کوٹھے اور اکھاڑے کا رومان

آخری وقت اشاعت:  پير 21 مئ 2012 ,‭ 05:31 GMT 10:31 PST
clay and dust, musharaf

یہ ناول بنیادی طور پر ایک معروف پہلوان استاد رمزی اور اپنے دور کی ایک بڑی کوٹھے والی گوہر جان کی کہانی ہے۔

اتوار کی شام ٹی ٹو ایف میں مشرف علی فاروقی کے نئے ناول ’خاک و گِل کے درمیاں‘ (بیٹوین کلے اینڈ ڈسٹ) کی تقریب غیر روایتی قسم کی تقریبِ رونمائی ہوئی۔ جس میں فکشن رائٹر شذف فاطمہ حیدر اور Papercuts کی ایڈیٹر عافیہ اسلم نے مشرف سے گفتگو کی۔ جس کے بعد رقاصہ اور کوریو گرافر شیما کرمانی اور اردو معروف جدید شاعر افضال احمد سید نے ناول کے ایک باب کا اردو ترجمہ سنایا۔

مشرف علی فاروقی کا یہ ناول ایلف بُک کمپنی انڈیا نے شایع کیا ہے۔ ان کا پہلا ناول ’دی سٹوری آف اے وڈو‘ 2009 میں شایع ہو چکا ہے۔ جو ساؤتھ ایشیائی لٹریچر 2010 کے لیے شارٹ لسٹ ہوا تھا۔ ان کے اردو سے انگریزی کے تراجم میں داستان امیر حمزہ، چوبیس جلدوں پر مشتمل طلسمِ ہوشربا کی پہلی جلد، سید محمد اشرف کے ناولٹ نمبر دار کا نیلا اور افضال احمد سید کی شاعری شامل ہیں۔

مشرف فاروقی نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ یہ ناول بنیادی طور پر ایک معروف پہلوان استاد رمزی اور اپنے دور کی ایک بڑی کوٹھے والی گوہر جان کی کہانی ہے اور اس دور میں ہے جس میں نہ صرف استاد رمزی کو اس بات کی فکر لاحق ہے کہ ان کے بعد ان کی پہلوانی کے ہنر اور اعزاز کا کیا ہو گا بلکہ گوہر جان کو بھی ہے کیوں کہ ان کا رنگ و روپ بھی عمر کے آثار میں دبنے لگا ہے۔

استاد رمزی اپنے چھوٹے بھائی کو اپنے جیسا بنانا چاہتے ہیں اور گوہر جان خوبرو ملکہ کو اپنا فن منتقل کرنا چاہتی ہے لیکن دونوں کے تقاضے وقت اور ماحول سے ہم آہنگ نہیں۔

clay and dust, musharaf

دائیں سے بائیں: افضال احمد سید، مشرف علی فاروقی، شذف فاطمہ حیدر اورعافیہ اسلم

اسی میں استاد رمزی کا گوہر جان کے کوٹھے پر آنا جانا ہو جاتا ہے اور ان کے دل میں موسیقی کے رنگ اترنے لگتے ہیں۔

اس سوال کے جواب میں کہ کیا انہیں کبھی اکھاڑے میں اترنے کا تجربہ ہے؟ مشرف نے پوچھا کہ کیا انہیں دیکھ کر کسی کو یہ خیال آ سکتا ہے؟ انھوں نے کہا کہ وہ کبھی اکھاڑے میں نہیں اترے اور ساتھ ہی کہا کہ اب یہ نہ پوچھیئے گا کہ کیا میں کبھی کوٹھے پر بیٹھا؟

مشرف نے ایک اور سوال کے جواب میں کہا کہ ان سے کہا جاتا ہے کہ میں ہر طرح کی چیزیں لکھ رہا ہوں تو اصل بات یہ ہے کہ میں ہر طرح کی چیزیں پڑھ رہا ہوں اور جس طرح کی چیزیں آپ پڑھتے ہیں اسی طرح کا آپ کا ذوق بنتا ہے اور اسی طرح کا آپ لکھنے لگتے ہیں۔ جب میرا لڑکپن تھا تو ڈھیروں ڈھیر ناول اور ڈائجسٹ اٹھا لاتا تھا اور انہیں قصص الانبیا اور تفسیر کے ساتھ پڑھتا رہتا تھا۔

