولر اور نان سیکولر خطوط پر تقسیم ہوگئی۔

    نتائج

    اس الیکشن میں کانگریس نے چار سو چار سیٹیں حاصل کیں اور اسے تقریباً اننچاس فیصد ووٹ ملے۔ اقتدار کی طرف بھارتیہ جنتا پارٹی کا سفر بھی یہیں سے شروع ہوا اور اس نے دو سیٹیں حاصل کیں۔

  • 1991

    جس طرح اندرا گاندھی کے قتل نےسن چوراسی کے الیکشن کا رخ بدل دیا تھا، اسی طرح انیس سو اکیانوے میں راجیو گاندھی کا قتل اس الیکشن کے نتائج پر اثر انداز ہوا۔ کانگریس سب سے بڑی جماعت کے طور پر تو ابھری لیکن آزاد ہندوستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ نہرو گاندھی خاندان کا کوئی فرد اس کی سربراہی کے لیے موجود یا تیار نہیں تھا۔ سونیا گاندھی نے سیاست سے کنارہ کشی اختیار کی اور اس پس منظر میں نرسمہا راؤ وزیر اعظم بنے۔انہوں نے پانچ سال اقلیتی سرکار چلائی

    اہمیت

    منموہن سنگھ وزیر خزانہ بنے اور ہندوستان میں اقتصادی اصلاحات کا عمل شروع ہوا۔ ’انسپکٹر لائسنس راج‘ کے خاتمے کے ساتھ ہی ایک ایسے نظام کی بنیاد پڑی جسے ہندوستان میں اقتصادی ترقی کی موجودہ تیز رفتار کے لیے ذمہ دار مانا جاتا ہے۔ لیکن اسی دور میں بابری مسجد بھی مسمار ہوئی اور اس کے بعد بھڑکنے والے فسادات میں بڑی تعداد میں مسلمان مارے گئے۔

    نتائج

    کانگریس نے دو سو بتیس سیٹیں حاصل کیں اور جوڑ توڑ کی سیاست سے پانچ سال حکومت چلائی۔ بھارتیہ جنتا پارٹی پہلی مرتبہ دوسری سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری اور اس نے ایک سو بیس سیٹیں حاصل کیں۔

  • 1996

    ملک میں پہلی مرتبہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت بنی لیکن صرف تیرہ دن ہی چل پائی۔ عام انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی سب سے بڑی جماعت کے طور پر ابھری اور صدر شنکر دیال شرما نے اٹل بہاری واجپئی کو حکومت سازی کی دعوت دی۔ لیکن واجپئی دو سو اکہتر اراکین پارلیمنٹ کی حمایت حاصل نہیں کر سکے اور اعتماد کے ووٹ کے دوران ہی انہوں نے اعلان کیا کہ وہ صدر کو اپنا استعفی پیش کرنے جارہے ہیں۔

    اہمیت

    بی جے پی کی حکومت بھلے ہی تیرہ دن چلی لیکن اس سے پارٹی کارڈر کو یہ یقین ہوگیا کہ ان کی جماعت مرکز میں حکومت بناسکتی ہے۔ یہ لوک سبھا بھی اپنی مدت پوری نہیں کرسکی۔

    نتائج

    بھارتیہ جنتا پارٹی ایوان میں سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری اور اس نے ایک سو اکسٹھ سیٹیں حاصل کیں۔ کانگریس صرف ایک سو چالیس سیٹیں حاصل کر سکی۔ لیکن دلچسپ بات یہ تھی کہ کانگریس کو تقریباً انتیس فیصد ووٹ ملے جبکہ بی جے پی نے بیس فیصد ووٹ حاصل کیے۔

بی بی سی کو جانیں

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