|
تہذیبی نرگسیت: ایک خطرناک روگ
|
|||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے علمی، ادبی، ثقافتی اور سیاسی حلقوں میں مبارک حیدر کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں۔
پینتالیس برس قبل ایک نوجوان جوشیلے مزدور لیڈر کے رُوپ میں شروع ہونے والا اُن کا سفر ارتقاء کی فطری منزلیں طے کرتا ہوا اِس پختہ عمری میں انہیں ایک متحمل مزاج لیکن زِیرک اور تجربہ کار انقلابی دانشور کی منزل تک لے آیا ہے۔ مبارک حیدر نے امریکہ کو محض سامراجی عفریت کہہ کر پیچھا نہیں چُھڑا لیا بلکہ اُس کے نظام میں کارفرما پائیدار عناصر کا تجزیہ بھی کیا اور جس نے ماسکو سے اپنی عقیدت کو محض لینن کے فریم شدہ پورٹریٹ تک محدود رکھنے کی بجائے خود ماسکو جاکر وہاں کے نظامِ معیشت اور معاشرتی ڈھانچے کا تنقیدی نگاہ سے مطالعہ کیا۔۔۔ اور یہ سب کچھ کرنے کے بعد اپنے عمر بھر کے تجربات کو آج کے نوجوانوں کے لئے تحریری شکل میں مرتب کرنے کا فیصلہ بھی کیا۔ مبارک حیدر نے وقت کے اہم ترین مسئلے ۔۔۔ دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے رجحان ۔۔۔ کی طرف خاص توجہ دی اور اس خطرناک سوچ کی طرف اہلِ وطن کی توجہ مبذول کرائی کہ شمالی علاقوں میں چلنے والی تحریک سے چونکہ بین الاقوامی سامراج یعنی امریکہ پر زد پڑ رہی ہے، اس لئے انقلابی اور عوام دوست قوتوں کو فوراً بنیاد پرست مذہبی عناصر کی حمایت میں باہر نکل آنا چاہیے۔
مبارک حیدر کے خیال میں اسطرح کی سوچ ہماری پوری قوم کی تہذیبی نرگسیت کا شاخسانہ ہے، اسی عنوان سے شائع ہونے والی اپنی حالیہ کتاب میں مبارک حیدر اس اصطلاح کا پس منظر بیان کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ قدیم یونان کی دیومالا میں نارسس نام کا ایک خوبصورت ہیرو ہے جو اپنی تعریف سنتے سنتے اتنا خود پسند ہو گیا کہ ہر وقت اپنے آپ میں مست رہنے لگا اور ایک روز پانی میں اپنا عکس دیکھتے دیکھتے خود پر عاشق ہوگیا۔ وہ رات دِن اپنا عکس پانی میں دیکھتا رہتا۔ پیاس سے نڈھال ہونے کے باوجود بھی وہ پانی کو ہاتھ نہ لگاتا کہ پانی کی سطح میں ارتعاش سے کہیں اسکا عکس بکھر نہ جائے۔ چنانچہ وہ اپنے عکس میں گُم بھوکا پیاسا ایک روز جان سے گزر گیا۔۔۔ اور دیوتاؤں نے اسے نرگس کے پھول میں تبدیل کردیا جو آج تک پانی میں اپنا عکس دیکھتا ہے۔ یہ تو تھی دیو مالائی کہانی، لیکن علمِ نفسیات میں نرگسیت کی اصطلاح بیماری کی حد تک بڑھی ہوئی خود پسندی کےلئے استعمال ہوتی ہے۔ یعنی جب گرد و پیش کے حقائق سے آنکھیں چُرا کر کوئی شخص اپنے آپ کو دنیا کی اہم ترین حقیقت سمجھنا شروع کردے اور اپنی ذات کے نشے میں بدمست رہنا شروع کردے۔
کتاب کے آخری حصّے میں مبارک حیدر نے خود قرآن و حدیث کے متن سے وہ حوالے پیش کیے ہیں جنہیں بنیاد پرست عناصر اپنی کارروائیوں کے حق میں سامنےلاتے ہیں۔ لیکن بقول مصنف ان عبارتوں سے کہیں بھی شدت پسندی اور ساری دنیا پر زبردستی چھا جانے اور اپنے نظریات مسلط کردینے کا جواز نہیں ملتا۔
آگے چل کر مصنف نے بنیاد پرستوں کے ایک ایک مفروضے پر تفصیلی بحث کی ہے اور اسے کج فہمی، ہٹ دھرمی اور کوتاہ نظری کا نتیجہ قرار دیا ہے۔ مصنف لکھتے ہیں: ’تہذیبی نرگسیت کی اساس نفرت پہ ہے اور منفی جذبوں کے اس شجر کا پھل وہ جارحیت ہے جِسے اکسانے کےلئے ایک چھوٹا سا عیّار اور منظم گروہ کئی عشروں سے ہمارے معاشروں میں سر گرمِ عمل ہے۔۔۔ یہ اقلیت کا اکثریت کے خلاف اعلانِ جنگ ہے۔‘ کتاب کی اختتامی سطروں میں مصنف کی طرف سے درجِ ذیل انتباہ بھی جاری کیا گیا ہے۔ ’تہذیبی نرگسیت کا علاج ممکن ہے لیکن اگر ہم نے خود تنقیدی کا راستہ اختیار نہ کیا تو عالمی برادری کو شاید یہ حق حاصل ہوجائے کہ وہ ہمارے یہ ہاتھ باندھ دے جن سے ہم نہ صرف اپنے بدن کو زخمی کرتے ہیں بلکہ نوعِ انسانی پر بھی وار کرتے ہیں۔‘ ظاہر ہے کہ اس کتاب کے مندرجات پر مختلف طبقوں کا ردِعمل ایک جیسا نہیں ہوگا لیکن کتاب میں ایسے بنیادی مسائل چھیڑے گئے ہیں جن کا تعلق ہماری روزمرّہ زندگی، ہمارے مستقبل اور ہماری بقاء سے ہے۔ چنانچہ معاشرے میں ان مسائل پر کھل کر بحث ہونا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ |
اسی بارے میں
’کرفیوڈ نائٹ کشمیر کی آپ بیتی ہے‘25 November, 2008 | فن فنکار
تقسیم ہند، کچھ مثالیں محبت کی16 November, 2008 | فن فنکار
کتاب جھوٹ کا پلندہ ہے: رشدی03 August, 2008 | فن فنکار
رشدی کے لیے ’بیسٹ آف بُکر‘10 July, 2008 | فن فنکار
|
|||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
|
||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
|
||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||