|
مس تبت مقابلے کی اکلوتی امیدوار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مس تبت نامی مقابلہ حسن کے منتظمین ابھی بھی اس مقابلے کا دفاع کر رہے ہیں جبکہ اس مقابلے سے ایک کے سوا تمام خواتین نے اپنے نام واپس لے لیے ہیں۔ اس مقابلے کے منتظم لوب سینگ وینگیال کا کہنا ہے کہ اس میں حصہ لینے والی ’اکیلی بہادر‘ خاتون امیدوار کا نام اکتوبر کی آٹھ تاریخ تک رازمیں رکھا جائے گا۔ اس دن تقریب منعقد کی جائے گی۔ یہ مقابلہ بھارت میں ہمالیہ کے تفریحی مقام دھرم شالہ میں منعقد کیا جائے گا۔ تبت کے جلا وطن روحانی رہنما دلائی لاما نے انیس سوانسٹھ سے یہاں پناہ لی ہوئی ہے۔ بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ سات نوجوان خواتین نے آخری موقع پر اپنے نام اس مقابلے سے واپس لے لیے ہیں۔ اس مقابلے کو شروع ہوئے چار سال ہوئے ہیں اور اس دوران یہ دوسرا موقع ہے کہ جب مقابلے میں حصہ لینے والیوں کی کمی ہوئی ہے۔ انعام جیتے والی خاتون کو تاج اور ایک لاکھ روپے( دو ہزار دو سو ڈالر) کا چیک دیا جائے گا۔ نامہ نگار کے مطابق اس مقابلے میں حصہ لینے والی اکیلی خاتون کا نام منتظمین نے اس ڈر سے نہیں بتایا کہ کہیں اس خاتون کو بھی اپنا نام واپس لینے کے لیے دباؤ کا سامنا کر ناپڑے۔ اس مقابلے کی قدامت پرست تبت بدہسٹ سوسائٹی مخالفت کر رہی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||