BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Friday, 19 September, 2008, 22:47 GMT 03:47 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
’ڈیوڈ‘ کو سیاحوں سے خطرہ
 
’مائیکل اینجلو کا ڈیوڈ
مجسمے کو بچانے کے لیے اسے تھرتھراہٹ سے محفوظ بنانے کی ضرورت ہے
اطالوی ماہرین کا کہنا ہے کہ سیاحوں کی بڑھتی ہوئی تعداد مجسمہ ساز مائیکل اینجلو کے مشہورِ زمانہ مجسمے ’ڈیوڈ‘ کے گرنے کی وجہ بن سکتی ہے۔

مائیکل اینجلو نے یہ مجسمہ پانچ سو برس قبل نشاۃِ ثانیہ کے عروج میں تخلیق کیا تھا اور تب سے ہی یہ عالمی شہرت کا حامل ہے۔

یونیورسٹی آف پیروجیا کے ماہرین کے مطابق یہ مجسمہ اپنے حجم، ساخت اور اس کی تراش میں استعمال کیے جانے والے سنگِ مرمر کی کمزوری کی وجہ سے بھی خطرے کا شکار ہے۔

تاہم ان کا کہنا ہے کہ ان سب خطروں کے مقابلے میں سب سے بڑا خطرہ ان ہزاروں افراد کے قدموں کی چاپ ہے جو اسے دیکھنے کے لیے روزانہ فلورنس کی گیلارئیا ڈیل اکیڈیمیا میں آتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس مجسمے کو بچانے کے لیے اسے تھرتھراہٹ سے محفوظ بنانے کی ضرورت ہے۔ تاہم اس عمل پر قریباً دس لاکھ یورو خرچ آئے گا۔

اطالوی ماہرین نے مجسمے کے تفصیلی جائزے کے بعد اس کےگرنے کا خطرہ ظاہر کیا ہے۔ اس تفصیلی جائزے سے یہ بات بھی سامنے آئی کہ چار برس قبل مجسمے کی پانچ سوویں سالگرہ کے موقع پر اس کی مرمت کے دوران جو ریخیں بند کی گئی تھیں وہ دوبارہ کھل چکی ہیں۔

مجسمے کی اس مرمت کو پہلے ہی متنازعہ مانا جاتا ہے کیونکہ اس میں تقطیر شدہ پانی استعمال کیا گیا تھا جس کے بارے میں ناقدین کا کہنا تھا کہ یہ مجسمے کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔

 
 
اسی بارے میں
’ڈیوڈ‘ کو نہ دھوئیں
18.07.2003 | صفحۂ اول
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد