
کتاب: راز داں صحافی
مرتب: مظفر محمد علی
ناشر: احمد پبلی کیشن 19 اے ایبٹ روڈ لاہور
صفحات: 648
قیمت: 950 روپے
1952 میں پیدا ہونے والے مظفر محمد علی کی تمام زندگی کتابوں کی ادارت اور طباعت و اشاعت میں گزری اور پانچ مارچ 2010 کو اپنی اچانک موت تک وہ اسی کام سے وابستہ رہے۔
اگرچہ انھوں نے افسانے بھی لکھے اور سکرین پلے بھی لیکن اُن کی شخصیت ایک صحافی اور مدیر کے طور پر مستحکم ہوئی۔
مختلف اخبارات و جرائد میں کالم نگاری کے ساتھ ساتھ انھوں نے سیاست، ادب، فن اور کھیل کے میدانوں میں شہرت رکھنے والی شخصیات کے انٹرویوز بھی کیے۔ زیرِ نظر کتاب میں صرف ایسی شخصیات سے ملاقاتوں کا احوال درج ہے جو صحافت کے میدان میں پیش پیش تھیں۔
کتاب کا مکمل عنوان اس طرح ہے: ’پاکستانی سیاست کے رازداں صحافی: صفدر میر سے حامد میر تک‘
مظفر محمد علی مرحوم کی خواہش تھی کہ یہ کتاب جلد از جلد شائع ہو سکے اور زندگی کے آخری ایام میں وہ اس کی فوری اشاعت کے لیے بہت پُرجوش دکھائی دیتے تھے لیکن افسوس کہ ایسا نہ ہو سکا اور اُن کی وفات کے بعد یہ کام ان کے ایک عزیز اجمل شاہ دین نے انجام دیا۔
کتاب میں امتیاز عالم، حسن نثار اور مجیب الرحمٰن شامی سمیت چودہ کارکن صحافیوں سے گفتگو کا احوال درج ہے۔
ہر انٹرویو سے پہلے اُس صحافی کی شخصیت اور فن کا تعارف مظفر محمد علی نے انتہائی جامع انداز میں کرایا ہے۔ مثلاً اثر چوہان کی گفتگو سے پہلے اُن کے تعارفی نوٹ میں بتاتے ہیں کہ موصوف بقول ان کے صحافت میں مسلح جدو جہد کے قائل رہے ہیں۔ ’یہ انٹرویو پڑھتے ہوئے آپ پر منکشف ہو گا کہ اثر چوہان نے ایک حربی حکمت کار کی مانند کس کس طرح اپنے مورچے بدلے، پوزیشنیں تبدیل کیں اور اپنی حکیمانہ پسپائی اور جارحانہ پیش قدمی سے اپنے حریفوں کو زچ کرتے رہے۔۔۔‘
صحافی کی شخصیت اور فن کا جامع تعارف
مظفر محمد علی مرحوم کی خواہش تھی کہ یہ کتاب جلد از جلد شائع ہو سکے لیکن افسوس کہ ایسا نہ ہو سکا۔ کتاب میں امتیاز عالم، حسن نثار اور مجیب الرحمٰن شامی سمیت چودہ کارکن صحافیوں سے گفتگو کا احوال درج ہے۔ہر انٹرویو سے پہلے اُس صحافی کی شخصیت اور فن کا تعارف مظفر محمد علی نے انتہائی جامع انداز میں کرایا ہے
اسی طرح امتیاز عالم کے تعارف میں لکھتے ہیں: ’اُن کی کہانی خوابوں، آرزوؤں، آدرشوں اور اُن کے لیے کی گئی کوششوں، محنتوں اور قربانیوں کا ایک طویل رزمیہ ہے۔ تاہم یہ رزمیہ رائیگاں نہیں گیا کہ امتیاز عالم ان خوش نصیب لوگوں میں سے ہیں جو اپنی آنکھوں سے اپنے خوابوں کی تعبیر دیکھ پاتے ہیں، انھوں نے سیفما (ساؤتھ ایشین فری میڈیا ایسوسی ایشن) کی صورت میں ایک خواب دیکھا تھا جو محض چار پانچ برسوں میں پورے ریجن میں ایک تحریک کی سی صورت اختیار کر گیا‘۔
