BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Tuesday, 25 November, 2008, 13:33 GMT 18:33 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
’کرفیوڈ نائٹ کشمیر کی آپ بیتی ہے‘
 

 
 
کرفیوڈ نائٹ
’ کئی کشمیریوں نےای میلز بھیجی ہیں اور کہا ہے کہ یہ ہماری کہانی ہے۔‘
گذشتہ دو دہائیوں سے ہم کشمیر کو روزانہ اخباروں میں پڑھتے ہیں، ٹی وی پر دیکھتے ہیں۔ فوج کے محاصرے، شدّت پسند اور سابقہ شدّت پسند، آزادی کے نعرے اور ’اٹوٹ انگ‘ کے دعوے دیکھتے سنتے ایک نسل جوان ہوگئی۔

کشمیری صحافی بشارت پیر کا تعلق اسی نسل سے ہے۔ انہوں نے اپنی کتاب Curfewed Night میں کشمیریوں کی کہانی انکی اپنی زبانی سنانے کی کوشش کی ہے۔ یہ کتاب ایک طرح سے بشارت پیر کی اور کشمیر کی آپ بیتی ہے۔ اس میں ان نوجوانوں کی کہانیاں ہیں جنہوں نے آزادی کے لیے بندوق اٹھائی۔ ان عورتوں کا قصہ ہے جن کے بیٹے ان کی آنکھوں کے سامنے مار دیے گئے۔ ان دلہنوں کا ذکر ہے جو اپنی شادی کے دن ہندوستانی فوج کے ہاتھوں ریپ ہوئیں۔ بشارت پیر کی کہانی انسانی المیوں سے بھری ہوئی ہے لیکن انکا لکھنے کا انداز غیر جذباتی ہے۔ کتاب کی ہندوستان کے میڈیا میں کافی پذیرائی ہوئی ہے۔ میں نے کتاب پڑھنے کے بعد ای میل کے ذریعے بشارت پیر سے چند سوال پوچھے:

سوال: برِ صغیر میں یادداشتیں عام طور پر ریٹائرڈ بیوروکریٹس لکھتے ہیں۔ لیکن آپ نے اِس کم عمری میں ایک پوری قوم کی آپ بیتی لکھی ہے۔ خیال کیسے آیا؟

جواب: کشمیری لوگوں سے کہانیاں سنتے اور انکی کہانیاں دوسرے لوگوں کو سناتے ہوئے مجھے احساس ہوا کہ
کتاب میں اپنے ایک پرانے دوست اور اسکے خاندان کے بارے میں لکھا ہے، اس نے جب کتاب پڑھی تو مجھےگلے لگا لیا: بشارت پیر
لوگ کشمیر میں عام لوگوں کے تجربات میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔ اسکے علاوہ میں نے ایسے خطوں کے بارے میں کتابیں پڑھیں جو مقبوضہ علاقے رہے ہیں۔ جیسے مشرقی جرمنی، بوسنیا اور فلسطین۔ اسی طرح منٹو اور انتظار حسین کی تقسیم کے بارے میں تحریریں پڑھ کر مجھے خیال آیا کہ کشمیر کے بارے میں بھی ایسا کچھ لکھا جاسکتا ہے۔ لیکن مجھ پر سب سے زیادہ اثر سیاہ فام امریکی مصنف جیمز بالڈون کا رہا جنہوں نے اپنی قوم کی تاریخ لوگوں کی ذاتی کہانیوں کے ذریعے بیان کی ہے۔

سوال: آپ کی کتاب میں کچھ دل دہلا دینے والی کہانیاں ہیں۔ ٹارچر اور ریپ کے قصے ہیں۔ ایسے لوگوں کی کہانیاں ہیں جن کے پورے خاندان ہلاک ہوئے۔ جن لوگوں کا کتاب میں ذکر ہے کیا انہوں نے کتاب پڑھی ہے؟ اور انکا کیا رد عمل رہا ہے؟

جواب: کچھ لوگوں نے پڑھی ہے اور انہیں بہت پسند آئی ہے۔ کچھ لوگ انگریزی نہیں پڑھ سکتے لیکن میں انہیں کتاب تحفے میں دوں گا۔ میں نے اس کتاب میں اپنے ایک پرانے دوست اور اسکے خاندان کے بارے میں لکھا ہے، اس نے جب کتاب پڑھی تو مجھےگلے لگا لیا۔ مجھے کئی کشمیریوں نے ای میلز بھیجی ہیں اور کہا ہے کہ یہ ہماری کہانی ہے۔

