|
’کرفیوڈ نائٹ کشمیر کی آپ بیتی ہے‘
|
||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گذشتہ دو دہائیوں سے ہم کشمیر کو روزانہ اخباروں میں پڑھتے ہیں، ٹی وی پر دیکھتے ہیں۔ فوج کے محاصرے، شدّت پسند اور سابقہ شدّت
پسند، آزادی کے نعرے اور ’اٹوٹ انگ‘ کے دعوے دیکھتے سنتے ایک نسل جوان ہوگئی۔
کشمیری صحافی بشارت پیر کا تعلق اسی نسل سے ہے۔ انہوں نے اپنی کتاب Curfewed Night میں کشمیریوں کی کہانی انکی اپنی زبانی سنانے کی کوشش کی ہے۔ یہ کتاب ایک طرح سے بشارت پیر کی اور کشمیر کی آپ بیتی ہے۔ اس میں ان نوجوانوں کی کہانیاں ہیں جنہوں نے آزادی کے لیے بندوق اٹھائی۔ ان عورتوں کا قصہ ہے جن کے بیٹے ان کی آنکھوں کے سامنے مار دیے گئے۔ ان دلہنوں کا ذکر ہے جو اپنی شادی کے دن ہندوستانی فوج کے ہاتھوں ریپ ہوئیں۔ بشارت پیر کی کہانی انسانی المیوں سے بھری ہوئی ہے لیکن انکا لکھنے کا انداز غیر جذباتی ہے۔ کتاب کی ہندوستان کے میڈیا میں کافی پذیرائی ہوئی ہے۔ میں نے کتاب پڑھنے کے بعد ای میل کے ذریعے بشارت پیر سے چند سوال پوچھے: سوال: برِ صغیر میں یادداشتیں عام طور پر ریٹائرڈ بیوروکریٹس لکھتے ہیں۔ لیکن آپ نے اِس کم عمری میں ایک پوری قوم کی آپ بیتی لکھی ہے۔ خیال کیسے آیا؟ جواب: کشمیری لوگوں سے کہانیاں سنتے اور انکی کہانیاں دوسرے لوگوں کو سناتے ہوئے مجھے احساس ہوا کہ
سوال: آپ کی کتاب میں کچھ دل دہلا دینے والی کہانیاں ہیں۔ ٹارچر اور ریپ کے قصے ہیں۔ ایسے لوگوں کی کہانیاں ہیں جن کے پورے خاندان ہلاک ہوئے۔ جن لوگوں کا کتاب میں ذکر ہے کیا انہوں نے کتاب پڑھی ہے؟ اور انکا کیا رد عمل رہا ہے؟ جواب: کچھ لوگوں نے پڑھی ہے اور انہیں بہت پسند آئی ہے۔ کچھ لوگ انگریزی نہیں پڑھ سکتے لیکن میں انہیں کتاب تحفے میں دوں گا۔ میں نے اس کتاب میں اپنے ایک پرانے دوست اور اسکے خاندان کے بارے میں لکھا ہے، اس نے جب کتاب پڑھی تو مجھےگلے لگا لیا۔ مجھے کئی کشمیریوں نے ای میلز بھیجی ہیں اور کہا ہے کہ یہ ہماری کہانی ہے۔ سوال: کتاب میں پاکستانی شدت پسندوں کا ذکر کم ہے، ایک پاکستانی کے طور پر میں جاننا چاہتا ہوں کہ کشمیری ان کو کیسے دیکھتے تھے۔ کیا عوام میں انکے لیے سپورٹ تھی؟ جواب: کشمیری انکو پاکستانی شدت پسند ہی سمجھتے تھے۔ وہ ہم میں سے نہیں تھے۔ اگر انکی سپورٹ تھی تو صرف اسلیے کہ وہ ہندوستان فوج سے لڑ رہے تھے۔ سوال: آپکی طرح کے کئی کشمیری نوجوان پڑھ لکھ کر اچھی نوکریوں پر لگ گئے لیکن ہزاروں ایسے بھی تھے جنہوں نے بندوق اٹھائی اور شدت پسند کہلائے۔ کیا دونوں میں کلاس کا فرق تھا؟ جواب: ویسے تو ہر کلاس، بیک گراؤنڈ کے لوگ شدت پسند بنے، جیسے JKLF کے پہلا کمانڈر اشفاق مجید وانی ایک امیر خاندان سے تھے، لیکن یاسین ملک اور جاوید میر جیسے لوگ ورکنگ کلاس سے تعلق رکھتے تھے۔ لیکن جن لوگوں کے پاس ذرائع تھے انہوں نے اپنے بیٹوں کو پڑھنے کے لیے کشمیر سے باہر بھیج دیا۔ جیسے میرے کئی جاننے والے ماسکو، لندن اور تہران جیسی جگہوں میں پڑھے ہیں لیکن اتنی دور رہ کر بھی وہ کشمیر کی جدوجہد سے دور نہیں ہوئے۔ سوال: آپکی کتاب میں کرکٹ کے کافی قصے ہیں اور یہ ذکر بھی ہے کہ کشمیری ہمیشہ پاکستانی ٹیم کو سپورٹ کرتے ہیں۔ اگر انڈین کرکٹ ٹیم میں کچھ کشمیری لڑکے آجائیں تو پھر کیا ہوگا؟ آپ کس کو سپورٹ کرتے ہیں؟
سوال: ایک پاکستانی کے طور پر مجھے یہ سن کر حیرت ہوتی ہے کہ کشمیریوں کی ایک بڑی تعداد اب بھی پاکستان میں شامل ہونا چاہتی ہے۔ کیا انہیں پاکستان کے حالات کا نہیں پتا؟ کیا وہ اخبار نہیں پڑھتے؟ جواب: آپ سوچیں کہ ان لوگوں پر کیا گذری ہوگی کہ وہ پاکستان میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔ آج کل پاکستان کے لیے لوگوں میں ہمدردی پیدا کرنا کافی مشکل کام ہے لیکن ہندوستانی حکومت کی تعریف کرنی چاہیے کہ اس نے یہ بھی کر دکھایا۔ |
اسی بارے میں
ووٹ پڑے تو؟22 November, 2008 | انڈیا
کشمیر الیکشن : کس کی جیت؟19 November, 2008 | انڈیا
|
||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
|
|||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
|
|||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||