معروف صحافی اور تجزیہ کار مجیب الرحمان شامی کے بارے میں رقم طراز ہیں کہ ’انھوں نے ہمارے طویل طویل سوالات کے سامنے اپنے سینے کے دفینے کھول دیے اور کئی راز افشا کر ڈالے۔ اس خزانے میں بہت سے لوگوں کے لیے بہت سی سبق آموز کہانیاں ہیں اور صحافت کے نو آموز اور آزمودہ کار طالب علموں کے لیے نشانِ منزل بھی‘۔
جناب مصطفٰے صادق کے انٹرویو میں آئین سازی سے متعلق ایک دلچسپ اور چشم کشا واقعہ درج ہے۔
وہ کہتے ہیں:’1956 کا آئین دستور ساز اسمبلی میں زیر ترتیب تھا۔ انہی دنوں اس وقت کے وزیرِاعظم چوھدری محمد علی لاہور تشریف لائے۔ ائرپورٹ پر جن اخبار نویسوں نے ان سے گفتگو کی ان میں راقم الحروف کے علاوہ پاکستان ٹائمز کے سید افتخار، نوائے وقت کے مسٹر زاہد چوہدری اور بعض دوسرے سینئر رپورٹر شامل تھے۔ چوہدری صاحب نے حسبِ عادت انتہائی دھیمی آواز میں اپنی گفتگو کا آغاز کیا کہ ہم چونکہ اس وقت انتہائی نازک مسائل سے دوچار ہیں اس لیے میرا مشورہ ہے کہ مجھ سے کوئی سوال نہ کیا جائے۔ میں خود ہی جو معلومات دوں گا ۔ ان پر آپ لوگ قناعت کر لیں۔ چنانچہ جونہی آئین سازی کے بارے میں چوہدری صاحب کی زبان سے یہ الفاظ نکلے کہ آئین کی تمام دفعات اتفاقِ رائے سے منظور کی جا رہی ہیں، میں نے ان کی بات کاٹتے ہوئے یا کاٹے بغیر صرف یہ الفاظ کہے کہ اسلامی دفعات بھی۔ جواب صرف اشارے سے اثبات میں دیا گیا اور غالباً ’یس‘ کے الفاظ بھی کہے حالانکہ واقعہ یہ ہے، جس کا علم بعد میں ہوا کہ اُس وقت تک بظاہر اسلامی دفعات منظور نہیں ہوئی تھیں۔ لیکن مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ میرے اس دو حرفی سوال کے نتیجے میں اگلے دن ’تسنیم‘ اور ’نوائے وقت‘ کے علاوہ بعض دوسرے اخبارات کی شہ سرخی تھی ’اسلامی دفعات اتفاقِ رائے سے منظور کر لی گئیں‘۔ ان حالات میں یہ بہت بڑی خبر تھی، اس لیے کہ مشرقی پاکستان کے بعض ارکانِ اسمبلی اسلامی دفعات کی منظوری کے حق میں نہیں تھے۔ لیکن امرِ واقعہ یہ ہے کہ خبر کے اس طرح نمایاں شائع ہونے کے بعد دستوریہ کے ارکان بڑی حد تک مجبور ہو گئے تھے کہ اسلامی دفعات کو منظور کریں اور عملاً ایسا ہوا بھی۔ چنانچہ 1956 کا آئین جن اہم خصوصیات کا حامل تھا ان میں اسلامی دفعات سرِ فہرست تھیں‘۔
کتاب اس طرح کے انکشافات سے پُر ہے لیکن ان معلومات کو کہیں بھی سنسنی خیز بنا کر پیش نہیں کیاگیا بلکہ ایک بالغ نظر تجزیہ کار کا تحمل ہر مقام پر کارفرما نظر آتا ہے۔
صفدر میر سے حامد میر تک سبھی صحافیوں کے انٹرویوز بہت تفصیلی ہیں اور یہی خوبی اس کتاب کی واحد خامی بھی ہے کہ کتاب کی شکل میں مرتب کرتے ہوئے ان حشو و زوائد سے چھٹکارا حاصل نہیں کیا گیا جو محض اخباری اور مجّلاتی ضروریات کا تقاضہ تھے۔
اسی سقم کے باعث کتاب کی ضخامت ساڑھے چھ سو صفحے تک جا پہنچی اور لا محالہ قیمت بھی عام قاری کی استطاعت سے باہر چلی گئی۔ اگر دوسرے ایڈیشن میں اس خامی کا اِزالہ کر دیا جائے تو بہت سے قارئین کا بھلا ہو سکتا ہے۔



















