|
’ڈیوڈ‘ کو سیاحوں سے خطرہ
|
||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اطالوی ماہرین کا کہنا ہے کہ سیاحوں کی بڑھتی ہوئی تعداد مجسمہ ساز مائیکل اینجلو کے مشہورِ زمانہ مجسمے ’ڈیوڈ‘ کے گرنے کی وجہ
بن سکتی ہے۔
مائیکل اینجلو نے یہ مجسمہ پانچ سو برس قبل نشاۃِ ثانیہ کے عروج میں تخلیق کیا تھا اور تب سے ہی یہ عالمی شہرت کا حامل ہے۔ یونیورسٹی آف پیروجیا کے ماہرین کے مطابق یہ مجسمہ اپنے حجم، ساخت اور اس کی تراش میں استعمال کیے جانے والے سنگِ مرمر کی کمزوری کی وجہ سے بھی خطرے کا شکار ہے۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ ان سب خطروں کے مقابلے میں سب سے بڑا خطرہ ان ہزاروں افراد کے قدموں کی چاپ ہے جو اسے دیکھنے کے لیے روزانہ فلورنس کی گیلارئیا ڈیل اکیڈیمیا میں آتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس مجسمے کو بچانے کے لیے اسے تھرتھراہٹ سے محفوظ بنانے کی ضرورت ہے۔ تاہم اس عمل پر قریباً دس لاکھ یورو خرچ آئے گا۔ اطالوی ماہرین نے مجسمے کے تفصیلی جائزے کے بعد اس کےگرنے کا خطرہ ظاہر کیا ہے۔ اس تفصیلی جائزے سے یہ بات بھی سامنے آئی کہ چار برس قبل مجسمے کی پانچ سوویں سالگرہ کے موقع پر اس کی مرمت کے دوران جو ریخیں بند کی گئی تھیں وہ دوبارہ کھل چکی ہیں۔ مجسمے کی اس مرمت کو پہلے ہی متنازعہ مانا جاتا ہے کیونکہ اس میں تقطیر شدہ پانی استعمال کیا گیا تھا جس کے بارے میں ناقدین کا کہنا تھا کہ یہ مجسمے کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ |
اسی بارے میں
ڈیوڈ: صفائی مکمل، نمائش شروع 25 May, 2004 | فن فنکار
مائیکل اینجلو کے تخلیق کردہ مجسمے کی نمائش07 May, 2004 | فن فنکار
مائیکل اینجلو کا آخری سکیچ بازیاب08 December, 2007 | فن فنکار
مائیکل اینجلو کے ڈیوڈ پر جھگڑا16.07.2003 | صفحۂ اول
’ڈیوڈ‘ کو نہ دھوئیں18.07.2003 | صفحۂ اول
|
||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
|
|||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
|
|||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||