سوال: کتاب میں پاکستانی شدت پسندوں کا ذکر کم ہے، ایک پاکستانی کے طور پر میں جاننا چاہتا ہوں کہ کشمیری ان کو کیسے دیکھتے تھے۔ کیا عوام میں انکے لیے سپورٹ تھی؟

جواب: کشمیری انکو پاکستانی شدت پسند ہی سمجھتے تھے۔ وہ ہم میں سے نہیں تھے۔ اگر انکی سپورٹ تھی تو صرف اسلیے کہ وہ ہندوستان فوج سے لڑ رہے تھے۔

سوال: آپکی طرح کے کئی کشمیری نوجوان پڑھ لکھ کر اچھی نوکریوں پر لگ گئے لیکن ہزاروں ایسے بھی تھے جنہوں نے بندوق اٹھائی اور شدت پسند کہلائے۔ کیا دونوں میں کلاس کا فرق تھا؟

جواب: ویسے تو ہر کلاس، بیک گراؤنڈ کے لوگ شدت پسند بنے، جیسے JKLF کے پہلا کمانڈر اشفاق مجید وانی ایک امیر خاندان سے تھے، لیکن یاسین ملک اور جاوید میر جیسے لوگ ورکنگ کلاس سے تعلق رکھتے تھے۔ لیکن جن لوگوں کے پاس ذرائع تھے انہوں نے اپنے بیٹوں کو پڑھنے کے لیے کشمیر سے باہر بھیج دیا۔ جیسے میرے کئی جاننے والے ماسکو، لندن اور تہران جیسی جگہوں میں پڑھے ہیں لیکن اتنی دور رہ کر بھی وہ کشمیر کی جدوجہد سے دور نہیں ہوئے۔

سوال: آپکی کتاب میں کرکٹ کے کافی قصے ہیں اور یہ ذکر بھی ہے کہ کشمیری ہمیشہ پاکستانی ٹیم کو سپورٹ کرتے ہیں۔ اگر انڈین کرکٹ ٹیم میں کچھ کشمیری لڑکے آجائیں تو پھر کیا ہوگا؟ آپ کس کو سپورٹ کرتے ہیں؟

 پاکستان کے لیے لوگوں میں ہمدردی پیدا کرنا کافی مشکل کام ہے لیکن ہندوستانی حکومت کی تعریف کرنی چاہیے کہ اس نے یہ بھی کر دکھایا۔
 
بشارت پیر
جواب: مجھے اب کرکٹ میں کوئی دلچسپی نہیں رہی تو میں نہ انڈیا کو سپورٹ کرتا ہوں نہ پاکستان کو۔ کشمیری لڑکے اگر انڈین ٹیم میں آ بھی جائیں تو کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا۔ کشمیر میں بھارتی فوج کی حامی تنظیمیں بھی پاکستانی ٹیم کو سپورٹ کرتی ہیں۔ میں آج تک ایک بھی کشمیری مسلمان سے نہیں ملا جو ہندوستان کی ریاست کے سِمبلز کو اپنا سمجھتا ہو۔

سوال: ایک پاکستانی کے طور پر مجھے یہ سن کر حیرت ہوتی ہے کہ کشمیریوں کی ایک بڑی تعداد اب بھی پاکستان میں شامل ہونا چاہتی ہے۔ کیا انہیں پاکستان کے حالات کا نہیں پتا؟ کیا وہ اخبار نہیں پڑھتے؟

جواب: آپ سوچیں کہ ان لوگوں پر کیا گذری ہوگی کہ وہ پاکستان میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔ آج کل پاکستان کے لیے لوگوں میں ہمدردی پیدا کرنا کافی مشکل کام ہے لیکن ہندوستانی حکومت کی تعریف کرنی چاہیے کہ اس نے یہ بھی کر دکھایا۔

 
 
کرفیو راج کرفیو راج
’کشمیریوں کے محاصرے کا طویل موسم۔۔۔‘
 
 
ووٹ پڑے تو؟
کشمیر انتخاب میں زیادہ ووٹ پڑنے کی وجوہات!
 
 
کشمیری ووٹر ووٹ کیوں ڈالا ؟
ووٹنگ کی اچھی شرح پر کشمیریوں کی رائے
 
 
اسی بارے میں
ووٹ پڑے تو؟
22 November, 2008 | انڈیا
کشمیر الیکشن : کس کی جیت؟
19 November, 2008 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد