BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Saturday, 01 October, 2005, 14:39 GMT 19:39 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
مس تبت مقابلے کی اکلوتی امیدوار
 
مقابلے میں شریک خواتین
ہ سات نوجوان خواتین نے آخری موقع پر اپنے نام اس مقابلے سے واپس لے لیے
مس تبت نامی مقابلہ حسن کے منتظمین ابھی بھی اس مقابلے کا دفاع کر رہے ہیں جبکہ اس مقابلے سے ایک کے سوا تمام خواتین نے اپنے نام واپس لے لیے ہیں۔

اس مقابلے کے منتظم لوب سینگ وینگیال کا کہنا ہے کہ اس میں حصہ لینے والی ’اکیلی بہادر‘ خاتون امیدوار کا نام اکتوبر کی آٹھ تاریخ تک رازمیں رکھا جائے گا۔ اس دن تقریب منعقد کی جائے گی۔

یہ مقابلہ بھارت میں ہمالیہ کے تفریحی مقام دھرم شالہ میں منعقد کیا جائے گا۔ تبت کے جلا وطن روحانی رہنما دلائی لاما نے انیس سوانسٹھ سے یہاں پناہ لی ہوئی ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ سات نوجوان خواتین نے آخری موقع پر اپنے نام اس مقابلے سے واپس لے لیے ہیں۔

اس مقابلے کو شروع ہوئے چار سال ہوئے ہیں اور اس دوران یہ دوسرا موقع ہے کہ جب مقابلے میں حصہ لینے والیوں کی کمی ہوئی ہے۔

انعام جیتے والی خاتون کو تاج اور ایک لاکھ روپے( دو ہزار دو سو ڈالر) کا چیک دیا جائے گا۔

نامہ نگار کے مطابق اس مقابلے میں حصہ لینے والی اکیلی خاتون کا نام منتظمین نے اس ڈر سے نہیں بتایا کہ کہیں اس خاتون کو بھی اپنا نام واپس لینے کے لیے دباؤ کا سامنا کر ناپڑے۔ اس مقابلے کی قدامت پرست تبت بدہسٹ سوسائٹی مخالفت کر رہی ہے۔

 
 
اسی بارے میں
 
 
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد