
سیف علی خان نے تسلیم کیا اس میں دوسراطریقہ بھی اپنایا جا سکتا تھا
ممبئی میں ایک غیر ملکی تاجر کے ساتھ مار پیٹ کے الزام میں گرفتار ہونے کے بعد بالی وڈ کے اداکار سیف علی خان اور ان کے دو ساتھیوں کو ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔
ممبئی کے کولابہ پولیس سٹیشن پر سیف اور ان کے ساتھی حاضر ہوئے جہاں تین تین ہزار روپے کے مچلکے پر انہیں ضمانت دے دی گئي۔
تھانے سے باہر نکلنےکے بعد سیف علی خان نے کہا کہ انہوں نے جو بھی کچھ کیا تھا وہ اپنے دفاع میں کیا تھا۔
ان کا کہنا تھا ’اس شخص نے پہلے غلط باتیں کہیں اور پھر مجھ پر حملہ کیا اس لیے میں نے جو بھی کیا وہ بطور دفاع کیا۔‘
سیف نے ایک سوال کے جواب میں کہا ’جب ہم کھانا کھارہے تھے تو ان لوگوں نے ہم سے شور نہ مچانے کو کہا، اس پر میں نے کہا کہ یہ کوئی لائبریری نہیں ہے اور اگر انہیں شور نہیں چاہیئے تو لائبریری میں جا کر بیٹھیں۔‘
لیکن سیف نے یہ بات تسلیم کی کہ ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا اور اس سے دوسرے طریقہ سے بھی نمٹا جا سکتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ وہ ایک ذمہ دار شخص ہیں اور غیر قانونی کام نہیں کرتے ہیں۔
جنوبی افریقہ کے تاجر اقبال میر شرما کے ساتھ سیف علی خان کی لڑائی ہوٹل تاج میں ہوئي تھی۔ سیف اپنی دوست کرینہ کپور، ملائیکہ اروڑہ خان اور بلال امروہوی کے ساتھ ہوٹل میں کھانا کھانے گئے تھے۔

اقبال شرما کے مطابق سیف نے انہیں اور ان کے سسر کو مارا ہے
اقبال شرمانے ٹی وی چیلنز سے بات چيت میں کہا کہ جب وہ ہال سے نکل رہے تھے تو سیف نے ان کے لیے برے الفاظ استمعال کیے اور پھر ان پر ہاتھ اٹھا دیا۔
اس حملے سے ان کی ناک کی ہڈی میں فریچر آیا ہے اور شرما کے مطابق ان کے چہرے پر مزید چوٹیں آئي ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے اڑسٹھ سالہ سُسر کو بھی مارا گيا۔
لیکن سیف کا کہنا ہے کہ پہلے ایک بزرگ شخص نے ان پر حملہ کیا جس کے جواب میں انہوں نے بھی وہی کیا۔ سیف کا کہنا تھا کہ انہوں نے بھی اس کے لیے پولیس میں شکایت درج کی ہے۔
سیف علی خان اور دیگر افراد کے خلاف اقبال شرما نام کے ایک شخص نے زدوکوب کی ایف آئی آر درج کرائی تھی۔ پولیس کے مطابق اقبال شرما بھارتی نژاد جنوبی افریقی شہری ہیں اور اپنے اہل خانہ کے ساتھ ہوٹل میں کھانا کھا رہے تھے کہ کسی بات پر کہا سنی ہوئی اور مار پیٹ کی نوبت آگئی۔



















