|
تقسیم ہند، کچھ مثالیں محبت کی
|
||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بر صغیر کی تقسیم کی وجہ سے جب لاکھوں لوگوں نے ہجرت کی تو لوٹ مار اور قتل و غارت کے واقعات کے ساتھ ساتھ محبت اور قربانیوں کی
داستانوں نے بھی جنم لیا تھا جن کا تاریخ میں ذکر عموماً کم ہی ہوتا ہے۔
لیکن اب دہلی کے ایک صحافی تری دیویش سنگھ مینی اور لاہور کے دو صحافیوں طاہر ملک اور علی فاروق ملک نے تقسیم ہند کے دوران مسلمانوں، ہندوؤں اور سکھوں کی ایک دوسرے کے لیے قربانیوں کی کہانیوں کو جمع کیا اور ایک کتاب’ ہیومینیٹی امیڈسٹ ان سینیٹی‘ (وحشیانہ پن کے درمیان انسانیت) کے نام سے شائع کی ہے۔ یہ کتاب ان لوگوں کے انٹرویوز پر مبنی ہے جو مذہبی فسادات کے دوران مخالفین سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی مدد سے بچ گئے تھے۔ مصنفین کے مطابق اس کتاب میں اچھائی کی ان مثالوں پر تجزیاتی نظر ڈال گئی ہے جو دہشت اور تشدد کے اس زمانےمیں سامنے آئیں۔ تری دیویش سنگھ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جن لوگوں نے تقسیم کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ان کی تعداد وقت کے ساتھ کم ہوتی جارہی ہے اور اگر یہ کہانیاں جمع نہ کی جاتیں تو ہمشیہ کے لیے کھو جاتیں۔ طاہر ملک نے کہا کہ اس کتاب میں جن لوگوں کی محبتوں کی کہانیاں انہوں نے شامل کی ہیں، ان سے بات کرکے انہیں دو تاثر ملے: ایک تو وہ تکلیف کم ہونا شروع ہوئی ہے جو تقسیم کے دوران ہونے والے قتل و غارت سے پیدا ہوئی تھی اور دوسرا اب لوگوں کو یہ احساس ہونا شروع ہوگیا ہے کہ ’بڑی چیز انسان ہونا ہے، پاکستانی ہونا، یا مسلمان ہونا یا سکھ ہونا، یہ بعد میں آتا ہے۔‘ پیر کو لندن میں برطانوی پارلیمان کے کل جماعتی پارلیمانی گروپ سے وابستہ |
اسی بارے میں
ڈیوڈ بیکہم کے چور گرفتار14 October, 2008 | فن فنکار
کافکا کے نایاب مسودوں تک رسائی10 July, 2008 | فن فنکار
چوری شدہ پینٹنگ لاکھوں میں نیلام21 November, 2007 | فن فنکار
پیرس: پکاسو کے فن پاروں کی چوری01 March, 2007 | فن فنکار
انیس سالہ بھارتی مصنفہ کا اعتراف29 April, 2006 | فن فنکار
|
||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
|
|||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
|
|||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||