پروین شاکر، خوشبوؤں کی شاعرہ

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 25 نومبر 2011 ,‭ 12:39 GMT 17:39 PST

پروین شاکر کی شاعری کا مرکزی نقطہ عورت رہی ہے۔

آپ نے کسی شاعرہ کے بارے میں سنا ہے کہ انہوں نے کوئی تحریری امتحان دیا ہو اور اس امتحان میں ان کے اپنے بارے میں ہی سوال پوچھا گیا ہو؟

جی ہاں، ایسا پاکستان کی ایک مشہور شاعرہ پروین شاکر کے ساتھ ہوا۔ انہوں نے انیس سو بیاسی میں سینٹرل سُپیریئر سروسز یعنی سی ایس ایس کا امتحان دیا تھا۔

نو برسوں تک استاد رہنے کے بعد پروین شاکر سول سروسز میں منتخب ہو گئیں اور انہیں محکمہ کسٹم میں نوکری دی گئی۔

پروین شاکر کی شاعری میں ایک نسل کی نمائندگی ہوتی ہے اور ان کی شاعری کا مرکزی نقطہ عورت رہی ہے۔

فہمیدہ ریاض کہتی ہیں، پروین شاکر کے اشعار میں لوک گیت کی سادگی اور کلاسیکی موسیقی کی نزاکت بھی ہے۔ ان کی نظمیں اور غزلیں بھولے پن اور نفاست کا دل آویز سنگم ہیں۔

انیس سو ستتر میں ان کا پہلا شاعری مجموعہ ’خوشبو‘ شائع ہوا جس کے دیباچے میں انہوں نے لکھا تھا ’جب ہولے سے چلتی ہوئی ہوا نے پھول کو چُوما تھا تو خوشبو پیدا ہوئی تھی۔‘

ان کے اشعار کو غور سے پڑھنے پر احساس ہوتا ہے کہ اس میں سے اکثر آب بیتی ہے۔ زندگی کے مختلف موڑوں کو انہوں نے ایک ربط دینے کی کوشش کی ہے۔

ان کے اشعار میں ایک لڑکی کو بیوی، ماں اور آخر میں ایک عورت تک کے سفر کو صاف دیکھا جا سکتا ہے۔ وہ ایک بیوی کے ساتھ ساتھ ماں بھی تھیں، شاعرہ بھی اور روزی روٹی کمانے کی ذمہ دار بھی۔

شرم نہیں آنی چاہیے

ایک نظم میں پروین شاکر نے اپنے جوان بیٹے سے مخاطب ہوتے ہوئے لکھا کہ انہیں اس بات پر شرم نہیں آنی چاہیے کہ انہیں ایک شاعرہ کے بیٹے کے طور پر معروف ہیں نہ کہ ایک والد کے بیٹے کے طور پر۔ اکیسویں صدی کے بچوں کے شعور پر تبصرہ کرتے ہوئے وہ لکھتی ہے۔

انہوں نے ازدواجی محبت کو جتنے مختلف پہلوؤں سے چھوا اتنا کوئی مرد شاعر اگر چاہے بھی تو نہیں چھوسکتا۔ انہوں نے جنسی تعلقات، حمل، بچوں کی پیدائش، وصال اور طلاق جیسے موضوعات کو چھوا جس پر ان کے ہم عصر مرد شاعروں کی نظر کم ہی پڑی ہے۔

ماں بننے کے تجربے پر تو خواتین شاعروں نے لکھا ہے لیکن باپ بننے کے احساس پر کسی مرد شاعر کی نظر نہیں پڑی ہے۔

ایک نظم میں پروین شاکر نے اپنے جوان بیٹے سے مخاطب ہوتے ہوئے لکھا کہ انہیں اس بات پر شرم نہیں آنی چاہیے کہ آپ ایک شاعرہ کے بیٹے کے طور پر معروف ہیں نہ کہ ایک والد کے بیٹے کے طور پر۔ اکیسویں صدی کے بچوں کے شعور پر تبصرہ کرتے ہوئے وہ لکھتی ہے۔

جگنو کو دن کے وقت پرکھنے کی ضد کریں
بچے ہمارے عہد کے چالاک ہو گئے

شعروں میں ان کی زبان سادہ ہو یا ادبی لیکن ان کی شاعری میں صبر و تحمل کو کافی ترجیح دی گئی ہے۔ ان کے اشعار سے فیض اور فراز کی جھلک ضرور ملتی ہے لیکن انہوں نے ان کی نقل نہیں کی۔

انہوں نے پہلے انگریزی اور پھر بینک مینیجمنٹ میں ایم اے کیا اور اس کے بعد انہوں نے ہارورڈ یونیورسٹی سے پبلک ایڈمنسٹریشن میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔

انہوں نے نصیر علی نامی شخص سے شادی کی لیکن وہ شادی زیادہ عرصے تک نہیں چل پائی۔

کیسے کہہ دوں کہ مجھے چھوڑ دیا ہے اس نے

بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی

پروین شاکر نے شروع میں ’بنی‘ کے نام سے لکھا کرتی تھیں۔ احمد ندیم قاسمی ان کے استاد تھے اور انہیں وہ ’اموجان‘ کہہ کر پکارتی تھیں۔

پروین شاکر اس دنیا میں صرف بیالیس سال تک رہ سکیں۔ چھبیس دسمبر انیس سو چوراسی کو جب وہ اپنی کار میں دفتر جا رہی تھیں تو ایک بس نے انہیں ٹکر مار دی۔ اسلام آباد کی جس سڑک پر ان کا حادثہ ہوا، اس سڑک کو انہیں کا نام دیا گیا ہے۔

چوبیس نومبر کو پروین شاکر کی سالگرہ منائی گئی۔

اسی بارے میں

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