اس سوال کے جواب میں کیا زبان سے کوئی فرق پڑتا ہے؟ مشرف کا کہنا تھا کہ بالکل پڑتا ہے۔ اس ناول میں بھی ان کے سامنے یہ سوال تھا کہ کہانی کو مغربی پڑھنے والوں کے لیے لکھوں یا کہانی کو کہانی کے طور پر لکھوں۔ یعنی ایک کلچر کے کرداروں کو دوسرے کلچر کی زبان میں کیوں کر ایسے لکھا جائے کہ وہ اجنبی محسوس نہ ہوں۔ ان کرداروں کی زبان اور گفت گو اجنبی نہ لگے کیوں کہ جب اس کلچر کے لوگ آپ کے ناول کو پڑھ رہے ہوتے ہیں تو انھیں ضرور کسی بات کے بارے میں لگ سکتا ہے کہ اسے تو اس طرح نہیں کہتے۔ اس لیے آپ کو زیادہ وقت صرف کرنا پڑتا ہے۔

"انڈیا میں پبلشنگ انڈسٹری اسٹیبلش ہو چکی ہے۔ انڈیا میں پانچ بڑے پبلشنگ ہاؤسز ہیں اورسب کو پروفیشنل اور معیاری ہیں۔ پاکستان میں پبلشنگ کا یہ معیار نہیں ہے، نہ ہی یہاں پبلشنگ کرنے والوں کے پاس اس طرح ایڈیٹر ہوتے ہیں اور نہ ہی وہ اس طرح مارکیٹنگ کرتے ہیں پھر یہاں پائریسی یا جعلی اشاعتوں کا بھی مسئلہ ہے۔"

مشرف علی فاروقی

انجینئرنگ سے لکھنے کی طرف آنے کے بارے میں کیے جانے والے سوال کے جواب میں مشرف کا کہنا تھا کہ ہماری نسل کے لوگوں کے والدین جس طرح کے حالات سے گزرنا پڑا اس میں انھیں جس طرح کے عدم تحفظ کا احساس ملا تھا اس میں انھیں یہی لگتا تھا کہ کہ اگر ان کے بچوں کو سرکاری نوکری مل جائے تو ان کا مستقبل محفوظ ہو جائے گا یا بچہ انجینئر یا ڈاکٹر بن جائے۔ اب ایسا نہیں ہے ان کی کوششوں کے نتیجے میں اب جو نسل ہے اس کا عدم تحفظ ویسا نہیں ہے، ان کے پاس ایک طرح کا سہارا ہوتا ہے اس لیے وہ نسبتاً خطرے والے یا بظاہر غیر محفوظ کام کرنے کا سوچ سکتی ہے۔

مشرف نے بتایا کہ انڈیا میں پبلشنگ انڈسٹری اسٹیبلش ہو چکی ہے۔ انڈیا میں پانچ بڑے پبلشنگ ہاؤسز ہیں جن میں سے چار کے ساتھ انھوں نے کام کیا ہے اور سب کو پروفیشنل اور معیاری پایا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں پبلشنگ کا یہ معیار نہیں ہے، نہ ہی یہاں پبلشنگ کرنے والوں کے پاس اس طرح ایڈیٹر ہوتے ہیں اور نہ ہی وہ اس طرح مارکیٹنگ کرتے ہیں پھر یہاں پائریسی یا جعلی اشاعتوں کا بھی مسئلہ ہے۔

مشرف نے انگریزی لکھنے کے بارے میں کہا کہ یہ فیصلہ انھوں نے اس لیے کیا کہ اگر وہ اردو میں لکھتے تو بھوکے مرتے لیکن وہ اردو سے انگریزی میں ترجمے کرتے ہیں اور اس سے انھیں لکھنے کی توانائی ملتی ہے۔

گفتگو کے بعد پہلے شیما کرمانی نے ناول کا ایک باب پڑھ کر سنایا اور اس سے اگلا باب افضال احمد سید نے پڑھا جس کا ترجمہ بھی انھی کا تھا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