BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Wednesday, 14 September, 2005, 11:37 GMT 16:37 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
منٹو: مزید خراجِ عقیدت
 

 
 
منٹو کو طالبعلموں کا خراجِ عقیدت
منٹو کی پچاسویں برسی پر یوں تو ملک کی بہت سی ادبی اور سماجی تنظیموں نے اجتماعات منعقد کئے اور یادگاری مضامین شائع کئے لیکن لاہور کے معروف تعلیمی ادارے گورنمنٹ کالج یونیورسٹی نے اس موقع پر ایک انتہائی وقیع دستاویز مرتب کی ہے اور اسے ایک مجلد کتاب کی شکل میں شائع کر کے طالب علموں، ناقدوں اور شائقینِ منٹو کی ایک اہم خدمت انجام دی ہے۔

عنوان تو غیر متوقع نہیں ہے یعنی ’سعادت حسن منٹو--- پچاس برس بعد‘ لیکن مندرجات میں کچھ تحریریں منفرد ہیں۔

دستاویز کی ابتداء لندن میں مقیم اردو کے شاعر ساقی فاروقی کے اس اعلان سے ہوتی ہے:

منٹو کا ٹائپ رائٹر

’اُردو کا یہ مشہور ٹائپ رائٹر ن۔م راشد نے منٹو سے خریدا تھا۔ شیلا راشد نے اپنے مرحوم شوہر کی خواہشات کے مطابق کئی اُردو کتابوں کے علاوہ یہ تاریخی ٹائپ رائٹر بھی میرے حوالے کر دیا۔ آج یہ امانت گورنمنٹ کالج لاہور کے سپرد کر رہا ہوں۔‘

سعادت حسن منٹو آل انڈیا ریڈیو کی ملازمت کے دوران ڈرامے لکھنے کے لئے اُردو کا ٹائپ رائٹر استعمال کرتے تھے

کتاب کا باقاعدہ آغاز سہیل احمد خان کے لکھے ہوئے دیباچے سے ہوتا ہے جس میں علاوہ دیگر باتوں کے وہ کہتے ہیں:

’گسُتاخ منٹو کی اب جو پذیرائی ہو رہی ہے وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ طاقت ور فنّی شعور کا دھارا اپنے عہد کے تعصبات کی سنگلاخ چٹانوں کو توڑتا ہوا اپنے بہاؤ کے لئے راستہ خود ہی بنا لیتا ہے۔ منٹو کی کہانیاں اب نصاب میں شامل ہیں اور نام نہاد مُعلّمانِ اخلاق کی منافقت کو آئینہ دکھا رہی ہیں..... دانش گاہوں میں تحقیق ہو رہی ہے، یادگاری ٹکٹ جاری کئے جا رہے ہیں اور منٹو پوچھ رہا ہے کہ ’کیا وہ نمرود کی خدائی تھی‘؟

یہ بات دلچسپی سے خالی نہیں کہ منٹو کے بارے میں مضامین کا یہ نیا مجموعہ مرتب کرنے کی تحریک کالج میں ایم اے اُردو کے دو طالب علموں، شمشیر حیدر شجر اور نویدالحسن نے شروع کی اور بڑی تگ و دو سے تمام ضروری مواد اکٹھا کیا۔

نویدالحسن نے منٹو کے بارے میں لکھی گئی تمام کتابوں اور مضمونوں کا ایک اشاریہ بھی انتہائی محنت سے مرتب کیا ہے اور شمشیر حیدر نے منٹو کے مفصل حالاتِ زندگی رقم کئے ہیں جن میں کچھ ایسی معلومات بھی شامل ہیں جو شاید اب تک منٹو کے مداحوں کی نظر سے نہ گزری ہوں۔ مثلاً مرحوم کی تحریر کردہ فلموں کی یہ مکمل فہرست:

شمشیر حیدر شجراور نویدالحسن جنہوں نے بڑی تگ و دو سے تمام ضروری مواد اکٹھا کیا

کِسان کنیّا، اپنی نگریا، نوکر، چل چل رے نوجوان، بیگم، شکاری، آٹھ دن، گھُمنڈ،
مرزا غالب، بیلی (پاکستان میں بنی) ، دوسری کوٹھی (پاکستان میں بنی)۔

منٹو کی لکھی ہوئی فلم ’ کٹاری‘ کا ذکر مرتبین نے شاید اس لئے نہیں کیا کہ یہ فلم سکرین کی زینت نہ بن سکی تھی۔

اس کتاب میں منٹو کی زندگی اور کارناموں پر بائیس مضامین موجود ہیں جن میں سے کچھ واقعی خاصّے کی چیز ہیں، مثلاً منٹو کی ایک ابتدائی تحریر جو آج تک کسی مجموعے یا تحقیقی مقالے میں شامل نہیں ہوئی۔ منٹو کے آخری برسوں کے کام پر بھی ---- خاص طور پر اسکے تجریدی افسانوں پر __ تنقیدی مواد کم یاب ہے۔ زیرِ نظر مجموعے میں پھُندنے کی لسانی تشکیلات پر ڈاکٹر سعادت سعید کا مضمون اور منٹو کے علامتی افسانوں پر شمشیر حیدر کا اپنا مضمون قابلِ غور ہیں۔

گورنمنٹ کالج لاہور میں یومِ منٹو منانے کی سالانہ روایت خاصی پُرانی ہے۔ کتاب کے آخر میں سن 2004 اور سن 2005 کے یومِ منٹو کی مکمل کارروائی بھی درج کر دی گئی ہے۔

 
 
اسی بارے میں
 
 
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد