
امتیاز علی نے دلی یونیورسٹی کے ہندو کالج سے تعلیم حاصل کی ہے
راكسٹار، ’لو آج کل‘ اور ’جب وی میٹ‘ جیسی سپر ہٹ فلموں کے ہدایت کار امتیاز علی جیسے ہی دلی کے مرانڈا ہاؤس کالج میں داخل ہو ئے لڑکیوں کی بھیڑ نے انہیں گھیر لیا۔
ہرکوئی ان کے ساتھ تصویر بنوانے کے لیے بے تاب تھا۔ جن لڑکیوں کو ان کا آٹوگراف ملا ان کے قدم تو زمین پر ہی نہیں تھے۔
کلِک ’میں ایوارڈ کے لیے فلمیں نہیں بناتا‘
دلی سے امتیاز علی کا پرانا رشتہ ہے۔ وہ یہیں کے ہندو کالج کے طالب علم رہ چکے ہیں۔ لیکن تب اور آج میں فرق ہے۔
بی بی سی کے ساتھ بات چیت میں امتیاز علی نے کہا کہ دلی یونیورسٹی کے ہندو کالج میں رہتے ہوئے وہ ہر دوسرے لڑکے کی طرح مرانڈا ہاؤس کے چکر لگاتے تھے۔ ہندو کالج اور مرانڈا ہاؤس آس پاس ہی ہیں۔
مرانڈا ہاؤس کے بارے میں جنہیں نہیں پتہ انہیں بتا دیں کہ دلی یونیورسٹی کی مشہور مرانڈا ہاؤس کالج خواتین کا کالج ہے۔
امتیاز علی کو کالج کے ایک پروگرام میں حصہ لینے کے لیے بلایا گیا تھا۔ امتیاز علی کے یہاں آنے کے پیچھے ایک ہی وجہ تھی کہ وہ اپنی اگلی فلم کے بعض مناظر اسی کالج میں شوٹ کرنے والے ہیں۔
پورے کالج کو ایک فلم ڈائریکٹر کی نگاہ سے دیکھنے کے بعد امتیاز کالج کی کینٹن گئے اور وہاں انہوں نے ایک ایلائچی والی چائے کے ساتھ ’فین‘ مانگا۔ فین عام طور پر چائے کے ساتھ لیے جانے والا ایک طرح کا خستہ نمکین ہوتا ہے جو صرف چائے کی دکانوں پر ملتا ہے۔

امتیاز علی نے حال ہی میں راکسٹار فلم بنائی تھی
ہندو کالج کے دنوں کو یاد کرتے ہوئے امتیاز علی نے کہا کہ ریگنگ کے دوران ان کے سینئر ان سے کہتے تھے کہ نیم برہنہ حالت میں وہ مرانڈا ہاؤس کے پاس جائیں اور گانا گائیں۔
ملک سے باہر ہندوستانی فلموں کی مقبولیت کے بارے میں ان کا کہنا تھا ’جب دوسرے ممالک میں جاتا ہوں تو دیکھتا ہوں کہ لوگ وہاں ہندوستانی فلمیں دیکھتے ہیں۔ بھارتی فلموں کی کہانیوں میں کافی دم ہوتا ہے، اور اب تو فلمیں بین الاقوامی نقطہ نظر سے بن رہی ہیں۔‘
ان کا مزید کہنا تھا ’مجھے لگتا ہے کہ فلموں کو سرحدوں سے باندھ کر دیکھنا صحیح نہیں ہے۔ اگر ایشیا یا باہر کے ملک اچھی فلمز بنا رہے ہیں تو یہ ہم سب کے لیے اچھی بات ہے۔‘
بھارتی فلمز آسکر کی دوڑ میں پیچھے رہ جاتی ہے، اس کی وجہ پوچھے جانے پر امتیاز علی نے کہا ’یہ فلم بنانے والے کی ذاتی سوچ ہوتی ہے کہ وہ ایوارڈ کے لیے فلم بنا رہے ہیں یا کسی اور وجہ سے۔ میں اپنی پسند کی فلمیں بناتا ہوں، کسی ایوارڈ کے لیے نہیں۔ فلمز ایسی ہونی چاہیے جو حقیقی لگے۔ فلم دیکھ کر لگنا چاہیے کی آپ کو پتہ ہے کہ آس پاس کیا ہو رہا ہے۔‘



















