
ایال گیور کمپوٹر پروگرامنگ کے ماہر ہیں
اسرائیلی فنکار ایال گیور ایک ایسے مصور ہیں جو تھری ڈی پرنٹنگ کے ذریعے سانحات کے مناظر بناتے ہیں اور مصوری کے اس فن کے ذریعے اس میں خوبصورتی تلاش کرتے ہیں۔
آپ جب ایال گیور کے تل ابیب میں واقع اپارٹمنٹ جائیں گے تو آپ کو لگے کہ آپ نے کسی بہترین پرنٹ کی گئی ميگزین کے کسی منظر میں قدم رکھا ہے جہاں کھلی فضاء میں قدیم فرنیچر اور بچوں کے کھلونے پر خوبصورت روشنی پڑ رہی ہے۔
اس وقت تک آپ کو یہ اندازہ نہیں ہوتا کہ اس شاندار گھر کے کچھ میٹر نیچے ایک ’سانحہ‘ آپ کا منتظر ہے۔
ایال گیور اپنے اپارٹمنٹ کے تہ خانے میں ’آفات‘ کے مناظر بنانے میں مصروف رہتے ہیں۔
وہ تھری ڈی تکنیک کے ذریعے اس طرح کی پینٹنگز بناتے ہیں جو قدرتی آفت کے کسی منظر کی عکاسی کرتی ہیں۔
ایال گیور دن کے کئی گھنٹے اس طرح کے مناظر بنانے میں صرف کرتے ہیں۔ ان میں بس کے حادثے، تیل کے اخراج اور سونامی جیسے مناظر شامل ہیں۔
ایال گیور کہتے ہیں ’میں ایک سیریل کلر کی طرح ہوں، میں اپنے جذبات کو الگ رکھتے ہوئے آفات کو ایک تحقیقی نظریے سے دیکھتا ہوں۔ حالانکہ میں ان آفات کے بارے میں کوئی فیصلہ کن رائے نہیں دیتا ہوں۔‘
گیور کو بچپن سے آرٹ میں دلچسپی ہے اور انٹرنیٹ اور پروگرامنگ میں انہیں جنون کی حد تک شوق ہے۔
ان کا کہنا ہے ’میں اپنے دونوں شوق کو ایک ساتھ لے کر چلنے کے لیے اپنی تکنیک اور خود اپنے طریقۂ کار کو بناتا ہوں‘۔

ایال گیور گھنٹوں کمپوئٹر پر صرف کرتے ہیں
گیور اگر آفات کی طرف مرکوز ہیں تو اس کی وجہ ان کی ذاتی زندگی ہے کیونکہ بعض حادثات نے ان کی زندگی بدل دی ہے۔
پہلا واقعہ اس وقت پیش آیا جب وہ اسرائیلی فوج میں اپنی لازمی فوجی سروس کر رہے تھے۔ پیراٹروپر کے طور پر دوسال کام کرنے کے بعد انہیں ایک شدید چوٹ کے سبب اپنی ملازمت سے ہاتھ دھونا پڑے۔
کئی آپریشن ہونے کے بعد اسرائیلی فوج نے اپنے کمپیوٹر یونٹ میں انہیں نوکری دے دی۔
گیور کہتے ہیں ’فوج کے کمپیوٹر یونٹ میں کام کرتے ہوئے مجھے کمپیوٹر کو سمجھنے کا موقع ملا۔ اس وقت فوج میں تھری ڈی تکنیک کا استعمال ہورہا تھا۔‘
وہ بتاتے ہیں کہ نوے کی دہائی میں جب کیبل ٹی وی مقبول ہورہا تھا تو اس وقت کمپیوٹر گرافکس بنانے والوں کی بہت طلب تھی اور اسی طرح ان کی پہلی کمپنی ’زاپا‘ وجود میں آئی۔
کچھ ہی دن میں ان کی کمپنی اتنی مقبول ہوگئی کہ ان کے صارفین میں آئی بی ایم، ایپل اور نیو کارپ جیسی کمپنیوں کے نام شامل ہوگئے۔
گیور کو دوسرا بڑا دھچکا تب لگا جب ’ڈاٹ کام‘ یعنی ویب سائٹس کی مقبولیت کے سبب انہیں اپنی کمپنی کی فروخت میں زبردست خسارہ اٹھانا پڑا۔
ان کا کہنا ہے کہ تھری ڈی پرنٹنگ نے ان کے شوق یعنی آرٹ اور کام یعنی کمپوٹر پروگرامنگ کو ایک ساتھ ملاکر ان کے لیے ایسی مصوری ممکن کی جو پہلے کبھی ممکن نہیں تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ جس طرح کے تھری ڈی مناظر بناتے ہیں مصوری کے چاہنے والے اس کا مزہ لے سکتے ہیں کیونکہ اس طرح کی آفات کو باریکی سے نہیں دیکھا جا سکتا ہے۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ اصل میں پیش آنے والی کسی قدرتی آفت کو اپنی مصوری میں دوبارہ زندہ کریں گے تو ان کا کہنا تھا کہ ایسا کرنے میں ان کی کوئی دلچسپی نہیں ہے۔





















