|
کافکا کے نایاب مسودوں تک رسائی
|
||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ماہرین اسرائیل کے دارالحکومت تل ابیب کے ایک گھر میں گزشتہ چالیس برسوں سے بند ادیب فرانز کافکا کی ایسے دستاویزات پر تحقیق
کرنے جا رہے ہیں جنہيں پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا ہے۔
یہ دستاویزات کافکا کے ماہر اور دوست میکس براڈ کے سابق سکریٹری کے گھر میں ایک عرصے سے پڑی تھیں۔ 1968 میں کافکا کے انتقال کے بعد ان دستاویزات کو استھرہاؤف نے اپنی آخری سانس تک ریلیز کرنے سے انکار کیا تھا۔ حال ہی میں ہاؤف کا 101 برس کی عمر میں انتقال ہو گیا ہے۔ لیکن اب تک یہ واضح نہيں ہے کہ اتنے برس گزرنے کے بعد کیا یہ دستاویزرات پڑھنے کے قابل بھی ہوں گے یا نہیں۔ 41 برس کی عمل میں ٹی بی کا شکار ہو جانے والے کافکا نے یہ وصیت کی تھی کہ ان کی تمام تحریر کو جلا دیا جائے۔ لیکن ان کے دوست میکس براڈ نے ان کی ہدایات کو نظرانداز کر دیا تھا۔ اس کے نتیجے میں دا ٹرائل ، میٹا مورفوسس اور دا کاسل جیسے ناول شائع ہوئے ہيں۔
کافکا کا جو بھی کام شائع ہوا ہے اس کی ذمےدار میکس براڈ کی تدوین رہی ہے۔ کیونکہ کافکا نے اپنا کوئی بھی کام مکمل نہیں کیا تھا۔ ان کا ناول ’دا کاسل‘ تو ادھورے جملے پر ہی رک گیا تھا۔ اسی وجہ سے ان دستاویزات کی اہمیت بڑھ گئی ہے جنہيں ابھی تک دیکھا نہیں گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ان دستاویزات کو دو سوٹ کیسوں ميں بند کر کے 1939 میں پراگ سے اس وقت چوری سے باہر بھیج دیا گیا تھا جب جرمن افواج شہر کی طرف تیزي سے بڑھ رہی تھیں۔ اہلکاروں کو یہ بھی خدشہ ہے کہ کہیں ایستھر ہاؤف کے گھر ميں سیلن اور ان کے پالتو کتّے اور بلیوں کی وجہ سے دستاویزات ضائع نہ ہو گئی ہوں۔ دنیا میں کافکا کے مریدوں کو شاید ویسی ہی غیر یقینی صورتحال کا سامنا ہے جو کافکا کے ناول کے کردار کو پیش آتی ہے۔ |
اسی بارے میں
مشہور فرانسیسی ادیب کا انتقال05 March, 2007 | فن فنکار
اداکار ادیب انتقال کر گئے27 May, 2006 | فن فنکار
سندھی ادیب جمال ابڑو انتقال کر گئے01 July, 2004 | فن فنکار
افریقی ادیب کے لئے نوبل انعام02 October, 2003 | فن فنکار
|
||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
|
|||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
|
|||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||